ہندوستان

سکھ مخالف فسادات ۱۹۸۴ ! کمل ناتھ پھنس سکتے ہیں، ایس آئی ٹی نے سات کیس دوبارہ کھولے، مدھیہ پردیش کے موجودہ وزیراعلیٰ پر قصورواروں کو پناہ دینے کا الزام

نئی دہلی۔۹؍ستمبر: مرکزی وزارت داخلہ کی قائم کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے سکھ مخالف فسادات کے سات کیس دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان میں ملزمین کو بری کیا گیا تھا یا کیس بند کئے گئے تھے۔سرکاری خبرنامہ میں یہ بات بتائی گئی ہے۔خبر کے عوام میں ظاہر ہونے کے بعد دہلی کے ایم ایل اے منجندر سنگھ سرسا نے کہا کہ سینئیر کانگریس لیڈر اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے مبینہ طور پر پانچ ملزمین کو پناہ دی تھی۔نئ دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولس اسٹیشن میں درج کی جانے والی ایف آئی آر میں ناتھ کا نام نہیں تھا۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ کی مشکلات میں آنے والے دنوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دراصل پیرکو مرکزی وزارت داخلہ نے1984 کی فسادات کے فائلیں دوبارہ کھولنےکی تجویزکومنظورکرلیا ہے۔ انگریزی اخبارٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق دہلی سکھ گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی کےچیئرمین منجندرسنگھ سرسا نےنامہ نگاروں کوبتایا کہ کمل ناتھ کے خلاف ایس آئی ٹی نےجانچ کی تھی۔منجندرسنگھ سرسا کے مطابق ایف آئی آر84/601 پھرکھلےگی اوراس میں کمل ناتھ کا بھی نام ہے۔ انہوں نےکہا کہ کانگریس صدرسونیا گاندھی کوکمل ناتھ کوپارٹی سے باہرنکالنا چاہئے۔ اگروہ ایسا نہیں کرتی ہیں توان کا سکھ مخالف چہرہ اجاگرہوگا۔گزشتہ جون ماہ میں بھی منجندرسنگھ سرسا نے 1984 سکھ فسادات کولے کرمرکزی وزارت داخلہ کے ذریعہ بنائی گئی ایس آئی ٹی کے چیئرمین سے ملاقات کی تھی۔ سرسا نے مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ کے رول کی جانچ کرنےکا بھی مطالبہ کیا تھا، جس پرایس آئی ٹی کی طرف سے بھروسہ دلایا گیا تھا کہ جانچ ٹیم اس معاملے کودوبارہ کھول رہی ہے اوران کی بنیادی توجہ وزیراعلیٰ کمل ناتھ کے کردارکی جانچ پرہوگا۔واضح رہےکہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے طویل اقتدارکا خاتمہ کرکے جب کمل ناتھ وزیراعلیٰ بنےتھے، تب بھی سکھ فسادات کولے کرخوب بحث ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا پراسے لےکرکافی ردعمل آئےتھے۔ حالانکہ کانگریس ہائی کمان نے تمام بحث کودرکنارکرتے ہوئےکمل ناتھ کووزیراعلیٰ بنایا تھا۔ اس وقت جیوتی رادتیہ سندھیا کوبھی ریاست کا وزیراعلیٰ بنائے جانے کی خبریں آئی تھیں، لیکن پارٹی نے کمل ناتھ کے ہی نام پربھروسہ ظاہرکیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker