مضامین ومقالات

کشمیر سے محبت؛ کشمیریوں سے نفرت اور تعصب کیوں ؟؟؟؟

 

احساس نایاب ( شیموگہ, کرناٹک )

ایڈیٹر گوشہء خواتین بصیرت آن لائن

زمین پر کہیں جنت ہے تو وہ کشمیر ہے کشمیر ہے !

لیکن کیا کوئی ان خوبصورت وادیوں میں دفن خوف و اذیت بھری داستانوں سے واقف ہے ؟
سفید برفیلی پہاڑیوں کے دامن میں چھپے راز , بہتے ہوئے جھرنوں کی کھنک میں سنائی دیتی دل خراش آہیں , چنار کے درختوں کا ماتم, دلکش مناظر میں بکھرا ہوا بےگناہوں کا خون کیا کسی کو نظر نہیں آتا ؟؟؟؟؟

شاید نہیں یا جان بوجھ کر سبھی انجان بنے ہیں کشمیر کے حالات سے واقفیت رکھتے ہوئے بھی کشمیریوں کا تذکرہ کرنے سے گھبرارہے ہیں.
شاید سبھی کو اس بات کا ڈر ہے کہ کشمیریوں کے حق میں اُنہیں انصاف دلانے کے خاطر کسی نے اپنی آواز بلند کی تو مودی حکومت انہیں ملک کا غدار نہ ٹہرادے ……
شاید اسی ڈر سے ہمارے رہنما و دانشوران کشمیر کے حق میں اجتماعی طور پہ بولنے کی بات تو بہت دور کی ہے انفرادی طور پہ بھی اپنی زبان پہ کشمیر کا نام لینے سے کترارہے ہیں .

جبکہ 70 سالوں سے کشمیر میں معصوم کشمیریوں کی نسل کشی جارہی ہے .
ہندوستان ہو یا پاکستان دونوں ملکوں کو کشمیر کی خوبصورت وادیوں وہاں بہتے تازہ پانی کے جھرنوں سے تو مطلب ہے؛ لیکن کشمیریوں کی زندگی و موت سے کسی کو کوئی لینا دینا نہیں. نہ ہی یہ دونوں ممالک کشمیریوں سے کوئی سروکار رکھنا چاہتے ہیں .
تبھی کشمیریوں کا حال آج یتیموں سا ہوچکا ہے اور ہر کوئی کشمیر کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے اُس پہ جبراً قبضہ جمانے کی کوشش میں ہے.
جبکہ ایک طویل عرصہ سے کشمیری خود کو آزاد رکھنے کی جدوجہد میں اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کررہے ہیں .
اور آزادی کی اس لڑائی نے کتابیں اٹھانے کی عمر میں معصوم بچوں کے ہاتھوں میں پتھر اٹھواکر انہیں پتھرباز بنادیا , مستقبل کو لے کر جس عمر میں سہانے خواب دیکھے جاتے ہیں اُس عمر کے نوجوان ملٹینٹس جوائن کررہے ہیں, پردہ نشین نازک صنف سڑکوں پہ احتجاج کررہی ہیں .

کیا کسی نے ان حالات کے پس منظر کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کی ہے ؟ کہ آخر ان کے اندر اس قدر عضہ کیوں ہے ؟ جو پھول سے حسین؛ لیکن مرجھائے ہوئے چہرے خاموش نگاہوں سے اپنا درد اپنی آب بیتی بیان کررہے ہیں. جنہیں چند مفاد پرست, جلاد قسم کے لوگ شدت پسند کہہ کر ان پہ ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ……….

ان تمام سوالات کے جوابات جاننے کے غرض سے کچھ ماہ قبل ہندوستان میں زیر تعلیم چند کشمیری طلبہ سے بات چیت ہوئی اور اس گفتگو سے جو وجوہات سامنے آئے وہ دل دہلادینے والے اور روح کو تڑپادینے والے تھے جس کو جاننے کے بعد کئی کئی راتوں کی نیندیں حرام ہوگئیں اور آج تک ہم یہی سوچنے پہ مجبور ہیں کہ صرف سُن کر یہ حال ہوا تو اللہ بہتر جانتے ہیں کہ اُن بےچارے کشمیریوں پہ کیا گذرتی ہوگی اُن کا کیا حال ہوتا ہوگا ؟؟؟؟

دل تو چاہتا ہے کہ آج ہم وہ سارا درد, تڑپ, اذیتیں کشمیری ماں بہنوں کی سسکیاں قلم بند کردیں؛ لیکن ہم مجبور ہیں. کیونکہ ہمیں بھی آپ سبھی کی طرح ڈر لگتا ہے موت کا ڈر نہیں؛ بلکہ اس بات کا ڈر کہ کہیں ہماری حق بیانی ہمیں ملک کا غدار نہ ٹہرادے .
جبکہ ہمیں اپنا وطن اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے اور اپنے وطن سے ہمیں ایسی ہی محبت ہے جیسی ایک ماں اور اولاد کے درمیان ہوتی ہے اس لئے بچپن سے ہماری بھی چاہت یہی ہے کہ جنت نما وادی کشمیر ہمارے ملک عزیز ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بن جائے.
لیکن ظلم , تشدد اور بیگناہوں کا خون بہاکر نہیں بلکہ پیار, محبت کے ساتھ کشمیری بھائ بہنوں کی رضامندی اُن کی خوشنودی اور پوری عزت و احترام کے ساتھ.
ہم اپنی چاہت کو کسی پہ جبراً نہیں تھوپ سکتے نہ ہی زور زبردستی سے انہیں اذیت پہنچاکر اُن کا دل جیت سکتے ہیں .
ہم تو ہندوستانی ہیں پیار محبت بھائی چارگی والے اندردھنوشی رنگوں میں رنگے ہوئے اس لئے ہماری پہچان صرف اور صرف محبت ہونی چاہئیے تشدد ہرگز نہیں, ہماری بولی میں مٹھاس ہمارے عمل میں انسانیت جھلکنی چاہئیے آدم خوری نہیں ……..

لیکن افسوس ماضی سے لے کر اب تک کشمیر کے جو حقائق سامنے آرہے ہیں وہ بیحد افسوسناک و شرمسار کردینے والے ہیں.

ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر میں ایک گھنٹہ میں ایک معصوم کی جان جاتی ہے یا کوئی نوجوان ملٹینٹس میں شامل ہوتا ہے اور نازک صنف کی عزت تار تار ہوتی ہے آخر ان حالات کے وجوہات کیا ہیں اور اس کے ذمہ دار کون ہیں ؟
“AFSPA جبکہ یہاں پہ
اسپشیل فورس پاور ایکٹ” کو لے کر ہماری ہی آرمی پہ ہیومن رائٹس وائلیشن کے الزام لگائے گئے UN کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ایکٹ نہ ہی انڈین آئین کو مانتی ہے نہ ہی انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کو. اور اس ایکٹ کے کئی ایسے سیکشن ہیں جس کے اندر ایک نان کمیشن افسر بھی ضرورت پڑنے پر آدمیوں کو شوٹ کرنے کی اجازت دے سکتا ہے, بنا وارنٹ کسی کو بھی اریسٹ کر سکتے ہیں اور AFSPA کے سیکشن 6 کے اندر کسی بھی آرمی پرسن پر کوئی قانونی کاروائی تک نہیں ہوسکتی ……… اس طرح کے ایکٹ کے نتائج کتنے خطرناک ہوسکتے ہیں اُس کا اندازہ انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹس سے لگایا جاسکتا ہے جو بتاتا ہے کہ 70 سالوں سے اُس جنت نُما وادی میں جس طرح کی سیاست کی جاتی رہی ہے اُس کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ کبھی حل ہی نہیں ہوپایا برعکس دن بہ دن حالات بد سے بدتر ہوتے گئے, انسانی حقوق پامال ہوئے اور معصوم کشمیریوں پہ تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا جس کی وجہ سے 2016 سے ملٹینٹس میں بھرتی ہونے والے لڑکوں کی تعداد بڑھنے لگی. آرمی کے آفیشیل اپڈیٹ کے مطابق 2013 میں 16 نوجوانوں نے ملٹینٹس جوائن کیا تھا وہیں 2018 میں تعداد 200 ہوگئی

2016 میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق 45 فیصد کشمیری لوگ مینٹلی ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں. جس کی وجہ روزمرہ کی گھریلو پریشانیاں نہیں ہیں بلکہ بےوجہ ہونے والی اموات ہیں .
پچھلے 30 سالوں میں وہاں تقریباً چالیس ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ مرنے والوں کی گنتی اس اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہے. اس
کو کشمیریوں پہ ستم ظریفی کہیں یا اُن کی بدنصیبی کہ مرنے والوں میں آدھے سے زیادہ بےگناہ معصوم عام شہری ہیں اور کشمیر کے زیادہ تر لوگ پیلیٹ گن کی گولی باری اور پتھربازی میں اپنی آنکھیں گنوا چکے ہیں . کشمیر کی روزمرہ کی زندگی پوری طرح سے تباہ و برباد ہوچکی ہے نہ بچوں کی تعلیم مکمل ہوپاتی ہے نہ وہاں کے بچے عام بچوں کی طرح اپنا بچپن ہنس کھیل پاتے ہیں کیونکہ وہاں پہ ملیٹنٹس ہر گھر پہ اپنی نظر جمائے ہوئے اور ہر گھر کے ایک لڑکے کو اپنے ساتھ لے جانے کی کوش کرتے ہیں پھر اُس لڑکے کے گھر والوں کو پولس ہراساں کرتی ہے اور اُس لڑکے کو ملٹینٹس. ایسے میں کشمیریوں کا حال ایک طرف کنواں دوسری طرف کھائی جیسا ہے. جبکہ کشمیر وادی کی 30 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی نوجوان نسل ہے اور افسوس کہ ان نوجوانوں میں 45 فیصد بےروزگار ہیں اور انہین روزگار فراہم کرنے کے لئے آج تک کسی نے کوئی اقدامات نہیں کئے، نہ ہی یہاں کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے اور ان پہ کئے جانے والے مظالم کو روکنے کی کسی نے کوشش کی ………… وادی میں ایک اور پتھر بازی تو دوسری اور پایلیٹ گن کی گولی باری معمول ہے اور اس طرح کے تشدد بھرے ماحول میں پچھلے سال 100 آرمی جوان بھی شہید ہوئے اور بھاجپا کے دورحکومت میں ان نوجوانوں کی جانیں دُگنی تعداد میں جارہی ہیں آخر ان سب کا ذمہ دار کون ہے ؟؟؟؟

آخر یہ خون کی ہولی یہ نرسنگھار کب تک ؟؟؟ آخر سیاست کی قیمت کب تک بےگناہوں کی جانوں سے چکانی ہوگی ؟؟

ایک طرف نوجوانوں کی جانیں داؤ پہ لگی ہیں دوسری طرف پتھر بازی اور پیلیٹ گن کی گولا باری سے معصوم کشمیری اپنی آنکھیں اور جانیں گنوارہے ہیں جن میں سال ڈیڑھ سال کے ننھے بچے بھی شامل ہیں. وہاں کا جمہوری نظام پوری طرح سے درہم برہم ہوچکا ہے باوجود اس کے آج تک کسی نے بھی اُس کو روکنے کی کوشش نہیں کی نہ ہی اس کا کوئی مثبت حل نکالا آخر کیوں ؟؟

سالوں پہلے وہاں کے ہندو راجا ہری سنگھ نے کشمیر کو خودمختار ریاست بنائے رکھنے کے لئے جو معاہدہ کیا تھا اُس کے بنا پہ اُن کا خواب تھا کہ کشمیر کو ہمیشہ ایک خاص اہمیت حاصل ہو جس کے لئے ہندوستانی کانسٹیٹیوشن میں 370 اور 35A کو نافذ کیا گیا جس کے بنا پہ کشمیر و کشمیریوں کو خصوصی ریاست ہونے کا درجہ حاصل تھا

لیکن افسوس 5 اگست 2019 کو مودی راج میں 370 کو منسوخ کرکے کشمیر کی خودمختار حیثیت کو پوری طرح سے ختم کردیا گیا.
اپنے ہی گھر میں آج کشمیری عوام کو قید کیا گیا ہے وہاں کے رہنماء و قائدین کو نظربند رکھا گیا ہے اس سے بڑی جمہوریت کی موت اور کیا ہوسکتی ہے ؟؟؟؟

جہاں ساری دنیا کشمیریوں کی زندگی کے فیصلے کررہی ہے وہیں کشمیریوں سے بولنے کا حق چھین کر گودی میڈیا کے زبانی آل از ویل آل از ویل کا نعرہ لگوایا جارہا ہے جبکہ آج کشمیری نہ کسی سے بات کرسکتے ہیں نہ اپنا دکھ درد بیان کرسکتے ہیں ب؛لکہ وہ کہاں ہیں کیسے ہیں کس حال میں ہیں زندہ بھی ہیں یا مرچکے ہیں کسی کو کوئی خبر نہیں؛ کیونکہ کئی دنوں سے وہاں پہ کمیونکیشن کے تمام ذرائع بند کردئے گئے ہیں انٹرنیٹ سے لے کر موبائل میڈیا سب پہ پابندی لگائی گئی ہے .

ایسے میں ایک رپورٹ کے مطابق یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد سے محض 8 دنوں میں 4 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور افسوس یہاں پہ ہماری گودی میڈیا مودی کے اشاروں پہ ناچ رہی ہے 125 کروڑ ہندوستانیوں کو جاگتی آنکھوں خواب دکھانے کی کوشش کررہی ہے ایک طرح سے حقائق کو چھپانے کے لئے چاروں اور طلسمی جال بچھایا ہوا ہے .

لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ سچ کو ہزار پرتوں میں چھپانے کی کوشش کرلیں وہ ایک دن سامنے آکر ہی رہتا ہے بالکل اسی طرح اس طلسمی جال کو بھی توڑنے کی کوشش کی گئی ہے.
کشمیر ہی کی ایک بیباک بہادر نڈر بیٹی شہلارشید نے ٹویٹ کرتے ہوئے ساری دنیا کو کشمیر کے حالات سے روشناس کروانے کی جرات کی ہے .
دی وائیر اردو کی رپورٹ کے مطابق بروز اتوار جے این یو کی سابق طلبہ لیڈر و جموں و کشمیر پیپلس موومنٹ پارٹی کی رہنما شہلارشید نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کشمیر کے موجودہ حالات کو لے کر جو خلاصہ کیا ہے وہ دل دہلادینے والا ہے کہ کیسے کشمیر میں عوام کے اوپر ظلم و ستم بربریت کی تمام حدیں پار کی جارہی ہیں.

شہلا نے اپنے ٹوئیٹ میں ایک جگہ یہ بھی کہا ہے کہ کچھ علاقوں میں خود سیکورٹی اہلکار گھروں میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کررہے ہیں, لڑکوں کو اٹھارہے ہیں اور جان بوجھ کر گھروں کا راشن برباد کررہے ہیں. انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ شوپیاں میں چار لوگوں کو فوج کے کیمپ میں بلایا گیا اور پوچھ تاچھ کے نام پر ان کو اذیت دی گئی . شہلا نے کہا کہ ان لوگوں کے پاس ایک مائک رکھا گیا تاکہ ان کی چیخ پورا علاقہ سُنے اور ڈر جائے. اس سے پورے علاقے میں خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ………

اس کے علاوہ حال ہی میں آئی “بی بی سی اردو” کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ دنوں ریاست کی خود مختاری ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کے بعد کشمیریوں نے سکیورٹی فورسز پر مارپیٹ اور تشدد کے الزامات عائد کیے ہیں. کئی دیہاتیوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انھیں لاٹھیوں اور بھاری تاروں سے مارا گیا اور بجلی کے جھٹکے دیے گئے. ہمیں کئی دیہاتیوں نے اپنے زخم بھی دکھائے ہیں.
خطے میں ہزاروں اضافی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق سیاسی رہنماؤں, کاروباری شخصیات اور کارکنان سمیت تقریباً 3000 افراد کو زیرِ حراست رکھا گیا ہے. کئی افراد کو ریاست کے باہر موجود جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے .
میں نے کشمیر کے جنوبی اضلاع کے کوئی آدھ درجن دیہاتوں کا دورہ کیا. یہ وہ علاقے ہیں جو گزشتہ کچھ برسوں سےہند مخالف عسکریت پسندی کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں. میں نے ان تمام دیہاتوں میں کئی لوگوں سے رات گئے چھاپوں, مارپیٹ, اور تشدد کی ملتی جلتی کہانیاں سنی ہیں. ڈاکٹرز اور محکمہ صحت کے حکام صحافیوں سے کسی بھی مریض کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے, چاہے انھیں کوئی بھی بیماری ہو. لیکن دیہی علاقوں میں رہنے والوں نے مجھے اپنے زخم دکھائے اور ان کا الزام سکیورٹی فورسز پر لگایا ہے. دفعہ 370 کے خاتمے کے چند گھنٹوں بعد ہی فوج گھر گھر گئی دو بھائیوں کا الزام تھا کہ انھیں جگایا گیا اور باہر ایک علاقے میں لے جایا گیا جہاں ان کے گاؤں کے تقریباً ایک درجن دیگر مرد بھی جمع تھے. ہم جس سے بھی ملے ان کی طرح یہ لوگ بھی اپنی شناخت ظاہر ہونے پر سنگین نتائج کے خوف کا شکار تھے ان میں سے ایک نے بتایا انھوں نے ہمیں مارا, ہم ان سے پوچھتے رہے ہم نے کیا کیا ہے؟ آپ گاؤں والوں سے پوچھ لیں اگر ہم نے کچھ غلط کیا ہے؟ مگر وہ کچھ بھی سننا نہیں چاہتے تھے اور انھوں نے کچھ بھی نہیں کہا, وہ بس ہمیں مارتے رہے. ‘’انھوں نے میرے جسم کے ہر حصے پر مارا پیٹا. انھوں نے ہمیں لاتیں ماریں, ڈنڈوں سے مارا, بجلی کے جھٹکے دیے, تاروں سے پیٹا. انھوں نے ہمیں ٹانگوں کی پچھلی جانب مارا. جب ہم بے ہوش ہو گئے تو انھوں نے ہمیں ہوش میں لانے کے لیے بجلی کے جھٹکے دیے. جب انھوں نے ہمیں ڈنڈوں سے مارا اور ہم چیخے تو انھوں نے ہمارے منہ مٹی سے بھر دیے, ہم نے انھیں بتایا کہ ہم بے قصور ہیں. ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ یہ کیوں کر رہے تھے؟ مگر انھوں نے ہماری ایک نہ سنی. میں نے ان سے کہا کہ ہم پر تشدد نہ کریں, بس ہمیں گولی مار دیں. میں خدا سے موت کی دعا کر رہا تھا کیونکہ یہ تشدد ناقابلِ برداشت تھا. ایک اور نوجوان دیہاتی نے کہا کہ سکیورٹی اہلکار ان سے کہتے رہے پتھراؤ کرنے والوں کے نام بتاؤ . ان کا اشارہ  عموماً ان  نوجوان اور نوعمر لڑکوں کی جانب تھا جو گذشتہ ایک دہائی سے وادی کشمیر میں سویلین مظاہروں کا چہرہ بن چکے ہیں . انھوں نے کہا کہ انھوں نے سپاہیوں سے کہا بھی کہ وہ کسی کو نہیں جانتے, جس پر انھیں عینک, کپڑے اور جوتے اتارنے کے لیے کہا گیا. جب میں نے کپڑے اتارے تو انھوں نے تقریباً دو گھنٹے تک مجھے بے رحمی سے ڈنڈوں اور سلاخوں کے ساتھ پیٹا. جب میں بے ہوش ہو گیا تو انھوں نے مجھے ہوش میں لانے کے لیے بجلی کے جھٹکے دیے. انھوں نے کہا اگر انھوں نے میرے ساتھ یہ دوبارہ کیا تو میں کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہوں. میں بندوق اٹھاؤں گا. میں یہ روز روز برداشت نہیں کر سکتا. ان نوجوان نے مزید بتایا کہ سپاہیوں نے گاؤں میں سب کو خبردار کرنے کے لیے کہا کہ اگر کسی اور نے بھی فورسز کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی تو انھیں ایسے ہی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا………….

ایسے میں ہر عام و خواص انسان یہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے کہ جب محافظ, رکشک کہلانے والے خود بھکشک جلاد بن جائیں تو ان حالات میں وہاں کے بچے پتھر نہیں اٹھائینگے تو کیا پھول برسائینگے ؟؟؟؟ خواتین کی عصمت پامال ہوتی رہے گی تو وہاں کی خواتین سڑکوں پہ نہیں آئینگی تو کیا آرتی اُتارینگی ؟؟؟؟
ظلم و جبر کی بھی انتہا ہوتی ہے لیکن یہاں تو اس کی داستانیں طویل تر  ہیں زندگی خود موت مانگ رہی ہے اور انسان بےبس لاچار اس کو مجبوراً کھینچتا جارہا ہے ……….. جنت نما وادی خوف و دہشت کی نگری بن  چکی ہے.

یاد رہے کسی کو جبراً قید کر کے  اُس پہ تشدد کرکے اپنا نہیں بنایا جاسکتا
جیسے ایک پرندہ کو سونے کے پنجرے میں قید کرکے محبت کرنے پر بھی وہ آسمان میں اپنے پنکھ پھیلا کر اڑان بھرنے کا خواب دیکھنا نہیں چھوڑ سکتا بلکہ اور تیزی سے اپنے پنکھوں کو پھڑ پھراتے ہوئے آزاد ہونے کی جدوجہد کرتا ہے تو ذرا سوچیں عقل و احساس رکھنے والے کشمیری کیسے قید کی پرتشدد زندگی قبول کرینگے , کیسے اپنی نظروں کے آگے اپنوں کو تڑپتے بلکتے ہوئے مرتے دیکھ سکتے ہیں. کسی نہ کسی دن تو صبر جواب دے گا . آج کرفیو لگے 1 ماہ ہونے آرہا ہے نہ کشمیری باہر نکل سکتے ہیں نہ خرید و فروخت کرسکتے ہیں ایسے میں اُن کے گھر کے چولہے کیسے جلتے ہونگے, سننے میں یہاں تک آیا ہے کہ معصوم بچے دودھ کے لئے تڑپ رہے ہیں, بھوک کی شدت سے لوگوں کا برا حال ہے آخر اس طرح کی اذیت دے کر وہاں کونسا کارنامہ انجام دیا جارہا ہے ؟؟؟

اے ظالم حکمرانو! اقتدار کے نشے میں چور ہوکر اندھادھن ظلم تم کرو اور سمجھو کہ ساری دنیا اندھی ہوگئ ہے تو یہ تمہاری بیوقوفی ہے کیونکہ آج بھلے میڈیا کی آنکھوں پہ مودی کے نام کی پٹی باندھی گئی ہے تاکہ حقیقت کو جھٹلایا جاسکے لیکن قدرت سب کچھ دیکھ رہی ہے  بہت جلد  ناانصافی اور ظلم و جبر پر پکڑ کرے گی، اس وقت اس کی پکڑ سے کوئی بچ نہیں پائے گا، قدرت کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے ………؛

اس لئے ہوش میں آؤ
اگر واقعی میں کشمیر سے محبت ہے  اور کشمیر کو حاصل کرنے کی چاہت ہے تو پہلے ہمیں پیار محبت سے کشمیریوں کا دل جیتنا ہوگا انہیں اپنا بنانا ہوگا, انہیں اس بات کا یقین دلانا ہوگا کہ وہ ہمارے اپنے ہیں اور ہندوستان کا حصہ بن کر وہ ہمیشہ محفوظ رہینگے اُن کی نسلوں کو مستقل میں تعلیم ,روزگار سے لے کر ہر طرح کی سہولیات دی جائیں گی انہیں ہر طرح کے حقوق دئے جائینگے …….

نہ کہ کرفیو لگاکر, خوبصورت وادی کو چھاؤنی بناکر, نوجوانوں کو گرفتار اور گھر والوں کو پریشان کرکے, اپنے نیتاؤں کے زبانی وہاں پہ پلاٹس خریدنے وہاں کی لڑکیوں سے شادیاں رچانے کی بےتکی اور واہیات بیان بازیاں کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا؛ بلکہ انسانی حقوق کو پامال کرینگے تو قیامت تک کشمیریوں کا دل نہیں جیت سکتے نہ ہی کشمیر کو حاصل کرسکتے ہیں؛ کیونکہ کشمیر کی پہچان وہاں بسے کشمیریوں سے ہے . اس لئے کشمیر حاصل کرنا ہے تو پہلے کشمیریوں کو دل سے اپنا بنائیں پھر انشاءاللہ کشمیریوں کے ساتھ کشمیر خود بہ خود ہمارا ہوگا ………….!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker