مضامین ومقالات

کشمیر: چھلک جاتا ہے پیمانہ اگر بھرپور ہوتا ہے

صدائے دل ندائے وقت(663)

محمد صابرحسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

غم بے حد میں کس کو ضبط کا مقدور ہوتا ہے
چھلک جاتا ہے پیمانہ________ اگر بھرپور ہے

کشمیر کا مسئلہ گنجلک ہوتا جارہا ہے، کرفیو کا تسلسل باقی ہے، مہینہ نہیں بلکہ دنوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، لوگوں میں چیخ و پکار مچی ہوئی ہے، بچے بلک بلک کر مر رہے ہیں، وہ نوزائد بچے جنہیں ماں کے علاوہ کا دودھ پینے کی عادت ہے، اور وہ مائیں جو خود اپنے پیٹ کو باندھے ہوئی ہیں، بھلا کیسے تر سینہ رکھیں گی اور نونہال کو شکیم سیر کریں گی؟ وہ بوڑھے جو یومیہ دوائیوں اور انجیکشن کے سہارے جیتے ہیں، وہ بلڈ پریشر اور حرکت قلب کے مریض جن کے لیے لمحہ لمحہ میڈیکل امداد کی ضرورت پڑتی ہے، کیوں کر اس قید خانہ میں اپنی ضرورتیں پوری کر پاتے ہوں گے، چنانچہ ایک اخبار کی رپورٹ کہتی ہے کہ وہاں بھوک سے مرنے والوں کی لاشیں بھی سڑنے لگی ہیں، انہیں دفنانے کی بھی اجازت نہیں ہے، وہ دو گز زمین کو بھی ترس ریے ہیں، بے چینی کی موت اور بے قراری کی یہ آخری خواب گاہ۔ خاک وطن نے انہیں اپنے ہی خاک سے دور کردیا؛ لیکن۔۔۔۔:
سنے گا کون میری چاک دامانی کا افسانہ
یہاں سب اپنے اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے نعشوں کےلئے اپنے گھر کی زمین ہی وقف کردی ہے، بیماریوں سے مرنے والے اور ضروری علاج سے بے بہرہ لوگ سسک سسک کر موت کی آغوش میں جا رہے ہیں، فوجیوں کے مظالم سے بی بی سی اور الجزائر جیسے عالمی نیوز چینلوں نے پردہ اٹھایا، ورنہ ہندوستانی میڈیا حکومت کے تلوے چاٹ رہی ہے، اس نے پیٹ کی خاطر انسانیت کو بیچ دیا ہے، دو ٹکوں کےلئے انسانی تاریخ کو مسخ کردیا ہے، وہ انسان پروری کے بجائے انسان دشمن بن گئے ہیں، انہیں سب کچھ ٹھیک نظر آتا ہے، بغیر بنیادی سہولتوں کے زندگی کیسی ہوتی ہے؟ اس سے وہ یوں نادانی کا اظہار کرتے ہیں، جیسے کوئی مجنون اپنے درد سے، کوئی دیوانہ اپنے داستان عشق سے، کوئی غم کا مارا اپنے غم یاراں سے۔ کچھ بھی کہیے، لیکن خبریں اپنا راستہ ڈھونڈ لیتی ہیں، ویسے ہی جیسے بہتے پانی کو کوئی روک نہیں سکتا، بو اپنا تعارف خود دیتی ہے، چناں چہ ظاہری ملمع سازی پر عالمی نیوز رپورٹرس نے بخیہ ادھیڑ دی ہے، وہاں کی ہر خبر دل لرزاں اور ترساں کر دینے والی اور آنکھیں چھلکا دینے والی ہیں، لاکھ قساوت قلبی کے باجود زیر چشم اندھیرا چھا جاتا ہے، اور محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کی عکاس بس یہی ہے:
چھری پہ چھری کھائے جائے ہے کب سے
اور اب تک جیے ہے کرامت____ کرے ہے

06/09/2019

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker