مضامین ومقالات

صحابہ کرام کی عیب جوئی کرنا سلب ایمان کا ذریعہ

 

فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی

مومن کامل کے لئے صحابہ کرام سے محبت شرط لازم ہے،صحابہ کرام کے سلسلہ میں ذرہ برابر بھی دل میں کدورت رکھنا تشکیک دین اور سلب ایمان کاذریعہ ہے،اس کی وجہ ہے کہ سارا کاسارا دین ہمیں صحابہ کرام سے ملا ہے، قرآن ہمیں صحابہ سے ملا، احادیث ہمیں صحابہ کرام سے ملیں، لہٰذا صحابہ کرام کے بارے میں ذرہ برابر بھی اعتماد اٹھا تو قرآن سے بھی ہمارا اعتماد اٹھ جائے گا، صحابہ کرام تو وہ مقدس جماعت ہے جس کے لئے جنت کا اعلان کیاہے، مشاجرات صحابہ یعنی صحابہ کرام کی جو آپس میں جنگیں ہوئی ہیں، اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ ہم اس سلسلہ میں اپنی زبان کو حرکت نہیں دیتے، یہ ان کا آپس کااجتہادی مسئلہ تھا، لہٰذا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں مشاجرات صحابہ پر اپنی زبان کو دراز کرے، اور ان پر لعن وطعن کرے، ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ جوکہ امام مسلم رحمہ اللہ کے شیخ ہیں، انہوں نے لکھا، شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے لمعات التنقیح میں اس قول کونقل بھی کیا، جب تم کسی کودیکھو کہ صحابہ کرام کے بارے میں عیب جوئی کرے، توجان لوایسا شخص زندیق ہے؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں، قرآن حق ہے، اور قرآن وحدیث ہم کو صحابہ کرام کے واسطہ سے ملا، لہٰذا جو صحابہ کرام کی عیب جوئی اور ان میں نقص نکال رہاہے تودرحقیقت وہ قرآن وحدیث کوباطل کرنا چاہتاہے، لہٰذا ایساشخص زندیق ہے، صحابہ کرام کی فضیلت قرآن وحدیث سے ثابت ہے، جس سے انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں،صحابہ کرام کی تنقیص کرنے والوں پر ایک دن وہ بھی آتا ہے جب وہ ایمان کی دولت سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں، اور ظاہر سی بات ہے جب صحابہ کرام میں نعوذباللہ انہیں عیب اور خامیاں نظر آرہی ہیں تو ان کے ذریعہ جوہم تک قرآن و احادیث پہنچی ہیں اس میں بھی ان کوشک ہوگا، شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ نے  تکملہ فتح الملہم شرح مسلم میں صاف لفظوں میں لکھ دیا،مشاجرات صحابہ میں تاریخی روایات کوبنیاد بناکر صحابہ کرام پر لعن وطعن کرنا کسی کے لئے کیونکر جائز ہوگا جبکہ اللہ نے ان کے بارے میں جنت کااعلان کیا، صحابہ کرام کی عدالت میں شک کرنا درحقیقت اصول دین میں شک کرنا ہے، کیونکہ پوراکا پورا دین صحابہ کرام سے ہمیں ملا، لہٰذا تاریخی روایات کوبنیادبناکر صحابہ کرام کی جماعت کو یا کسی صحابی پر جو لعن وطعن کررہاہے،ایسا شخص بددین ہے زندیق ہے، اس کا قرآن پر ہرگز ایمان نہیں ہے؛ ورنہ جن کے بارے میں قرآن نے جنت کی بشارت دی قرآن پر ایمان ہوتا توقرآن کی بات مانتا اور لعن طعن سے باز رہتا، ایسا شخص زندیق ہے، اس لئے صحابہ کرام کی آپسی جولڑائیاں ہوئیں، ان میں اپنی زبان کو بندرکھنا چاہیئے؛ ورنہ ہماری یہ حرکت ایمان کی دولت سے محروم کرسکتی ہے، اللہ سمجھ دے…آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker