مسلم دنیا

اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، ہماری فوج تیار ہے، پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا کشمیر آور پروگرام سے پاکستانی قوم کو خطاب

اسلام آباد۔ ۳۰؍اگست: (بی بی سی اردو) جموں و کشمیر میں بسنے والوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستان بھر میں جمعہ کے دن ‘کشمیر آور منایا گیا۔ اس موقع پر پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے تمام صوبائی دارالحکومتوں، چھوٹے بڑے شہروں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں جلسے اور جلوس منعقد کیے گئے۔ پاکستان میں دن کے 11 بجے ہی صحافی، سرکاری ملازمین، مختلف سکولوں کے طلبہ وطالبات اور سیاسی رہنماؤں کو وزیراعظم ہاؤس میں داخلے کی اجازت ملی تو باری باری سب نے اندر داخل ہونا شروع کر دیا۔وزیراعظم ہاؤس کے باہر میڈیا کے لیے جگہ مخصوص کی گئی تھی۔ اندر داخل ہوتے ہی وزیراعظم ہاؤس کی بلند و بلا عمارت پر نظر پڑی تو اس پر ایک جانب پاکستان کا جھنڈا جبکہ دوسری جانب کشمیر کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔ سکیورٹی اہلکار وزیراعظم ہاؤس میں آنے والے لوگوں کو منظم کرنے میں مصروف تھے۔چند لمحوں بعد کے ایک اسٹاف ممبر کی طرف سے تمام اہلکاروں اور سٹاف میں پاکستان اور کشمیر کے جھنڈوں والے بیجز تقسیم کیے گئے۔ اسکولوں کی طلبات اور طلبہ پاکستان اور کشمیر کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوئے تو انھیں بھی پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے دیے گئے۔طلبہ اور طلبات نے کشیمر کے حق میں لکھے ہوئے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان 12 بجنے سے پہلے اپنے دفتر سے باہر آگئے۔ تقریب میں شرکت کے لیے سیاسی رہنماؤں سمیت پارلیمنٹیرینز بھی وزیر اعظم کے ہمراہ موجود تھے۔۱۱‘ستاون پر کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لیے سائرن بجایا گیا۔ جس کے فوری بعد پاکستان کا قومی ترانہ چلا دیا گیا۔ پاکستان کا قومی ترانہ ختم ہوتے ہی کشمیر کا ترانہ بجایا گیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں موجود شہریوں نے انڈیا کے خلاف نعرے بازی کی اور پاکستان اور کشمیر کے حق میں نعرے لگائے۔دوسری جانب شہر کے تمام ٹریفک سگنلز کو سرخ کر دیا گیا اور ٹریفک کا نظام بھی رک گیا۔ سرکاری ملازمین کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کام روک کر عمارتوں سے باہر آگئے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’آج سارا پاکستان اپنے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 80 لاکھ کشمیری چار ہفتے سے کرفیو میں بند ہیں۔انہوں نے کہاکہ ’آج کا دن منانے کا مقصد کشمیریوں کو یہ بتانا ہے کہ جب تک ان کو آزادی نہیں ملتی تب تک پاکستانی قوم کشمیریوں کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔‘وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ ’ہندوستان میں آج کی حکومتی جماعت ہٹلر کی نازی پارٹی سے متاثر ہو کر بنی تھی۔ ان کا مقصد بھی یہی تھا کہ یا تو مسلمانوں کو انڈیا سے نکال دیں یا پھر ان کو دوسرے درجے کے شہری کے حیثیت کے طور پر دیکھا جائے۔ جس کی مثال آج ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے ظلم سے صاف ظاہر ہے۔‘عمران خان نے مزید کہا کہ ’مجھے افسوس ہے کہ جب مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو انٹرنیشنل کمیونٹی خاموش رہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں کشمیر کا سفیر بنوں گا اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا میں ہر فورم پر کشمیر کی جنگ لڑوں گا۔‘انھوں نے کہا ’میں آج یہ دنیا کو بتا رہا ہوں کہ انڈیا اور نریندر مودی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کچھ نا کچھ کریں گے اور اگر ایسا ہوا تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ ہماری فوج تیار ہے۔ میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہیں تو اس سے پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker