مضامین ومقالات

رب کی حمد و ثناء کر بھائی، جس نے ایسی گائے بنائی

 

ڈاکٹر سلیم خان

ہندوستان میں آج کل گائے بڑے گل کھلا رہی ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ گائے کے نام پر گئو بھکت بڑے بڑے کمل کھلا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں نتیش کمار کے بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ایک کتے نے گائے کو کاٹا تو حالات کشیدہ ہوگئے ۔ فسادیوں کو یقین تھا کہ یہ کتا ضرور مسلمان ہوگا ورنہ ہماری گئوماتا کو کاٹنے کی جرأت کیسے کرتا؟ اسی کے ساتھ کتے کا مذہب تلاش کرنے کی مہم شروع ہوگئی یعنی اگر کتے کا مالک مسلمان ہے تو وہ مسلمان ہے ۔ اس منطق سے اگر گائے کا مالک مسلمان ہوتو وہ مسلمان نہیں ہوجاتی لیکن کتے کا مالک اسے مسلمان بنا دیتا ۔ مذہب اسلام میں کتا نجس ہے اور ہندو دھرم میں کل بھیرو اور شنی دیوتا کی سواری اور سیوک کتا ہے ۔ ویسے ہندو دھرم میں انسان چھوڑ کر ہر جانور مقدس ہے۔ بکرے کو عام طور پر مسلمان قرار دیا جاتا ہے اسی لیے اس کو ہندو شوق سے کھاتے ہیں ۔ مرغی بھی مسلمان ہی ہوگی اس لیے کہ خوب کھائی جاتی ہے ۔ ان فسطائیوں کے بس میں ہوتا تو سانڈ کو بھی یہ مسلمان بنا دیتے لیکن گائے کے ساتھ خاص تعلق کے سبب وہ بچ گیا ۔

گائے کے نام پر ہونے والے تشدد کا دائرہ اب وسیع ہوگیا ہے ۔ اس کی بنیاد پر ہندو آپس میں بھی لڑنے لگے ہیں۔ پچھلے دنوں سہارنپور میں اسی طرح کی ایک سنسنی خیز واردات رونما ہوئی جس میں اشیش شرما نامی ایک براہمن صحافی کو بھائی سمیت گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ مادھو نگر کے آشیش کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اپنے گھر کے باہر گائے باندھ رکھی تھی۔ اب جہاں گائے وہاں گوبر اس لیے کہ دونوں میں چولی دامن کا سا تھ ہے۔ پڑوس میں رہنے والے مہی پال سنگھ نے گائے پر تو نہیں مگر گوبر پراعتراض کیا اور کہا سنی ہوگئی۔ یوگی جی کے راج میں دبنگ راجپوتوں کا غصہ ناک کی نوک پر رہتا ہے۔ مہی پال سنگھ لال پیلا یعنی دونوں کو ملا دو تونارنگی ہوکر اپنے اپنے جائز بیٹے اور ناجائز بندوق کے ساتھ پڑوس میں پہنچ گیا ۔ وہاں جاکر اس نے اندھا دھند گولی باری کرکے آشیش شرما اور اس بھائی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بیچاری گائے کو پتہ بھی نہیں چلا کہ اس کی ایک نادانستہ حرکت نے اس کے مالک کی جان لے لی۔ کاش کے مودی جی کے سوّچھتا ابھیان میں مویشیوں کو بھی شامل کیا جاتا ۔ ان کے لیے بھی سرکاری خرچ پر بیت الخلاء تعمیر کیے جاتے تو یہ حادثہ رونما نہیں ہوتا اور ایک نوجوان صحافی اپنی جان نہیں گنواتا۔

آشیش شرما کے والد کی موت کے بعد ہ دونوں یتیم بھائی گئو سیوا کرکے اپنا گزارہ کرتے تھے ۔ ان کا گھر اتنا کشادہ نہیں تھا کہ گائے کو اندر باندھا جاسکے اس لیے مجبوراً وہ دروازے کے باہر بندھی رہتی تھی ۔ حادثے والے دن مہی پال سنگھ کے بیٹے سنی سنگھ نے رانا ڈیری کے باہر آشیش سے خوب گالی گلوچ کی لیکن اس وقت کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ قتل غارتگری کی نوبت آ جائے گی ۔ فی الحال محلے والے پولس تھانے کے آگے احتجاج کررہے ہیں کیونکہ قاتل فرار ہیں ۔ اب تو وہ اسی وقت لوٹیں گے جب تک کہ پولس کوئی نئی کہانی گڑھ چکی ہوگی۔ اس سانحہ کو سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی سنجے گرگ نے افسوسناک بتایا مگر کانگریس کے رہنما عمرا ن مسعود نے بی جے پی پر جم کر تنقیدکی۔ انہوں نے روایتی انداز کا الزام لگایا کہ اترپردیش میں قانون کا ڈنڈا ایک خاص فرقہ کے اوپر برستا ہےجبکہ سیاسی تحفظ میں دیگر غنڈے بدمعاش گھر میں گھس کرقتل و غارتگری کرتے ہیں ۔

بھارتیہ جنتا پارٹی گائےکو چونکہ قومی مویشی قرار دینا چاہتی ہےاس لیے وہ کسی ہمدردی کی مستحق نہیں ہے۔ اس پارٹی کے رہنما انتخاب کے وقت گئوماتا کو چارہ کھلاتےہوے اپنی تصاویر چھپواتے ہیں اور الیکشن کے بعد اپنے رائے دہندگان کی طرح گئوماتا کو بھی فراموش کردیتے ہیں ۔ اس معاملے میں بارہ بنکی کےبی جے پی رہنما اور سابق نگر پالیکا چیرمین رنجیت بہادر شریواستو کی کیفیت استثنائی ہے۔فی الحال ان سے نگر پالیکا کی چیرمین شپ چونکہ ان سے چھین کر دھرم پتنی کو تھما دی گئی ہے اس لیے غالباً ان کا گئو موہ بہت بڑھ گیا ہے۔پٹنہ والی بھیڑ کی طرح رنجیت بہادر شریواستو نے بھی یہ دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ گائے مسلم نہیں بلکہ ہندو جانور ہے اور مسلمانوں کا اسے پالنا ‘لوجہاد ’کے مترادف ہے۔ وہ چاہتے ہیں مسلمان صرف بکریاں پالیں اور ساری گئوماتاوں کو مسلمانوں سے چھین لیا جائے کیوں کہ ہندو بہو بیٹی کی طرح ماتا کا مسلمانوں کے گھر میں کیا کام؟ انہیں گئو ماتا کو مسلم طریقہ پر دفنانے پر سخت اعتراض ہے۔ انہوں نے گائے کی لاش کو دفنانے کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو ہندو طور طریقوں سے نذرِ آتش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ گائےکی لاش کو کفن پہنا کر کے بجلی والا شمشان گھاٹ بنواکر اس میں انتم سنسکار کرنا چاہتے ہیں ۔

ایسے میں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں اول تو یہ کہ جو گائے ساری زندگی لباس زیب تن نہیں کرتی اس کو موت کے بعد کفن پہنانا کیا معنیٰ؟ گائے اگر ماتا ہے تو اس کے لیے الگ سے شمشان گھاٹ کیوں درکار ہے؟ ابھی تک تو انسانوں کے لیے بھی تمام شہروں برقی بھٹی نہیں لگائی جاسکی ایسے میں مویشیوں کے لیے یہ اہتمام چہ معنیٰ دارد؟ ممکن ہے یہ گائے کے نام میونسپلٹی کے خزانے سے رقم نکالنے کی ترکیب ہو کیونکہ فی الحال ان کی اہلیہ سربراہ ہے۔ بارہ بنکی میں شریواستو جی جو سپنا دیکھ رہے ہیں اس کو ممبئی میونسپل کارپوریشن نے شرمندۂ تعبیر کرتے ہوئے مردہ جانوروں کو جلانے کے لیے گوونڈی میں کارخانہ لگانے کا اعلان کردیا۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کا یہ اقدام قابل تحسین تو ہے لیکن اس نے گئوماتا کے انتم سنسکار کے لیے گوونڈی کا انتخاب کیا جو مسلمانوں کی گنجان آبادی والا علاقہ ہے ۔ گئو ماتا کے انتم سنسکار میں شرکت کی سہولت کے پیش نظر کسی ہندو اکثریتی علاقہ کا انتخاب کیا جاتا تو بہتر تھا۔

گوونڈی پہلے ہی کچرا ڈمپنگ گراونڈ ہےجس کی فضائی آلوگی سے لوگ نالاں ہیں ۔ گوونڈی کے پڑوس میں دو ریفائنری، ایک کھاد کی فیکٹری، ایک کیمکل پلانٹ اور ایک بہت بڑابجلی گھر کے سبب لوگ گیس چیمبر بھی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں آوارہ کتے بلیوں کی نسبندی کا اسپتال بھی ہے۔ ساری ممبئی سے کتوں کو پکڑ کر وہاں لایا جاتا ہے اور وہ رات بھر بھونک بھونک کر اپنا احتجاج درج کراتے رہتے ہیں ۔اس کے سبب بلدیہ افسران کے کان سنُ ہوگئے ہیں۔شریواستو جیسے پاکھنڈی سیاستدانوں کے برعکس ممبئی کے میونسپل کاونسلر س نیہول شاہ ،رئیس شیخ ،وٹھل لوکرے نے گئو شمشان گھاٹ کےخلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے اور اسے منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیرمین یشونت جادھو نے اس کا نوٹس لیا ہے۔ زندہ اور مردہ مویشیوں کے حوالے سے ماحولیاتی تشویش خوش آئند اور قابلِ تحسین ہے ۔ گوونڈی میں ہر آوارہ کتے کا کسی مسلمان سے تعلق جوڑنا بہت آسان ہے اور اس نے گائے کے انتم سنسکار میں شامل کسی گئو بھکت کو کاٹ لیاتو شریواستو ھیسے لوگ بلا وجہ کا وبال کھڑا کردیں گے اور بعید نہیں کہ مہی پال جیسا کوئی سر پھرا فائرنگ پر اتر آئے۔

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

ایک تبصرہ

  1. سلیم صاحب، تحریر کے مختلف ڈائمنشنس پر مبنی بہترین تحریر۔طنز کا عمدگی سے استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تنقید کی ہے۔قارئین کو دلچسپی پر مبنی معلومات پہنچانے کا شکریہ۔اللہ تعالیٰ علمی بصیرت میں مزید اضافہ کرے اور قلم سے انقلابی کام لے لے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker