مضامین ومقالات

لالہ تم کب آؤگے؟

 

تحریر : مفتی سید عدنان کاکا خیل

[ افغانوں کی سرفروشی کو اجاگر کرتی ہوئی ایک کہانی _ کوئی پتھر دل ہوگا جو اسے پڑھے اور اپنے آنسوؤں کو ضبط کرسکے _ رضی الاسلام ]

‎یہ گیارہ سال پہلے کا قصہ ہے۔ غیروں کی جنگ کے اٹھتے شعلوں نے جنت نشان وادی سوات کا دامن جھلسا دیا تھا ۔ خاک وخون اور بارود وبو سے تنگ سوات و بونیر کے لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑکر نچلے علاقوں میں پناہ گزین ہونے پر مجبور کر دیے گئے تھے۔ چونکہ ان کو اپنا گھر بار چھوڑنے کے لیے فقط چند منٹوں کی مہلت دی گئی تھی اس لیے یہ لاکھوں افراد بالکل تہی دست، تن کے دو کپڑوں میں گھروں سے نکلے تھے۔ یہ بے سروسامان قافلے شیرگڑھ، مردان، صوابی، چارسدہ اور پشاور وغیرہ میں کھلے آسمان تلے، سڑکوں کے کنارے آکر حیران وپریشان اور بے یارومددگار تھے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے اہلیانِ وطن کو جو مصیبت کی اس گھڑی میں ہم وطنوں کا درد بانٹنے اور ان کو سنبھالا دینے پورے ملک سے جوق درجوق ان علاقوں تک پہنچے۔ ہم بھی ان دنوں شیرگڑھ ( مردان ) کے دارالعلوم کی دیوار سے متصل “ کاکاخیل ریلیف کیمپ“ کے نام سے ایک خیمہ بستی لگا کر متاثرین کو سنبھالنے میں شب وروز مشغول تھے۔ طلبہ کی چھٹیاں کرادی تھیں اور سارے طلبہ ذوق شوق سے متاثرین سوات کی خدمت پوری دلجمعی سے کررہے تھے۔

‎انہیں دنوں کی بات ہے کہ رات کے پچھلے پہر میں خیمہ بستی کی حفاظت پر مامور ساتھیوں کا جائزہ لینے دارالعلوم سے نکلا۔ خیمہ بستی میں قطار اندر قطار لگے خیموں کے درمیان سے گزرتے ہوئے اچانک ایک انتہائی غمگین آواز نے میرے قدم روک لیے۔ کوئی بڑے درد بھرے لہجے میں پشتو زبان میں اشعار پڑھ رہا تھا…. پاک اور معصوم لہجہ بتارہا تھا کہ کوئی چھوٹی سی بچی ہے جو کوئ گیت گا رہی تھی۔ درد میں ڈوبی آواز کے ہر شعر کے آخر میں آتا تھا: ”کلہ بہ رازے؟“ ( تم کب آؤ گے ؟)

‎مجھے دیکھتے ہی خیمہ کے باہر چارپائی پر لیٹا ایک ادھیڑ عمر شخص اُٹھ کر میرے پاس آیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں بولا “ مولوی صاحب ! میری بیٹی گل سانگہ ہے “ ۔رات کو دیر تک خود بھی جاگتی ہے اور ہمیں بھی جگاتی ہے۔

‎فضل شکور نامی اس شخص کا تعلق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کی کسی بستی سے تھا، مگر اس کا خاندان گزشتہ تیس سال سے سوات میں آباد تھا۔

‎میں فضل شکور کے ساتھ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے دو ہی بچے ہیں۔ سترہ اٹھارہ سال کا فضل سبحان اور اس سے کافی چھوٹی گل سانگہ۔ گل سانگہ کی پیدائش پر اس کی ماں اللہ کو پیاری ہوگئی اور یہ ننھی پری اپنی چچی کی گود میں منتقل ہوگئی۔ یہ بچی غیرمعمولی ذہانت اور شعر وشاعری کے لیے غیرمعمولی موزوں طبیعت لے کر پیدا ہوئی تھی۔ سیکڑوں لوک اشعار ( جن کو پشتو میں ٹپے کہتے ہیں) اس کو یاد تھے۔ اللہ کی شان تھی کہ دونوں بہن بھائیوں میں غیرمعمولی محبت تھی۔ بقول فضل شکور اس کا بیٹا اپنی بہن پر جان چھڑکتا تھا۔ اس نے اپنی چچی سے زیادہ اپنی بہن کو خود پالا تھا۔ سارا دن اس کو لیے لیے پھرتا اور اس کی فرمائشیں پوری کرتا ۔ فضل شکور اپنی محنت مزدوری کے سلسلے میں اکثر گھر سے دور ہوتا تھا۔ گل سانگہ اپنے بھائی کو ”لالہ“ کہتی تھی۔ اب جب بھی رات ہوتی تو یہ لالہ کو یاد کرنے بیٹھ جاتی۔ خود بھی روتی اور باپ کو بھی رلاتی۔

‎میں نے پوچھا آخر لالہ کہاں ہے اور اس نے گل سانگہ کو اتنی تکلیف میں کیوں رکھا ہوا ہے؟
‎فضل شکور اپنا منہ میرے کان کے پاس لاکر رازدارانہ لہجے میں بولا: ” ھغہ بَرہ تلے دے“ (وہ اوپر افغانستان گیا ہوا ہے۔)

‎کہنے لگا میرا گھرانہ مجاہدین کا گھرانہ ہے۔ میرے والد نے روسی فوجیوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ خود میں بھی روسیوں کے خلاف بہت سے محاذوں پر لڑا ہوں۔ اپنی ٹانگ میں پڑی راڈ دکھاتے ہوئے فضل شکور کا سر فخر سے بلند اور لہجہ جذبات سے پُر ہو گیا ۔ جب میرا اکلوتا بیٹا جوان ہوا تو میں نے کہا: ”بچے ! جب تیرے ملک پر ایک کافر نے حملہ کیا تو ہم گھر نہیں بیٹھے تھے ، آج تو پچاس ملکوں کے کافر اکٹھے ہوکر تیرے ملک پر حملہ آور ہوئے ہیں تو کیسے سوات کے مرغزاروں اور چشموں میں بے فکروبے غم رہ سکتا ہے؟“

‎لالہ گھر سے کیا نکلا گل سانگہ کی نیند اُڑگئی۔ لالہ لالہ کہتی گھر بھر میں تلاش کرتی۔ والد کہتا تھا ہم اس کو بتانا نہیں چاہتے تھے کہ لالہ کہاں گیا ہے کہ آخر بچی ہے ، ادھر اُدھر کہتی پھرے گی۔ آخر جب گل سانگہ نے بہت حشر اُٹھایا تو باپ نے اتنا بتایا:

‎“ بیٹا! تمہارے گھر تمہارے وطن میں کافر گھس آئے ہیں لالہ ان کو نکالنے گیا ہے۔“ اب یہ روز انتظار کرتی ہے کہ لالہ آج آئے گا اور آج آئے گا۔“

‎فضل شکور کی باتیں سن کر میں بہت دل گرفتہ اور مغموم وہاں سے اُٹھ کر دارالعلوم آگیا۔ اگلا دن راشن تقسیم کرنے کا تھا۔ اسٹور سے راشن تقسیم ہورہا تھا۔ میں دفتر میں کراچی سے آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی اور اسٹور کا نگران پوچھ رہا تھا: ”استادجی! ایک بچی ہے اپنے بڑے بھائی کا حصہ بھی مانگ رہی ہے، دے دوں؟“ میں نے کہا: ”نہیں! اس سے کہو کہ بھائی کو بھیجو۔“ کہنے لگا: ”وہ کہتی ہے کہ میرا بھائی کافروں کو نکالنے گیا ہوا ہے۔ جلد آجائے گا۔“
‎میرے دماغ میں چھپاکا ہوا اور اچانک گل سانگہ کا قصہ یاد آگیا۔ میں نے نگران سے کہا: ”دے دو اس کو بھائی کا حصہ۔“ اور یوں لگا کسی نے چٹکی بھر ریت میری آنکھوں میں ڈال دی ہو۔

‎اس سے اگلے دن مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب نے مجھے کہا کہ کپڑوں کا بڑا اسٹاک جمع ہوگیا ہے، کوشش کریں آج سارے کپڑے تقسیم ہوجائیں۔ چنانچہ کپڑوں کی تقسیم کے لیے متعین ساتھیوں کے ساتھ خود بھی کھڑا ہوگیا۔ ایک ایک کرکے لوگ آرہے تھے اور اپنی ضرورت کے کپڑے لے کر جارہے تھے۔ ایک شوخ سی بچی آئی تو ساتھی نے اس کو اس کی عمر کے مطابق دو جوڑے دے دیے۔ وہ مڑکر جانے کے بجائے بڑے تحکمانہ لہجے میں بولی : ”لالہ برخہ ھم راکہ“ (لالہ کا حصہ بھی دے دو۔)
‎ساتھی نے کہا: ”لالہ کو بھیجو خود لے جائے گا۔“ وہ بولی: ”ھغہ نشتہ خو ڈیر زر بہ راشی“ (وہ یہاں نہیں ہے مگر بہت جلد آجائے گا۔)

‎میرے دل ودماغ میں آندھیاں چلنے لگیں۔ میں سمجھ گیا کہ یہ وہی بھائ کی جدائ کا دکھ جھیلتی گل سانگہ ہے۔ میں نے
‎ساتھی کا ہاتھ دبا کر کہا کہ دو مردانہ جوڑے اس بچی کو دے دو۔

‎جب وہ لالہ کے جوڑے لے کر جانے لگی تو میں نے اس کو
‎آواز دے دی: ”گل سانگے !! “
(پشتو میں یونہی پکارا جاتا ہے۔)
وہ آئی اور اپنی ذہانت سے بھرپور آنکھیں گاڑ کر پوچھنے لگی:

‎“زما نوم تاتہ چا خولے دے ؟ “
(میرا نام تم کو کس نے بتایا ہے؟)

‎مجھے کوئی جواب نہ سوجھا تو میں نے بے اختیار کہہ دیا : ” لالہ نے ”

‎” اچھا سا !!! تم لالہ کو جانتے ہو ؟؟؟ دوست ہے تمہارا ؟؟ ” اس کی آنکھوں میں دنیا جہاں کی حیرت سمٹ آئی

‎میرے پاس اقرار کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔
اب وہ بڑے اشتیاق سے بولی :
‎“ ٹیلی پُن کوی تاتہ ”
(تمہیں فون کرتا ہے لالہ؟)
میں نے بے چارگی سے پھر اثبات میں سر ہلادیا۔

‎”سہ وئی کلہ بہ رازی ؟ “
(کیا کہتا ہے کب آئے گا؟)

‎میں نے کہا : ”ڈیر زر“ (بہت جلد)

‎یہ سن کر اس کی چمکدار آنکھوں کی چمک میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ۔ اپنے ہاتھ میں موجود مردانہ جوڑوں کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگی: ”زکہ خو دا سامان ورتہ جمع کوم“ (جبھی تو اس کے لیے یہ سامان جمع کررہی ہوں۔)

‎اس دن شام کو میں پھر خیمہ بستی گیا تو فضل شکور اپنے خیمے کے باہر کھڑا نظر آیا۔ کہنے لگا: ”آئیں! آپ کو ایک چیز دکھاﺅں۔“ خیمے کا پردہ اُٹھایا تو ایک کونے میں مردانہ جوڑے، صابن ، تولیہ ، مردانہ چپل وغیرہ بڑے سلیقے سے ایک پھلوں کی خالی پیٹی میں رکھے ہوئے تھے ۔ فضل شکور کی آواز بھیگ گئی۔ کہنے لگا: ”یہ لالہ کا سامان ہے جو پگلی گل سانگہ نے جمع کررکھا ہے۔ مجال ہے جو کسی کو ہاتھ لگانے دے ۔ مجھے لگا میرا دم گھٹ جائے گا میں فوراً خیمے سے باہر آگیا۔

‎خیمہ بستی کے سارے افراد گویا ہمارا خاندان بن گیا تھا۔ دو بچیوں کی شادی اسی مہینے سوات میں ہونے تھی مگر اچانک فوجی آپریشن نے سارا پروگرام درہم برہم کردیا تھا۔ اب ان کے ماں باپ پریشان تھے کہ جوان لڑکیوں کو کب تک کھلے آسمان تلے خیموں میں بٹھائیں گے؟ ہم نے دونوں کو خیمہ بستی سے ہی پیا دیس رخصت کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ پورے ملک سے دوستوں نے ان شادیوں میں دل کی گہرائیوں سے حصہ لیا۔ میانوالی سے ڈاکٹر عبداللہ صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ جو خود بھی بہت معروف ڈاکٹر ہیں، نے دلہنوں کے لیے کئی کئی جوڑے اور شادی کا دوسرا سامان بھجوا دیا۔ میں نے گل سانگہ کو بہلانے کے لیے اس میں سے ایک بہت ہی خوبصورت جوڑا اس کے لیے علیحدہ کردیا اور ڈاکٹر صاحب سے اس تصرف کی اجازت لے لی۔ فضل شکور کو بلا کر جوڑا اور دیگر سامان حوالے کیا کہ گل سانگہ کو دے دو شاید کچھ بہل جائے۔ وہ سامان لے کر چلا گیا، مگر تھوڑی دیر بعد وہ گل سانگہ سمیت آتا دکھائی دیا۔ گل سانگہ کے چہرے پر خوشی کا کوئی اثر نہ تھا بلکہ قدرے برہم تیز تیز قدموں سے چلتی آرہی تھی۔

‎”ولے سانگے بچے ؟”
” (کیوں سانگے بچے ؟) میں نے پوچھا۔

‎وہ اپنے اسی تحکمانہ لہجے میں بولی: ” لالہ برخہ ؟“
(لالہ کا حصہ کہاں ہے؟)

‎اپنی کوتاہی پر شدید پشیمانی ہوئی۔ کوئی چیز موجود نہ تھی، اسی وقت بازار بندہ دوڑایا اور لالہ کا حصہ منگوایا ۔ تب جاکر گل سانگہ مطمئن ہوئی۔

‎دن گزرتے گئے ۔ آتے جاتے، پانی لے جاتے ہوئے، کبھی کھانے کی قطار میں، کبھی اسٹور کے آگے صابن لیتے ہوئے اور کبھی چھپن چھپائی کھیلتے ہوئے گل سانگہ نظر آجاتی۔ مجھے دیکھتے ہی ایک ہی سوال کرتی: ”لالہ ٹیلی پُن خو نہ اوکڑے“ (لالہ نے فون تو نہیں کیا؟) میں بھی اپنی طرف سے جو دل میں آتا لالہ کی طرف سے فرضی پیغام رسانی کرتا رہتا کہ لالہ کہہ رہا تھا کہ گل سانگہ سے کہو روٹی خوب کھایا کرے۔ لالہ کہہ رہا تھا کہ سانگہ سے کہو مجھے یاد نہ کیا کرے، ورنہ ناراض ہوجاﺅں گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور ہر پیغام پر گل سانگہ یوں ایمان لاتی گویا اب اس نے دل وجان سے اس پیغام پر عمل کرنا ہے۔

‎آخر خزاں کی رت رخصت ہونے کو آئی۔ سوات کے راستے کھل گئے۔ ایک ایک خیمہ اٹھنا اور سامان ٹرکوں پر لدنا شروع ہوا۔ ایک دن فضل شکور کا خیمہ بھی سمٹ گیا اور اس نے واپسی کی تیاری کرلی۔ ٹرک پر سامان لاد کر اس نے گل سانگہ کو سب سے اوپر بٹھایا ہوا تھا۔ میں بھی انہیں رخصت کرنے آیا تو اوپر سے گل سانگہ کی آواز آئی۔ میں نے دیکھا تو وہ لپٹے ہوئے خیمے پر اونچی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے وہی شوخ جوڑا پہنا ہوا تھا جو خیمہ بستی کی شادیوں میں شرکت کے لیے سلوایا گیا تھا۔ مجھے دیکھ کر اپنے ہاتھ کو موبائل فون کے انداز میں کان کی طرف لے جاکر کہنے لگی:
”لالہ ٹیلی پُن اوکی نو زما سلام ورتہ وایا۔“
(اگر لالہ کا فون آجائے تو میرا سلام کہنا)
‎رخصت کے بول میرے حلق میں پھنس گئے اور آنکھوں میں مرچیں گھلنے لگی۔ آج وہ بڑی خوش لگ رہی تھی اور ٹرک کے اوپر ”کلہ بہ رازے، کلہ بہ رازے“ (تم کب آﺅگے، تم کب آﺅگے؟) والا گیت گارہی تھی۔ ڈبڈباتی آنکھوں سے اس کو رخصت کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ لالہ! تجھے کیاپتا تو نے اپنی ننھی بہن کو کس آزمائش میں ڈال رکھا ہے؟ خدا جانے تو افغانستان کی کس چوٹی پر داد شجاعت دے رہا ہوگا اور یہ ننھی جان کس سولی پر لٹکی ہوئی ہے۔ افغانوں کی ہمت اور بہادری کو سات سلام جو اس صدی میں تیسری مرتبہ سپر پاور کے دانت کھٹے کررہے ہیں۔ پہلے برطانیہ، پھر روس اور اب پورا عالم کفر۔ اللہ اللہ…. اسلام کا معجزہ اور افغانوں کی قوت ایمانی اور جذبہ حریت وآزادی۔

‎کراچی آکر حسبِ معمول پڑھنے پڑھانے کی مشغولیت شروع ہوگئی۔ گزشتہ روز موبائل کی گھنٹی بجی۔ نامعلوم نمبر تھا اور عموماً نامعلوم نمبر نہیں اٹھا پاتا۔ اس دن خدا جانے کیوں کیا دل میں آیا کہ فون وصول کرلیا۔ دوسری طرف فضل شکور تھا۔ کہنے لگا میں فضل شکور ہوں سوات سے۔ کافی ماہ بیت چکے تھے اس لیے فوراً یاد نہیں آیا تو کہنے لگا…. گل سانگہ کا والد ۔۔ حال احوال
پوچھا تو رندھی ہوئی آواز میں بولا: ”مولانا صاحب! گل سانگہ مرگئی“

‎کیا ہوا ؟ کیسے ہوا ؟ اچانک کیسے ؟؟ “
ایسا لگا کسی نے اچانک پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہو۔ کہنے لگا: چند روز قبل اس کے بھائی کی شہادت کی خبر آئی۔ ہلمند میں کفر کی آندھی سے لڑتے ہوئے اس مرد مجاہد نے زندگی کی بازی تو ہاردی ۔۔۔ میں نے بے ساختہ کہا “ جان ہار دی مگر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جیت گیا۔
‎ “ فزتُ بربِ الکعبہ

‎خاندان میں مشورہ ہوا کہ گل سانگہ کو بتا دیا جائے تاکہ وہ انتظار اور پیہم انتظار کی جاں گسل کیفیت سے باہر آجائے ۔ کسی کو کیا پتا تھا کہ دیوانی بھائی کے پیچھے چل دے گی۔ چنانچہ چچا اور چچی نے گل سانگہ کو بٹھایا اور بڑے پیار سے سمجھایا کہ لالہ نے کافروں سے خوب لڑائی کی او بہت سے کافروں کو جہنم رسید کیا مگر بالآخر وہ شہید ہوگیا اور اس سے جنت میں ملاقات ہوگی۔

‎اس دن گل سانگہ اتنا پھوٹ پھوٹ کر اور مچل مچل کر روئی کہ گاؤں بھر کو رلا دیا۔ شاید ہی اس دن گاؤں کے کسی فرد نے فرط غم سے کھانا کھایا ہو۔ ہر کوئی گل سانگہ کی کیفیت کو دیکھ کر آبدیدہ ہوجاتا تھا۔ اسی شام گلہ سانگہ نے ایک عجیب کام کیا…. اٹھی اور لالہ کے لیے جمع کردہ تمام سامان اٹھا لائی اور پھر ایک ایک چیز گھر سے
‎نیچے بہتے دریا میں پھینکے لگی اور ساتھ ساتھ رو رو کر کہتی جاتی تھی :

‎“ لالہ تا دروغ ولے وے؟“
(لالہ تم جھوٹ کیوں بولتے رہے؟ نہیں آنا تھا تو مجھے کیوں جھوٹ کہتے رہے کہ جلد آؤں گا)

‎سارا سامان دریا کی نذر کرکے گل سانگہ گم سم واپس آگئی۔ کھانا پینا بالکل بند کردیا۔ سب گھر والے سو سو جتن کرتے رہے مگر مجال ہے کہ اس نے ایک لقمہ حلق سے نیچے جانے دیا ہو۔ رات کو نہ جانے کیا ہوا کہ گرم بستر سے نکل کر ٹھنڈے یخ برآمدے میں آبیٹھی۔ یخ بستہ ہواؤں اور نقطہ انجماد سے نیچے پارہ میں خدا جانے یہ ننھی روح گھنٹوں کیا کھوجتی رہی؟ اچانک فضل شکور کی آنکھ کھلی تو گل سانگہ بستر پر نہیں تھی۔ وہ پریشان باہر آیا تو اس کو برآمدے میں بیٹھا پایا۔

‎کہتا ہے میں نے پوچھا: ”سانگے بچے ولے؟“ (کیوں بیٹا؟)

‎تو کہنے لگی: ”بابا! لالہ بہ اوس ھِس کلہ نہ رازی؟؟“ (بابا! لالہ اب کبھی نہیں آئے گا؟؟)

‎فضل شکور کا دل کٹ کر رہ گیا۔ کہنے لگا: میں اس کو اٹھا کر اندر لانے لگا تو محسوس ہوا کہ اس کا بدن بخار سے بری طرح تپ رہا تھا۔ تیز بخار کی وجہ سے اس کے جسم سے آگ نکلتی محسوس ہورہی تھی۔ صبح ڈاکٹر کو دکھایا تو پتا چلا اس کو ڈبل نمونیہ ہوگیا تھا۔ ساتھ ہی خون کی الٹیاں بھی شروع ہوگئیں۔ گل سانگہ کی جان بچانے کے لیے فضل شکور نے اپنی چاروں بکریاں اسی دن اونے پونے داموں بیچ دیں۔ سوات کے دیہاتی ہسپتال میں گل سانگہ کی چارپائی سے لگے باپ کو اچانک نیم بے ہوش گل سانگہ کے ہونٹ پھڑپھڑاتے محسوس ہوئے۔ اس نے کان ہونٹوں سے لگائے تو نیند میں گل سانگہ گنگنارہی تھی:

‎”کلہ بہ رازے، کلہ بہ رازے؟“ (تم کب آﺅ گے، تم کب آؤ گے؟)

‎اسی رات دو بجے گل سانگہ اس دنیا سے منہ موڑ کر اپنے بہادر اور سرفروش بھائی کی طرف چل پڑی۔ اب دونوں شاید جنت کے باغوں میں ایک دوسرے کے آگے پیچھے دوڑ رہے ہوں گے۔
‎گل سانگہ مر گئی ۔ سوات کی ایک بوس اور برف پوش پہاڑی چوٹی کے دامن میں گل سانگہ کی قبر بن گئی۔ اس کا والد سمجھ رہا ہے کہ گل سانگہ کو سردی لگ گئی تھی ، مگر یہ کیسی سردی تھی جو ہلمند سے اس کے شہید بھائی کی شہادت کی خبر آنے کے فقط دو دن بعد لگی تھی۔
‎سوات کے اس سرسبز وشاداب قبرستان میں جہاں گل سانگہ کی قبر تازہ تازہ بنی ہے ، شاید میں کبھی نہ جا سکوں ۔۔آخر گل سانگہ کو کوئ کس طرح بتا پاۓ گا کہ وہ اس دنیا سے جاتے وقت لالہ کی جس غلط بیانی پر بلاوجہ ناراض تھی …. وہ وعدہ تو لالہ نے کبھی کیا ہی نہیں تھا ۔۔ لالہ نے تو کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ جلد آجائے گا ۔ یہ بات جس نے مجبوراً بنائی تھی وہ گل سانگہ کے سامنے شرمسار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker