مضامین ومقالات

سماجی اصلاحات ناگزیر:لیکن کیسے ؟

 

 

ڈاکٹر محمد منظور عالم

 

اسلام جامع، کامل اور عالمگیر مذہب ہے ۔ اس کے مقاصد میں سر فہرست دنیا سے ظلم کا خاتمہ ،غریبوں کی مدد ، مظلوموں کا تعاون ،سماجی برائیوں کا خاتمہ ، انصاف ،مساوات ،آزادی اور تحفظ کی فراہمی کو یقینی بناناہے ۔اسلام کے ماننے والے مسلمانوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات کو بروئے کار لائیں ۔ اپنے عمل ،کردار اور کیرکٹر سے اسلام کی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کریں ۔اسلام نے جن برائیوں سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے اس کو اپنی زندگی سے نکال دیں ۔ جن چیزوں کو اپنانے کا حکم دیا ہے اس پر عمل کریں ۔ معاشرہ اور سوسائٹی میں بیداری پیدا کریں ، قرآن کریم کے احکامات اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ عام کریں ۔

 

سماجی برائیوں کے خاتمہ اور معاشرتی اصلاح پر اسلام کا شروع سے فوکس رہاہے۔ اسلام کا زور معتدل ،ظلم سے پاک ،انصاف ،مساوات اور آزادی سے معمور معاشرہ کی تشکیل پررہاہے ۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ آمد اسلام سے قبل عرب اور دنیا کے کئی حصوں میں بیٹیوں اور عورتوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔ عرب بیٹیوں کی ولادت پر سوگ مناتے تھے اور اسے دفن کردیتے تھے ۔اسلام نے اس سماجی برائی کا خاتمہ کیا ۔ لڑکیوں کو اللہ کی رحمت قراردیا ۔خواتین کے حق میں قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی اور مردو عورت دونوں کو معاشرہ کا اہم ترین رکن قراردیا ۔یہ واضح کیا کہ معاشرہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتاہے ۔ دونوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں ۔آج اکیسویں صدی میں بھی خواتین کو وہ عزت ،مقام ،مساوات اور حقوق حاصل نہیں ہیں جو اسلام نے انہیں عطا کیاہے ۔

 

اسلام نے جن سماجی برائیوں کے خاتمہ پر زور دیاہے اس میں نسلی برتری اور قبائلی عصبیت سرفہرست ہے ۔ عرب اور دنیا کے بیشتر ممالک میں قبائلی اور خاندانی نظام کا رواج تھا ۔ اتحاد اور اتفاق کا فقدان ہوتاتھا ، قبیلہ اور خاندان کی بنیاد پر ان کے یہاں برتری ہوتی تھی ۔ جو خود کو اعلی قبیلہ اور خاندان سمجھتا تھا وہ دوسرے قبیلہ کے یہاں اپنی اولاد کی شادی نہیں کرتاتھا ۔اسلام نے خاندانی عصبیت اور تفاخر کی سختی سے مذمت کی ۔اسے ختم کیا اور کہاکہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں ۔ اسلام میں کوئی ذات ،قبیلہ اور خطہ نہیں ہے ۔ مسلمانوں کی ذات ،شناخت ،پہچان صرف اور صرف اسلام سے ہے ۔ بطور مسلمان سبھی برابر ہیں ۔ کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ذات ،قبیلہ ،علاقہ ،زبان اور دیگر بنیادی پر تفاخر بند ۔ اب سب برابر ہیں ۔ سبھی کی حیثیت یکساں ہے ۔

 

کسی کی فضیلت عظمت اور احترام کی وجہ صرف اس کا علم اور تقوی ہے ۔ قرآن کریم میں اسی کو اللہ تعالی نے فرمایاہے کہ” اللہ کے نزدیک تم میں سب سے معزز ہے وہ جو زیادہ تقوی والاہے“ ۔ قرآن کریم میں الفظ اللہ تعالی کے بعد سب سے زیادہ تذکرہ علم کا آیاہے ۔ علم فوقیت اور امتیاز کی وجہ ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو محض علم کی بنیاد پر امتیاز حاصل تھا ۔علم شان امتیاز ہے ۔ علم کے ذریعہ قومی ،علاقائی اور ملکی ترقی کار استہ ہموار ہوتاہے ۔ پوری دنیا میں علمی نکات اور علمی مہارت کی وجہ سے نئی ٹیکنالوجی کی ایجاد ہورہی ہے ۔ معاشی استحکام پیدا ہورہاہے ترقی اور کامیابی کے نئے راستے کھل رہے ہیں ۔

 

علم کی برتری ، اس کی اہمیت اور ضرورت شان امتیاز ہونی چاہیے ۔ یہ قابل فخر اور رشک ہونا چاہیے ۔ حصول علم کا زیادہ سے زیادہ جذبہ پیدا ہونا چاہیئے اس میں ہماری کامیابی ،کامرانی اور ترقی کا راز مضمر ہے لیکن معاملہ الٹاہے۔ مسلم سماج ایک مرتبہ پھر نسلی امتیاز اور خاندانی عصبیت جیسی برائیوں کا شکارہوچکاہے ہے ۔کسی کو سید ہونے پر فخر ہے ۔ کوئی شیخ ہونے کا دعوی کرکے دوسروں کو حقیرسمجھتاہے ۔ کہیں پر انصاری اور شیخ کی لڑائی ہے ۔ لڑائی صرف لڑائی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس اختلاف سے دینی ،مذہبی ،سماجی اور سیاسی امور بھی متاثر ہیں۔ سیدوں کی علاحدہ قبرستان ہے ۔ انصاری کی علاحدہ قبرستان ہے ۔ گوجر مسلمانوں کی میت کو شیخ کے قبرستان میں تدفین کی اجازت نہیں ہے ۔کچھ مقامات پر ایسا بھی ہوچکاہے کہ ایک ذات کی قبرستان میں دوسری ذات کے مسلمان کی تدفین کردی گئی تو اسے ناقابل برداشت سمجھاگیا اور مردہ کو قبرستان سے نکال کر پھینک دیاگیا ۔مسجدیں الگ ہیں ۔ انصاری کی مسجدیں الگ ہیں۔ شیخوں کی مسجد یں الگ ہیں ۔سیدالگ جماعت کا اہتمام کرتے ہیں ۔ نماز پڑھانے والے امام کا انتخاب ان کا ذات اور مذہب دیکھ کر کیاجاتاہے ۔ بہت سے گاﺅں اور محلوں میں عید کی نماز دو مرتبہ ہوتی ہے ۔ انصاری براداری کے لوگ الگ نماز ادا کرتے ہیں ۔ شیخ براداری کے لوگ الگ نماز ادا کرتے ہیں ۔ گوجر مسلمانوں کی عید گاہ الگ ہے ۔جاٹ مسلموں کی مسجد اور عیدگاہ میں دوسروں کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے ۔

 

گاﺅں اور پنچایت میں ایک اور بیماری جو بہت تیزی سے سرایت کررہی ہے و ہ دوسروں کو نیچا ،حقیر اور کمتر سمجھنے کی ہے ۔ایک محلہ اور خاندان ہے لیکن وہاں جو امیر ہے وہ اپنے ہی خاندان کے غریب شخص کو حقیر اور کمتر سمجھتاہے ۔ پیسہ اور دولت ہوجانے کے بعد اس کا مزاج آسمان پر پہونچ جاتاہے ۔ وہ خود کو سبھی سے بالاتر اور ممتاز سمجھتاہے ۔ دولت ہوجانے کے بعد یہ مزاج بن جاتاہے کہ اس کے پڑوسی اس سے گھٹیا ہیں ۔ اس کے ساتھ بیٹھنے کے قابل نہیں ہیں ۔ اس لائق نہیں ہیں کہ اس کے ساتھ ان کے گھریلو تعلقات قائم رہیں ۔کچھ دولت مند افراد غریبوں کے ساتھ بیٹھنے میں اپنی توہین تک محسوس کرتے ہیں ۔ان سے سلام کلام کرنے میں اپنی ذلت سمجھتے ہیں ۔ یہ صورت حال گاﺅں اوردیہاتوں میں بہت زیادہ پائے جانے لگی ہے ۔اچھی بات یہ ہے کہ شہروں میں اس طرح کی برائیاں عمومام کم پائی جاتی ہے لیکن دیہاتوں اور گاﺅں میں اس طرح کی بیماری مسلسل بڑھتی جارہی ہے ۔

 

یہ شدید ،خطرناک اور تباہ کن بیماری ہے ۔ اسلام کااہم مقصد ایسی برائیوں کا خاتمہ اور معاشرہ کو مساوات فراہم کرنارہاہے یہیں سے اتحادکی شروعات بھی ہوتی ہے ۔ کسی بھی قوم اور ملک کی ترقی کیلئے اتحاد ناگزیر ہوتاہے۔ مسلمانوں کی فتوحات ، دنیا کے بڑے رقبے پر ان کا غلبہ کئی طاقتور مسلم ایمپائر کا قیام مسلمانوں کے اتحاد کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکاتھا ۔اتحاد کامیابی کی کنجی ہوتی ہے ۔قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اتحاد واتفاق پر قائم رہنے کا مسلمانوں کو حکم دیاہے ۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو ایک جسم دو جان قرار دیاہے کہ اگر ایک کو تکلیف ہوتی ہے تو دوسرا بھی اس کا درد محسوس کرے ۔آج مسلمانوں کے درمیان اتحاکا شدید فقدان ہے اور اس کی سب سے اہم وجہ خاندانی ،لسانی اور علاقائی تفاخر ہیں ۔ مسلکی اختلافات مستقل ایک مسئلہ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک ذات اور برادی کے نام پر مسلمانوں کی آپسی تقسیم ہے ۔

 

ذات اور براداری کے نام پر تقسیم کی وباءشادی اور بیاہ میں بھی بہت زیادہ پائی جانے لگی ہے ۔ برہمنوں اور ملک کی دیگر غیر مسلم ذاتوں کی طرح مسلمان بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں ۔ سید او رشیخ انصاری کے یہاں شادی کرنا حرام سے بھی زیادہ قبیح سمجھنے لگے ہیں ۔ انصاری نداف،راعین اور جاٹوں کے یہاں شادی کرنا اپنی ذلت سمجھنے لگے ہیں ۔ امیری اور غریبی بھی شاد ی میں بنیاد بن گئی ہے ۔ جہیز ، تلک ، بارات اور شادی کی دیگر فضول خرچیوں اور برائیوں کے ساتھ سب سے بڑی برائی کفو کو بنیاد بنانا اور کسی کو نیچی ذات سمجھ کر اس کے یہاں شادی نہ کرناہے ۔ یہ طریقہ ہندوستان کے غیر مسلموں میں رائج ہے جہاں برہمن اپنی بیٹی دلتوں کے یہاں دینا گناہ کبیرہ سے بھی بدتر سمجھتے ہیں اور اگر کوئی ایسی جرات کرتاہے تو اسے سخت سزا دی جاتی ہے ۔ آج بھی دسیوں ایسی خبریں آتی ہے کہ دلت کو برہمن لڑکی سے شادی کرنے کی بنیاد پر قتل کردیاگیا ۔ جہیز نہ ملنے کی وجہ سے سسرال والوں نے زندہ جلادیا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب ایسی خبریں مسلم معاشرہ کے بارے میں بھی آنے لگی ہیں ۔

 

ذات ،خطہ ،علاقہ ، خاندان اور دولت کی بنیاد پر مسلم سماج میں پائے جانے والی یہ تفریق ہمارے زوال اور پسماندگی کی بنیادی وجوہات میں سے ہیں ۔ اسی سے ہمارے اتحاد واتفاق کو بھی نقصان پہونچاہے اور سب سے اہم یہ ہے کہ یہ برائی ہماری خود کی پیدا کردہ ہے ۔ کسی کی سازش کا نتیجہ نہیں ہے ۔ ہم نے خود اپنے سماج میں یہ سماجی برائیاں پیدا کی ہے ۔

 

مذکورہ سماجی برائیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے ۔اس کیلئے علماءکرام ،دانشوران اور قوم کے رہنما کو آگے بڑھنے اور میدان میں آکر تحریک چلانے کی ضرروت ہے ۔اس سماجی برائی کے خاتمہ کیلئے زمینی سطح پر محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔ کوئی بڑا جلاس کرنا،لاکھوں کی بھیڑ جمع کرنا ،کتاب لکھنا ، مضامین شائع کرنا اس مسئلے کا حقیقی حل نہیں ہے اس مرض کے خاتمہ کیلئے سب موثر علاج یہ ہوگا کہ ہم گاﺅں اورمحلہ کی سطح پر اس بارے میں کام کریں ۔ محلہ کی مسجدوں اور گاﺅں کی جامع مسجد میں ایسی برائیوں کے خاتمہ کے خلاف مہم چلائیں ۔ کورنر میٹنگ کریں۔ دونوں طرف کے ایک ایک فرد سے ملاقات کا اہتمام کرکے اس کی تباہی سے آگاہ کریں ۔ مسلم نوجوانوں کو اس مہم کا زیادہ سے زیادہ حصہ بنائیں ۔ مسلمانوں کے مختلف ذات اور قبائل کے لوگوں کو اکٹھا کرکے انہیں اسلام کی حقیقی تعلیمات سے آشنا کریں ۔ انہیں بتائیں کہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ایک مسلمان کی پہچان اور شناخت صرف مذہب سے ہوتی ہے ۔ ذات اور خاندان لغو،بے بنیاد اور غیر اسلامی شعار ہے ۔ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے قوم ،سماج اور گاﺅں کے سرکردہ افراد خود اپنے یہاں سے آغاز کریں ۔اپنے گھر سے اس کی شروعات کریں ۔

 

حسب ونسب ، خاندان اور علاقہ کی جگہ علم، تقوی اور اس سے حاصل ہونے والی معیشت کوشان امتیاز بنائیں ۔ علمی دنیا میں ایک دوسرے پر سبقت کرنے ،آگے بڑھنے اور زیادہ سے مہارت حاصل کرنے کا مزاج بنائیں ۔ خواہ دینی علم ہو یاد نیاوی علم ہو بس شرط ہے کہ وہ علم نافع ہو ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں علم نافع حاصل کرنے کی ہی تلقین کی ہے ۔ قرآن کریم کی پہلی سورت میں علم حاصل کرنے کا حکم ہواہے ۔ اللہ تعالی نے جگہ جگہ اہل علم کی فضیلت بیان کی ہے اور انہیں فوقیت دی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کے فرو غ اور اس کے حصول کو ہمیشہ ترجیح دیا ہے۔ صحابہ کرام ،تابعین اور اسلاف واکابرین نے ہمیشہ علم کو وجہ ترجیح بنایا ہے اور اسے حاصل کرنے کی امت کو ترغیب دی ہے ۔ یہ تغیرات اور تبدیلی کا عہد ہے علم، سائنس اور معلومات کی بنیاد پر دنیا میں معاشی انقلاب برپا ہورہا ہے، ملکوں اور قوموں کی اقتصادی صورتحال بدل رہی ہے.

 

اس لئے آج ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم علم اور تقوی کو وجہ امتیاز بنائیں ۔ اسے اپنی آن بان اور شان بنائیں ۔ کیوں کہ علم ایسی دولت ہے جس پر کبھی کسی کی اجارہ داری نہیں رہتی ہے۔ کسی کا دائمی قبضہ نہیں ر ہتاہے اور معیشت کی بہتری کا سبب بن رہا ہے ۔ جومحنت کرتاہے،جدوجہد کرتاہے وہ علمی دنیا میں ممتاز مقام حاصل کرتاہے ۔ عزت ،عظمت اور اعلی مقام پر فائز ہوتا ہے ۔ اپنی آن بان اور شان قائم کرتاہے ۔ اس لئے ہم نسلی امتیاز سے گریز کریں ۔ حصول علم پر توجہ دیں ۔ معاشرہ میں فروغ علم اور تقوی کی تحریک چلائیں اور اسی علم، تقوی اور اس سے حاصل ہونے والی معیشت کو وجہ فخر وامتیاز بنائیں ۔(جاری)

 

(مضمون نگار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ہیں )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker