مضامین ومقالات

چندرایان : قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جاکر کہاں کمند

 

ڈاکٹر سلیم خان

چندرایان ۲ نے ۱۳ منٹ قبل چاند پر اترنا شروع کیا مگر تین منٹ قبل اس سے رابطہ ٹوٹ گیا اس طرح اس عظیم مہم کے تین تیرہ ہوگئے۔ اسرو کے سربراہ کےسیوان اس موقع پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ان کی ڈھارس بندھانے کے لیے وہاں وزیر اعظم موجود تھے۔ مودی جی سینے سے لگا کر دیر تک ان کی پیٹھ سہلاتے رہے اور اے این آئی کا کیمرہ اس کی فلمبندی کرتا رہا ۔ مودی اور کیمرے میں چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے شعلے فلم کا نغمہ ‘یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے ، توڑیں گے دم مگر تیرا ساتھ نہ چھوڑیں گے’ گاتے رہتے ہیں ۔اسرائیل کے وزیر اعظم سے بھی مودی جی کی اسی طرح کی دوستی ہے۔ وہ جب دوبارہ منتخب ہوئے تو سب سے پہلے یاہو نے ہی مبارکباد کا پیغام دیاتھا۔ اس سال ‘یوم رفاقت’ پراسرائیلی سفارتخانے یکم اگست کو مودی اور یاہو کی تصاویر پر مبنی ایک کلپ ٹوئٹر پر پوسٹ کی اور ان کے پیچھے وہی دوستی والا شعلے کا نغمہ چلا دیا۔ مودی جی اس سے اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے ہیبرو زبان میں یاہو کے دوستانہ پیغام کا جواب دیا نیز اس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ۲ دن بعد سے وادیٔ کشمیر میں صہیونی جبر استبداد کا آغاز کردیا اور خود کمبھ کرن کی نیند سوگئی۔ وزیراعظم دنیا بھر کی بات کرتے ہیں لیکن کشمیر پر چپی سادھے ہوئے ہیں؎

صیّاد تو تو جا ہے پر اُس کی بھی کچھ خبر

جو مرغِ ناتواں کہ تہِ دام رہ گیا

کشمیر کے ظلم وجبر کی سیاہ شب ایک ماہ سے زیادہ طویل ہوچکی ہے اور وہاں پر عام زندگی بحال کرنے کی جرأت حکومت میں نہیں ہے کہ ۔ ساری دنیا کے مہذب ممالک فلسطین کے معاملے میں جس طرح اسرائیل کو لعن طعن کرتے رہتے ہیں وہی سلوک ہندوستان کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور ہر کس و ناکس انسانی حقوق کی زبردست پامالی پر سرکار کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔اسرو کےچندرایان کے ساتھ وہی ہوا جو ۵ ماہ قبل چاند پر جانے کی سعی کرنے والے اسرائیلی خلائی جہاز کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ بڑے جوش کے ساتھ زمین سے تو پرواز کر گیا لیکن بحفاظت اترنے میں ناکام رہا ۔ اسرائیلی خلائی جہاز کے انجن میں لینڈنگ کی تیاری کے دوران خرابی پیدا ہوگئی اور وہ سطح چاند سے ٹکرا کرتباہ ہو گیا ۔ اس طرح ہیکل سلیمانی کے وارثین پر یہ شعر صادق آگیا کہ ؎

ماریں ہیں ہم نگینِ سلیماں کو پشتِ دست

جب مٹ گیا نشان تو گو نام رہ گیا

اسرائیلی مشن کی اس ناکامی کا یہودیوں سے زیادہ افسوس ان مسلمانوں کو ہوا جن لوگوں نے اسرائیل سے عار دلا کر مسلمانوں کو بیدار کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ وہ خلائی مشن اگر کامیاب ہوجاتا تو امت کو کوسنے والے مضامین اور پیغامات کی جھڑی لگ جاتی ۔ گولڈامایر کا وہ بیان جو نہ جانے اس نے دیا تھا یا نہیں پھر ایک بار واٹس ایپ اور فیس بک پر گردش کرنے لگتا اور امت کو جی بھر کے برا بھلا کہا جاتا لیکن اسرائیل کی ناکامی نے اس مہم کا اسقاط حمل کردیا اور وہ تمام مضامین جو پہلے سےتیار کر کے لیے گئے تھے دریا برد کرنے پڑے ۔ ویسے وہ محنت رائیگاں نہیں جائے گی، بہت جلد انہیں ذرائع ابلاغ کے گندے تالاب سے نکال کر کسی مناسب موقع پر استعمال کرلیا جائے گا کیونکہ ان میں کوئی بات تو ہوتی نہیں ہے جو گریہ وزاری اس بار مقصود تھی اس کو مستقبل قریب کے لیے موقوف کردیا گیا بقول شاعر ؎

جھگڑے میں ہم مبادی کے یاں تک پھنسے کہ آہ!

مقصود تھا جو اپنے تئیں کام رہ گیا

اسرائیل کی تعریف و توصیف کے علاوہ امت کے دانشوروں کا ایک پسندیدہ مشغلہ یہ بھی ہے کہ موقع بہ موقع مسلمانوں کو طعنہ دیں کہ انہوں نے ملک کے لیے کیا کیا یا اس کو کیا دیا ؟ حالانکہ انٹارٹیکا پر جس ہندوستانی نے سب سے پہلے قدم رکھا وہ مسلمان تھا ۔ ہندوستان کے میزائیل مین اور پوکھرن دھماکے کے سربراہ ڈاکٹر عبدالکلا م بھی مسلمان تھے نیز اس موقع پر بھی ٹیلی ویژن کے پردے پر اسرو کے ترجمانی حیدرآباد یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایس ایم احمدکرتے دکھائی دیئے ۔ انہوں اخبار نویسوں کو بتایا کہ اب بھی اسرو پر امید ہے۔ چاند کی سطح سےصرف ۲ کلومیٹرکی دوری پرلینڈروکرم سے رابطہ ضرور ٹوٹ گیاہےتاہم پھر سے وہ دوبارہ جڑسکتاہے ۔ بفرضِ محال ایسا ہوجائے تو چاند کی جغرافیائی معلومات،علم معدنیات، کیمیائی ساخت اور ارتقا کا پتہ چلایا جاسکتا ہے ۔ ڈاکٹر ایس ایم احمد چندرایان 1 کے لیے کام کرچکے ہیں اور فی الحال حیدرآباد یونیورسٹی میں آلات کی تجربہ گاہ( انسٹورمینٹس لیبارٹری) کے صدرشعبہ ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اب سنگھ سے سوال کیا جائے کہ اس کے کروڈوں کارکنان ، لاکھوں اسکول اور ہزاروں کالجوں میں سے ڈھنگ کا کوئی سائنسداں کیوں نہیں نکلتا؟وہاں سب گئوتنکوادی ہی کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ سنگھیوں کی نااہلی پر قائم چاند پوری کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎

ناپختگی کا اپنی سبب اُس ثمر سے پوچھ

جلدی سے باغباں کی جو وہ خام رہ گیا

ہندوستانی خلائی مشن کی یہ دوسری ناکامی ہے اس سے قبل ۲۰۰۸؁ میں چندریان ۱ بھی چاند کی سطح پر اترنے میں ناکام رہا تھا لیکن اس نے ریڈار کی مدد سے چاند پرپانی کی موجودگی کی پہلی اور نہایت تفصیلی رپورٹ روانہ کی تھی۔اس بار ‘چندریان ۲’ کی توجہ چاند کی سطح پر مرکوز کی گئی اور وہاں پانی ومعدنیات تلاش کے ساتھ ساتھ زلزلوں کی تحقیق بھی پیش نظر تھی۔ چاند پر اگر پانی اور معدنیات کے ذخائز مل بھی جائیں تو انہیں زمین پر تصاویر کے ذریعہ تو لایا نہیں جاسکتا نیز جہاں آدم نہ آدم زاد وہاں زلزلوں کے آنے نہ آنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ لیکن اس مشن کے ذریعہ وزیراعظم مودی نے ایک سیاسی زلزلہ برپا کرنے کا منصوبہ بنالیا تھا ۔ اُنہوں نے نصف شب میں اس سافٹ لینڈنگ کا مشاہدہ کرنے کے لیے نہ صرف خود طویل سفر کیا بلکہ اسکولی بچوں کو بھی بلا لیا یہ اور بات ہے کہ لینڈنگ میں ناکامی کے سبب وزیراعظم کے ساتھ ساتھ بچے بھی مایوس ہوگئے ؎

موقوف کچھ کمال پہ یاں کامِ دل نہیں

مجھ کو ہی دیکھ لینا کہ ناکام رہ گیا

مذکورہ تقریب کی راہ ہموار کرنے کے لیے میڈیا میں دعویٰ کیا گیا کہ محنت، لگن اوراپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکرکچھ نیا کرنے کی کا جذبہ اسرو کی پہچان ہے اوریہ بچے اسی راہ پرآگے بڑھ رہے ہیں۔ اسرو کے کل ہندمقابلہ جاتی امتحان میں آٹھویں سے دسویں جماعت کے ستر سے بہتربچوں نے کامیابی حاصل کرکے نےوزیراعظم کے ساتھ سافٹ لینڈنگ دیکھنے کا ٹکٹ حاصل کیا لیکن افسوس کہ ‘دیکھنے ہم بھی گئے پر یہ تماشہ نہ ہوا’ ۔ ہر موقع سے سیاسی فائدہ اٹھانے سعی نے چندرایان ۲ کی ناکامی کے غم میں بیش بہا اضافہ کردیا۔ ۲۰۱۹؁ کی انتخابی کامیابی کے بعد مودی جی کے ستارے بری طرح گردش میں آگئے ہیں ۔ پہلے تو ملک بھر میں بارش نے قہر برسایا۔ اس کے بعد بازار زبردست مندی کا شکار ہوگیا۔ آسام کی این آر سی نے غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں کو بھی ناراض کردیا اور کشمیر تو ایسی گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے کہ نہ اُگلتے بنتا ہے اور نہ نگلتے بنتا ہے۔ آج ساری دنیا کی نگاہیں کشمیر پر لگی ہوئی ہیں اور وہ صحیح معنیٰ میں یہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ان زمینی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے آسمان پر واقع چاند کی جانب نکلے تو وہ مشن بھی ناکام ہوگیا۔ ایسا لگتا ہےکہ مودی جی کی دوسری مدتِ کار کا مہورت ٹھیک نہیں نکلا ورنہ یہ نہ ہوتا کہ ؎

قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند

کچھ دُور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

 

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker