مضامین ومقالات

یوم اساتذہ ۔ پیغام اور پیام

۔آج کا پیغام ۔جمعرات ۵/ ستمبر
5/9/2018
Thursday

محمد سلمان پرتاپگڑھی
متعلم اے ایم یو علی گڑھ یوپی

گروپ علم اور اس کی پہچان
آج ستمبر کی پانچ تاریخ ہے یہ دن ہندوستان میں یوم اساتذہ (teachersday) کی حیثیت سے منایا جاتا ہے (اسلام میں اس طرح ڈے اور دن منانے کی کوئ حیثیت نہیں ہے اسلام نے استاد کو جو مقام و مرتبہ حیثیت و منصب دیا وہ ہر وقت ہر گھڑی اور پوری زندگی کے لئے دیا نہ کہ رسمی اور وقتی طور کے لئے کہ سال کہ ایک دن یا کسی دن اور کسی تاریخ کے لئے اس کو خاص کیا ہے اسلام کی پاکیزہ تعلیم تو یہاں تک ہے کہ استاد کی عزت و احترام کے ساتھ ان کی اولاد اور ان کے بچوں کا بھی خیال رکھو اور ان کو عزت دو ان کے انتقال کے بعد ان کی اولاد سے بھی محبت اور انسیت رکھو) پوری دنیا میں دن اور ڈے منانا ایک فیشن اور رسم سا بن گیا ہے ۔ اس لئے سوائے اخبارات میں اکا دکا رسمی بیان کے ۔ ایسے مواقع پر بہت زیادہ کچھ نہیں ہوتا حالانکہ ایسے دنوں کو متعلقہ موضوعات پر سنجیدہ غور و فکر ،تبادلئہ خیال اور ان کی روشنی میں انقلابی تبدلیوں کی کوششوں کا محرک بنانا چاہیے ۔
ہندوستان جو کہ ایک جمہوری ملک ہے یہاں کی تاریخ میں ۵/ ستمبر کو یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے اس تاریخ کو یہاں کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی اہمیت اور اس کے مقام و کردار کے موضوع پر ورک شاپ ۔ سمینار اور پروگرام ہوتے ہیں ان کی اہمیت و عظمت پر مقالات پڑھے جاتے ہیں تقریریں کی جاتی ہیں انہیں ہدیے اور تحفے دیے جاتے ہیں ہندوستان کے ہر شعبے میں منتخب علمی شخصیت کو ان کے علمی تعلیمی ادبی تصنیفی اور سماجی و سیاسی خدمات پر *صدر جمہوریہ ایوارڈ* دیا جاتا اور حکومتی سطح پر ان کی علمی اور ادبی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے ۔
یہ دن ہندوستان کی ایک عظیم علمی سیاسی مذھبی اور سائنسی شخصیت سروپلی رادھا کرشنن کی تاریخ پیدائش( ۵/ ستمبر ۱۸۸۸ء جائے پیدائش مدراس موجودہ چنئی) کو بطور یوم اساتذہ کے منایا جاتا ہے ۔ وہ ایک عظیم علمی شخصیت کے حامل تھے ۔علم پرور تھے ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے ہندوستان میں جانے جاتے تھے ہندوستان کے پہلے نائب صدر جمہوریہ منتخب ہوئے اور پھر دوسرے نائب صدر جمہوریہ بنے متعدد یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر بھی رہے غرض وہ ہندوستان کے ایک عظیم مذھبی علمی اور سیاسی شخصیت کے مالک تھے اور ہندوستان کو تعلیم و تربیت اور تہذیب و ثقافت اور تمدن و کلچر کے اعتبار سے ایک عظیم ہندوستان بنانے کے بارے میں ہمیشہ سوچتے رہتے تھے اسی لئے یہاں کی حکومت نے ان کو بہترین خراج عقیدت اس طرح پیش کیا کہ ان کی تاریخ پیدائش( یوم ولادت ) کو پورے ہندوستان میں *یوم اساتذہ*کے طور پر منانا شروع کیا جو ایک جمہوری ملک کی شان اور پہچان ہے ۔
*آئیے* ہم اس موقع پر اس پہلو پر غور کریں کہ اسلام نے درس و تدریس کے عمل اور پیشے کو کتنی اہمیت دی ہے اور معلم و استاد کو کتنا اونچا اور بلند مقام دیا ہے اور ان کی عظمت و رفعت کو کس قدر اجاگر کیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ تعلیم و تدریس نہایت ہی مقدس اور معزز و شریفانہ پیشہ ہے ہر مذھب اور سماج میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے ۔ کیوں کہ سماج و سوسائٹی میں جو کچھ نیکیاں اور بھلائیاں پائ جاتی ہیں اور خدمت خلق کا جو سرو سامان موجود ہے وہ سب در اصل تعلیم ہی کا کرشمہ ہے اور درسگاہیں اس کا اصل منبع اور سرچشمہ، اسلام کی نظر میں انسانیت کا سب سے مقدس طبقہ پیغمبروں کا ہے اور سارے رسول اور پیغمبر اپنی قوم اور مذھب کے لئے معلم اور استاد و مربی ہوتے تھے آسمانی کتابوں میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے ۔ اور آخری پیغمبر اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے جس مقام اور درجہ کو قرآن نے سب سے زیادہ نمایاں کیا ہے وہ یہی ہے کہ آپ ساری انسانیت کے لئے مربی و معلم اور استاد ہیں ۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس حیثیت کو سب سے ہائ لائٹ اور نمایاں کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ۰۰ انما بعثت معلما ۰۰
اور دوسری جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری دو حیثیت ہے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے معلم بنایا اور دوسری یہ کہ اللہ تعالی نے مجھے مبلغ و داعی بنایا ۔
اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسلام میں استاد و معلم کو اور اس پیشہ کو کیا وقار اور عظمت حاصل ہے ۔
اساتذہ کا احترام اور قدر و منزلت اسی قدر ضروری ہے جتنا اپنے والدین کا ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا کتنا اونچا مقام تھا کتنے بڑے مفسر تھے حدیث پر کتنی گہری اور باریک نظر تھی اس مقام و مرتبہ کے باوجود حال یہ تھی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں اہل علم کے ساتھ اسی سلوک کا حکم دیا گیا ہے ۔
امام شافعی رح امام مالک رح کے شاگردوں میں ہیں کہتے ہیں کہ جب میں امام مالک کے سامنے پلٹتا تو بہت نرمی سے کہ کہیں آپ کو بار خاطر اور تکلیف نہ ہو ۔
امام ابو حنیفہ رح کے بارے میں منقول ہے کہ اپنے استاد حماد رح کے مکان کی طرف پاوں کرنے میں بھی لحاظ ہوتا تھا ۔ امام صاحب نے خود اپنے صاحبزادہ کا نام اپنے استاد کے نام پر رکھا ۔
قاضی ابو یوسف رح کو اپنے استاد امام ابو حنیفہ رح سے ایسا تعلق تھا کہ جس روز بیٹے کا انتقال ہوا اس روز بھی درس اور مجلس کی حاضری سے محرومی کو گوارا نہیں فرمایا ۔
غرض استاد و معلم کو اسلام نے بہت اونچا درجہ دیا ہے ان کے حقوق کو خاص طور پر ادا کرنے کی تاکید کی ہے کیونکہ سماج و معاشرہ کی تعمیر میں ان کا کردار اور رول سب سے زیادہ نمایاں ہے ۔ اس لئے وہ صرف طلبہ کی نظر میں ہی نہیں سماج کے لئے بھی قابل احترام ہیں ۔
لیکن استاد کی بھی ذمہ دار ی ہے کہ وہ بھی اپنے مقام و مرتبہ اور اپنی حیثیت کو پہچانیں اور اپنے حقوق و فرائض کو ادا کرنے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کریں ۔ اپنے فرائض پر نگاہ رکھیں اور خود احتسابی کے عمل سے کبھی غافل نہ ہوں ۔
یوم اساتذہ کو منانے سے زیادہ ان باتوں کا اگر ہم خیال رکھیں گے تو گویا ہم نے اس رسمی دن کا بھی حق ادا کر دیا ورنہ تو صرف اور صرف یہ ایک رسمی عمل ہی رہ جائے گا ۔
*نوٹ براہ کرم اس پیغام کو دوسروں کو بھی شیئر کریں تاکہ اس کا فائدہ عام ہو*

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker