مضامین ومقالات

بندوقوں کے سایے میں ایک ماہ سے محصور لاکھوں کشمیری

 

ذوالقرنین احمد

9096331543

 

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے خصوصی ریاست کی درجے کے قانون آرٹیکل 370 اور 35 اے کے جبراً ختم کرنے کے بعد کشمیری عوام خوف و دہشت کے سائے میں محصور ہوکر رہے گیے ہیں۔ یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس میں کشمیر کو خصوصی ریاست کا‌ درجہ حاصل تھا۔ جس کے بنا پر وہاں کوئی غیر ملکی نا زمین خرید سکتا تھا۔ نا وہاں کی لڑکی سے شادی کرسکتا تھا۔ نا‌ وہاں پر کوئی کاروبار کرنے کی اجازت تھی۔ کشمیر ایک آزاد ریاست کا درجہ رکھتی تھی۔ جس کے اپنے قانون تھے۔ جس کی اپنی ریاستی زبان اردو تھی۔ اور اسی زبان میں سرکاری اداروں میں بھی چلن تھا۔ ایک وقت تھا کے دنیا بھر سے سیاح کشمیر سیر و تفریح کیلے آیا کرتے تھے۔ جسے جنت نشان خطہ کہا جاتا تھا۔ جس کا نام لیتے ہی انسان خیالوں کے وادیوں میں ایک حسین طلسماتی دنیا کی سیر میں گم ہوجاتا تھا۔ جہاں کی سرسبز وادیاں، اور برف کے کوہ پیما، سفید پوشاک اوڑھے صبح کے سورج کی سنہری کرنوں سے کسی حسین دوشیزہ کے چمکتے دمکتے چہرہ پر سنہری زلفوں میں سفید لباس میں ملبوس نظر آتے۔ جہاں حسین پھلوں کے باغیچے اور خوشک میوا جات کے پیداوار ہوتی تھی۔ اس حسین و جمیل خطہ کی طرح وہاں کی زبان اردو بھی اپنی شرینی اور لطافت سے دلوں کو فتح کرنے والی ہے۔ یہ جنت نشان خطہ اپنے حسن و جمال کی وجہ سے دنیا بھر کی نظروں میں اہمیت کا حامل ہے۔

 

لیکن آج ہندوستان کے موجودہ بی جے پی کے دور اقتدار میں اس جنت کی وادی کو فوجی چھاؤنیاں بنا دیا گیا ہے۔ ہزروں کی تعداد میں فوج کو ہر گلی کوچے میں اور اہم شاہراہوں پر تعینات کردیا گیا ہے۔ ایک شہر کے دوسرے شہر علاقے میں جانے کیلے پاس حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت نے اپنے زور اقتدار کا غلط استعمال کرکے اس جنت نشان خطہ کو ظلم جبر تشدد اور بندوقوں کے زور پر اس خطہ کے خصوصی درجہ کو ختم کر دیا۔ اور وہ سمجھ رہے کہ ہم اس کے خصوصی درجے کو ختم کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ نہیں ہرگز نہیں کسی بھی زندہ دل غیور آزاد قوم پر ظلم و جبر کے ساتھ قانون کو نافذ نہیں کیا جاسکتا اور نا ہی انکی حامی کے بغیر کسی قانون کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت میں ایک بد ترین ظلم ہے۔ دنیا کی کوئی بھی حکومت ظلم و جبر اور نا انصافیوں کے ساتھ نہیں چلا کرتی ہے۔ اسکا ظلم جب حد سے تجاوز کرتا ہے۔ تو وہ حکومتوں کو عوام اپنے زور بازو اور انصاف کے خاطر متحد ہوکر تختہ الٹ دیا کرتی ہے۔ اور انکے دور کا خاتمہ دنیا کیلئے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔

 

آج حکومت اقتدار کے نشے میں چور ہے۔ اور اپنے مفاد کی خاطر عوام کی لاشوں پر اقتدار کر رہی ہے۔ من چاہے قانون سازی کر رہی ہے۔ جو عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ اور نا ہی ملکی مفاد کے مطابق ہے۔ کشمیر سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے آج 32 دن گزر گئے ہیں۔ وہاں کی عوام کے ساتھ بد ترین سلوک کیا جارہا ہے۔ جو انسانی حقوق کے خلاف ورزی ہے‌۔ اگر تمہیں کشمیر چاہیے تھا تو تم پہلے وہاں کے عوام کے تحفظ کی فکر کرتے انکے ساتھ محبت اور انصاف کا سلوک کرتے انکے دلوں میں اپنے لیے محبت پیدا کرتے اور انصاف کے اصولوں پر اپنے ملک میں اسے ضم کرنے کیلے قرار دار منظور کرتے لیکن نہیں تم نے بندوقوں کے سائے میں ایک کروڑ کے قریب کشمیری عوام کو محصور کر کے انکے ساتھ بد ترین ظلم کیا ہے۔ یہ انسانیت کے خلاف ورزی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کسی جانور کو بھی قید کرنا دل نہیں چاہتا۔ ہم ملک کی آزادی کے وقت آزادی کے جشن کے موقع پر کبوتروں کو آزاد فضاؤں میں چھوڑ دیتے ہے۔ لیکن ایک مہینے سے زیادہ گزر چکا ہے۔ کشمیری عوام پر جو ظلم و تشدد اور نا انصافیاں کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ میرا قلم اس ظلم کو لکھنے سے قاصر ہے۔ دل پھٹا جارہا ہے۔ ایک عام انسان جو انصاف پر قائم ہو جو مذہبی منافرت سے پرے ہو، اگر وہ انصاف کے پیمانے پر اس خطہ کو پرکھے اور اس کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے۔ کہ ایسا بدترین ظلم جانوروں پر بھی نہیں کیا جاتا ہے ۔ ہم جنگلی جانوروں کو بھی اتنے دن قید نہیں رکھا کرتے ہیں۔ انہیں جنگلوں میں لے جاکر چھوڑ دیتے ہیں۔ ملک کے اس جنت نشان خطہ پر تاریخ کا بدترین ظلم کیا جارہا ہے۔ جبکہ ان بے قصور عوام کا کوئی جرم نہیں ہے۔

وہاں سے بی بی سی کے زریعے جو ویڈیوز اور خبریں وائرل ہورہی ہے۔ وہ دل دہلا دینے والی ہے۔ معصوم بچوں کو انکی ماؤں کی گودوں سے چھین کر لے جایا جارہا ہے۔ ایک ویڈیو جس میں بزرگ شخص تڑپ کر امت مسلمہ کے حکمران اور المسلم کجسد واحدہ کے واسطہ دیتے ہوئے پکار رہے ہے۔ کہ ہمارے بیٹوں کے عصمتوں کو تار تار کیا جارہا ہے۔ اس امت کی بیٹوں کے سروں سے چادریں چھینی جارہی ہے جس امت کی بیٹوں کی سروں کو آسمان بھی دیکھنے کو ترستا تھا۔ وہ روتے ہوئے یہ گوہار لگا رہے کہ کہا ہے امت مسلمہ کہا ہے مسلم حکمران۔ میں کہتا ہوں آج امت بے حس ہوچکی ہے۔ اگر مسلم حکمرانوں کے ا‌ندر غیرت و حمیت باقی ہوتی تو وہ ضرور اس مظلوم عوام کے حق میں انکے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوتے۔ مسلم امت خاموش تماشائی بنی ہوئیں ہے۔ کچھ نوجوانوں لکھ رہے ہیں بول رہے ہیں۔ میں انکی ہمت و حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ جو کسی پیمانے پر جد وجہد کر رہے ہیں۔ ان مظلوم عوام سے یکجہتی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز 18 سالہ اسرار احمد جو 6 اگست کو فوجی کارروائی میں پیلٹ گن کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بدھ کی روز 4 ستمبر کو دم توڑ گیا کشمیر کے پیدا شدہ حالت میں ہلاک ہونے والا یہ پہلا شخص ہے۔ اسکے علاوہ بھی ایک شخص آنسو گیس کے وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ تو کچھ اداروں سے وایرل ہونے والی خبریں ہیں جو اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ ورنہ حالات تو یہ بنے ہوئے کشمیر میں صحافیوں کو بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

 

مرنے والوں کی تعداد کیا ہے کتنی ہے اس کا اندازہ لگانا بھی ایک الگ مسلہ ہے کیونکہ ایک مہینے سے کرفیوں نافذ ہیں مواصلاتی نظام کو بند کردیا گیا ہے۔ کچھ علاقوں میں ایس ٹی ڈی کال کی اجازت دی جارہی ہے۔ وہ بھی محدود دائرہ میں ھے۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے اور بڑے افسوس رنج وغم کی بات ہے۔ ایک کروڑ بے قصور عوام کو گھروں میں قید کردینا اور وہ بھی ایک مہینہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ میں حکومت وقت اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے سوال کرتا ہوں کیا ایک عام آدمی جو مزدوری کرتا ہے، جسکی روزانہ کی کمائی سے اسکا گھر چلتا ہو، ایک دن اگر کام پر مزدوری پر نا جائے تو اسکے گھر میں فاقے کی نوبت آجاتی ہے۔ ایسے لاکھو افراد اس خطے میں موجود ہے۔ وہ ایک مہینے سے کیسے اپنی زندگی گزار رہے ہوگے اور جب کام ہی نا ملے تو گھر کا خرچ کہا سے پورا ہوگا۔ عوام کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے۔ ایک مہینے کا اناج صرف زمینداروں اور بڑے بڑے بزنس مین مالداروں اور حکمرانوں کے گھروں میں پڑا رہتا ہے۔ اور اکثر عوام غریب اور پسماندہ طبقات میں شمار ہوتی ہے۔ ان بے قصور عوام کا کیا قصور ہے۔ جنہیں بے سروسامانی کی حالت میں گھروں میں بند کردیا گیا ہے۔ حقوقِ انسانی اور اقوام متحدہ کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ کن حالات میں عوام زندگی بسر کر رہی ہوگی۔ ایک بے گناہ انسان کا قتل انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ بے جان جانوروں کے مرنے پر احساس جتایا جاتا ہے۔ کیا کشمیریوں کا خون اتنا سستا ہوچکا ہے۔ اگر تمہیں کشمیر چاہیے تو کشمیریوں سمیت انہیں قبول کرنا ہوگا۔ جبرا اپنے زور اقتدار پر حکومت قائم نہیں ہوسکتی ہیں۔ اور ہو بھی جائیں تو اس خطے پر کبھی امن و امان قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ حکومت غذا اور میڈیسن کو روک کر عوام کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ کہ وہ اپنے حق کی خاطر احتجاج کرنے کی طاقت بھی نہ رکھ سکے ،لیکن انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ کرفیوں کب تک نافذ رہے گا کب تک انکے صبر کا امتحان لیا جائے گا یہ صبر کا پیمانہ جب لبریز ہوگا تو عوام کے غصے کو کنٹرول کرنا مشکل ہی نہیں نامکن ہوجائے گا۔ اور ایک ایسی آگ پورے خطے کو اپنے لپیٹ میں لے گی جس سے جنت نشان خطہ اپنی خوبصورتی کو کھو دیں گا۔ ظلم و جبر نا انصافیوں کے دور حکومت کا ایک دن خاتمہ ہونا یقینی ہے۔ حکومت عدل و انصاف سے چلا کرتی ہے۔ نا انصافیوں سے معاشرہ تباہ ہوجاتا کرتا ہے۔

 

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker