مضامین ومقالات

موب لنچنگ اور ہمارے مدارس

 

✏ فضیل احمد ناصری

زعفرانی حکومت نے پچھلے پانچ چھ برسوں میں جو نئی اصطلاحات متعارف کرائی ہیں ان میں موب لنچنگ زیادہ رائج ہوئیں۔ اب تک تو یہ ہو رہا تھا کہ مسلمان دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں جاتے۔ برسوں، بلکہ دہائیوں سڑتے۔ خاندان اور مال و متاع سب گنوا دیتے اور جب از کار رفتہ ہو جاتے تو عدالت انہیں *باعزت* بری کر دیتی تھی۔ بد قسمت نوجوانوں کی ایسی فہرست طویل بھی ہے۔ درد ناک بھی اور سوہانِ روح بھی۔ لیکن موجودہ کرسی نشینوں نے ماورائے عدالت قتل کا اب ایسا نظام پیش کیا کہ گرفتاریوں کا سلسلہ اگرچہ رک گیا، مگر اس دوسری مصیبت نے سر کا درد اور بڑھا دیا:

عجب الجھن میں آیا سینے والا جیب و داماں کا
جو یہ ٹانکا تو وہ ادھڑا، جو وہ ٹانکا تو یہ ادھڑا

موب لنچنگ انگلش لفظ ہے۔ اس کا اردو ترجمہ *ہجومی تشدد* سے کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ ہجومی تشدد نہیں، بلکہ *اجتماعی دہشت گردی* ہے۔ لیکن اس کی سنگینی کو کم کرنے کے لیے فقط *تشدد* سے کام چلا لیا گیا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے جنگل میں مقیم دہشت گرد۔ ہماری سرکاری اصطلاح میں انہیں دہشت گرد نہیں، بلکہ نکسلی کہا جاتا ہے۔

رہے مسلمان، تو وہ آزمائش کے لیے ہی پیدا کیے گئے ہیں۔ کلیم عاجز کا یہ شعر تازہ کر لیجیے:

رقیبوں میں رہے یا دوستوں کے درمیاں پہونچے
کہیں بھی چین سے رہنے نہ پائے ہم، جہاں پہونچے

ہمارے معاشرے میں بگاڑ ہماری سوچ سے آیا۔ ہم یہ سمجھنے لگے کہ ہم امتحان کے لیے نہیں، عیش کے لیے آئے ہیں۔ اسی طرزِ فکر نے آخرت کی جدوجہد سے ہٹا کر ہمیں مٹی گارے میں لگا دیا اور ہم طاؤس و رباب کی زندگی گزارنے لگے۔ یاد رکھیے: کفری نظام طاؤس و رباب اور ایئرکنڈیشن کمروں کے ذریعے نفوذ و رسوخ تو پا سکتا ہے، مگر اسلامی انقلاب میدانی قربانیوں کے بغیر قطعاً ممکن نہیں۔ افسوس کہ ہم اسے ہی بھول گئے۔

موب لنچنگ یا ہجومی دہشت گردی کے شکار ابتداءً عام مسلمان تھے۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت تو وہ ہے جو کفری نظام کی عملاً مؤید ہے۔ انہیں دیکھ کر یقین ہی نہیں آتا کہ یہ مسلمان بھی ہو سکتے ہیں۔ دہشت گردوں نے شناخت کے لیے گوشت خوری کو علامت بنایا اور جو بھی شخص گوشت یا حلال جانور کے ساتھ پایا گیا اسے اپنے تشدد کا نشانہ بنایا۔ جب یہ علامت بھی تقریباً ختم ہو گئی تو نام پوچھ پوچھ کر موت کے گھاٹ اتارنے لگے۔ جب لوگ اس میں بھی محتاط ہوئے تو دہشت گردوں نے اپنا رخ شرعی لباس کی طرف موڑ دیا۔ شرعی لباس میں یا تو علما و حفاظ ہوتے ہیں، یا صحیح المشرب خانقاہوں کے دل دادہ، یا پھر الیاسی تحریک کے ممبران۔ دہشت گردوں نے اب انہیں ہی اپنے راڈار پر لیا اور جہاں اسلامی لباس کا کوئی حامل تنہا پایا گیا، ہجومی بھیڑیوں نے ان کا تکا بوٹی کر ڈالا۔ شرعی لباس پہننا اس زمانے کا جہادِ عظیم ہے۔

علما و حفاظ کی اب آئے دن لنچنگ ہو رہی ہے۔ درجنوں واقعات اس طرح کے پیش آ گئے۔ قاری اویس شہید کے ساتھ پیش آمدہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔ ایسے میں ایک بڑا مسئلہ علما اور طلبہ کے سفر کا کھڑا ہو گیا ہے ۔

دعوتی مقاصد کے پیشِ نظر ہمارے علما سفر کرتے رہتے ہیں۔ رمضان میں حفاظ اور سفرا کا سفر جگ ظاہر ہے۔ طلبہ کا سفر اگرچہ زیادہ نہیں ہوتا، مگر ان کا آنا جانا بھی لگا ہی رہتا ہے۔ عید الاضحیٰ، ششماہی اور سالانہ تعطیلات میں سفر تو انتہائی ضروری ہے۔ اساتذہ اور طلبہ عموماً دور کے ہوتے ہیں، موقع پاتے ہی نکل پڑنا چاہتے ہیں۔

مگر اب ملک کے حالات خراب ہیں، بلکہ بری طرح خراب۔ میں نے اپنی اب تک کی عمر میں ایسی وحشت ناکیاں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ ایسے نازک وقت میں مدارس کی ذمے داری اور بڑھ جاتی ہے، کیوں کہ ان مدارس میں دور دراز کے طلبہ داخل ہوتے ہیں اور چھٹیوں کے موقع پر وطن جانے کی خواہش مند بھی رہتے ہیں۔ اب تک تو یہی ہوتا رہا کہ سارے مدارس اپنے اپنے حساب سے چھٹی کے ایام اور تاریخیں طے کرتے رہے اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں تھی۔ مگر ملک کی فضا اب اس حد تک زہر آلود ہو چکی ہے کہ آپ کو انداز بدلنے کے سوا اب کوئی چارۂ کار ہی نہیں۔ بہتر، بلکہ ضروری ہے کہ مدارسِ اسلامیہ اپنی تعطیلات ایک کیلنڈر کے مطابق کریں۔ مثلاً دیوبند، سہارن پور، مظفر نگر، میرٹھ اور دہلی کے مدارس آپس میں طے کر لیں کہ چھٹی کب دی جائے۔ اسی طرح ہندوستان کے ہر علاقے کے مدارس اس سلسلے میں متحدہ پلیٹ فارم اختیار کریں، یقیناً ایسے طلبہ کی بڑی تعداد ہوگی جن کا آخری اسٹیشن ایک ہی ہوگا، مگر سارے طلبہ ایک ہی گاؤں کے نہیں ہوتے۔ اسٹیشن سے انہیں اکیلا بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر ادارہ، خواہ وہ دیوبند کا دارالعلوم ہو یا دارالعلوم وقف، یا کوئی اور۔ یہ بھی اس سلسلے میں متحدہ کیلنڈر بنائے اور امتحان چاہے جب رکھے، مگر چھٹیوں کی ابتدائی اور اختتامی تاریخ سارے ادارے میں ایک ہی ہو۔

یہ حدیث تو آپ کی نظر سے گزری ہی ہوگی: *الواحد شیطان والاثنان شیطانان و الثلاثۃ جماعۃ* یعنی ایک مسافر ایک شیطان ہے اور دو مسافر دو شیطان، جب کہ تین مسافر جماعت ہے۔ جس وقت میں نے یہ حدیث پہلے پہل پڑھی تھی تو اس کا مطلب اس طرح سمجھایا گیا تھا کہ اگر آدمی تنہا سفر کر رہا ہو اور بیمار پڑ جائے تو اسے کون پوچھے گا؟ اگر ساتھی مسافر دو ہوں اور ان میں ایک بیمار پڑ جائے تو یقیناً اس کا ساتھی اس کا تیمار دار بنے گا، مگر دواؤں کا انتظام کون کرے گا؟ ہاں! ساتھی مسافر تین ہوں اور صورت ایسی لاحق ہو جائے تو اس وقت ایک ساتھی مریض کا تیمار دار بنے گا اور دوسرا دواؤں کے لیے دوڑ بھاگ کر لے گا، اسی لیے پیغمبرﷺ نے تین مسافروں کو جماعت کہا ہے اور جماعت پر اللہ کی مدد ہوتی ہے۔

مگر حالاتِ حاضرہ اور موب لنچنگ کی واردات نے اس حدیث کا ایک مطلب یہ بھی سمجھا دیا کہ جب مسافرین تین یا زیادہ کی تعداد میں ہوں تو سب متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کر لیں گے۔ اس حدیث کو ذرا اور تفصیل سے سنیے، حضرت عبداللہ بن عمرو راوی ہیں: *جاء رجل الی النبیﷺ خارجاً من مکۃ فسالہ النبیﷺ: اصحبت من احد؟ قال لا۔ قال النبیﷺ: الواحد شیطان والاثنان شیطانان و الثلاثۃ رکب* ایک شخص مکہ کے اہر سے حضورﷺ کے پاس آیا تو آپ نے دریافت کیا: اکیلے آئے ہو یا کسی کو لے کر؟ تو اس نے جواب دیا: جی اکیلے ہی آیا ہوں ۔ تو آپ نے فرمایا: اکیلا مسافر ایک شیطان ہوتا ہے، اور دو مسافر دو شیطان۔ جماعت تین مسافروں سے بنتی ہے۔

لگے ہاتھوں یہ حدیث بھی سن لیجیے: حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں: *ان النبیﷺ رای انساناً فی سفر، فقال شیطان، ثم رایٰ اثنین، فقال شیطانان، ثم ثلاثۃ، فقال: اناس*، نبیﷺ نے سفر میں ایک بندے کو دیکھا تو فرمایا: یہ ایک شیطان ہے۔ پھر دو مسافروں کو دیکھا تو فرمایا کہ یہ دو شیطان ہیں ۔ پھر تین کو دیکھا تو فرمایا کہ ان کا تعلق انسانوں سے ہے۔

یہ حدیثیں ایک دم صحیح اور مستند ہیں۔ ابو داؤد، مسند احمد، مسندِ حاکم، ترمذی، نسائی اور جامعِ صغیر جیسی کتابوں میں آئی ہیں۔ اتنی کھلی اور واضح احادیث کے بعد اربابِ مدارس پر لازم ہو جاتا ہے کہ متحد ہو کر کوئی ایسا نظام بنائیں کہ ہمارے طلبہ کا سفر محفوظ ہو جائے اور ادارے کا نظام بھی متاثر نہ ہو۔ ہوتا یہ ہے کہ آپ اپنے ادارے میں 6 ذوالحجہ کو چھٹی دے رہے ہیں اور دوسرے بڑے مدارس 4 ہی میں تعطیل کر رہے ہیں تو طلبہ آپ کا حکم توڑ کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہی جائیں گے، چاہے آپ کچھ بھی کر لیں۔ اور اگر اختتامِ تعطیل آپ نے 18 کو رکھی ہے اور بڑے مدارس نے 22 کو، تو طلبہ آپ کے مطابق نہیں، بڑے اداروں کے حساب سے ٹکٹ بنائیں گے اور آپ کے نظام کی دھجیاں اڑا دیں گے۔ تو کیوں نہ ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ آپ کے نظام کا وقار بھی بنا رہے اور طلبہ کا سفر بھی محفوظ ۔ امید ہے کہ اربابِ مدارس پر اس پر ضرور غور کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker