مضامین ومقالات

”شاہ ملت کے ہمراہ لاتور میں دو دن!“ (سفر نامہ: قسط 03)

محمد فرقان

(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)

نکاح خوانی کی روداد:
تقریباً دوپہر 12:30 بجے ہم تمام نیند سے بیدار ہوکر وضو وغیرہ سے فارغ ہوئے۔ جس مسجد میں نکاح خوانی تھی وہ مسجد محبوبیہ قیام گاہ سے تھوڑی دور، لاتور کی امباجوگائی روڈ کے کھوری گلی میں ایس پی آفس کے روبرو واقع تھی۔ جہاں نماز ظہر کا وقت 01:40 پر تھا، ہم تقریباً 01:30 کے قریب مسجد پہنچ گئے۔ حضرت شاہ ملت مدظلہ کے استقبال کیلئے مسجد کے باہر ایک بڑا مجمع پہلے ہی سے منتظر تھا۔ حضرت کے پہنچنے کے بعد نماز ظہر ادا کی گئی اور سنن و نوافل کے بعد محفل نکاح سجی۔ چونکہ حضرت شاہ ملت مدظلہ کا بیان ہونا طے تھا، لہٰذا آپکو سننے اور آپکی زیارت کیلئے کافی مجمع اکھٹا ہوچکا تھا۔ جس کا اندازہ فقط اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ناظم محفل نے دوران نظامت یہ ارشاد فرمایا کہ اس جم غفیر میں عوام الناس کے علاوہ فقط علماء کرام کی تعداد تقریباً دو سو کے قریب ہے! الغرض ناظم محفل نے حضرت مولانا اسماعیل صاحب قاسمی نقشبندی مدظلہ کو استقبالیہ پیش کرنے کی دعوت دی۔

مولانا اسماعیل صاحب کا استقبالیہ:
شیخ طریقت حضرت مولانا اسماعیل صاحب قاسمی نقشبندی مدظلہ نے حمد و ثناء کے ساتھ اپنا استقبالیہ شروع کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہمارے لئے بڑی خوشی و مسرت کا موقع ہے کہ ہمارے درمیان ہندوستان کی ایک مایہ ناز شخصیت شاہ ملت اور شیر کرناٹک حضرت مولانا سید انظر شاہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم تشریف فرما ہیں، حضرت والا کوئی تعارف کے محتاج نہیں۔ میں فقط حضرت والا کو اس عقد نکاح کے لئے مدعو کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اپنی بات ختم کردوں گا۔ حضرت والا ایک حق گو عالم دین ہیں، ہمارے بزرگوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ نہ صرف حق کو بیان کرتے ہیں بلکہ اسے عملی جامہ پہنا کر امت کے سامنے ایک نمونہ، مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ میں اور حافظ عبد الرحیم صاحب حضرت والا کے فرزند ارجمند کے محفل نکاح میں شریک تھے، حضرت والا نے اپنے فرزند کا نکاح بہت ہی سادگی کے ساتھ سنت نبوی کے مطابق کیا اور اسی نکاح کی سادگی کو دیکھتے ہوئے ہمارے محترم جناب حافظ عبد الرحیم صاحب نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ حضرت والا کو ہمارے شہر میں کسی محفل نکاح میں ضرور بالضرور مدعو کرنا ہے۔ الحمدللہ آج انہیں کی صاحبزادی کے نکاح میں حضرت کو مدعو کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت کی آمد کو قبول کرتے ہوئے اس پورے علاقے کیلئے خیر کا ذریعہ بنائے۔ اب میں بلا کسی تاخیر حضرت والا سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ نکاح پڑھائیں۔“

حضرت شاہ ملت کا خطبۂ نکاح:
چونکہ قانونی مسئلہ کی وجہ سے حضرت والا کا بیان منسوخ کردیا گیا تھا لہٰذا مولانا اسماعیل صاحب کے پیش کردہ استقبالیہ کے بعد حضرت والا نے خطبۂ نکاح پڑھا۔ ایجاب و قبول حضرت مولانا اسماعیل صاحب نے کروایا اور حضرت شاہ ملت کی دعا پر نکاح خوانی کی پرنور محفل اختتام پذیر ہوئی۔ مجلس کے اختتام پر شرکاء مجلس نے حضرت شاہ ملت سے ملاقات کی اور نوشاہ مولانا احتشام الحق صاحب اور حافظ عبد الرحیم صاحب کو مبارکبادیاں پیش کی۔ کھجوروں کو بطور شیرنی تقسیم کیا گیا۔ اس کے بعد مسجد کے ذمہ داران اور عمائدین شہر نے حضرت شاہ ملت سے ملاقات کی جنکا تعارف مولانا اسماعیل صاحب فرما رہے تھے۔ مختصر گفتگو کے بعد حضرت شاہ ملت سمیت تمام رفقاء سفر بھائی اسلام الحق کی رہبری میں مسجد محبوبیہ سے دوبارہ قیام گاہ روانہ ہوئے۔ نکاح کی اس پرنور محفل میں مقامی حضرات کے علاوہ دور دراز و دیگر اضلاع سے ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی تھی۔ جن میں سے خصوصاً دیگر اضلاع کے مہمانوں نے حضرت شاہ ملت سے خصوصی ملاقات بھی کی۔ جنکی تفصیلات بھی آگے درج کئے گئے ہیں۔

سنت نبوی کے مطابق شادی:
آج کل ہمارے معاشرے میں شادی ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ جبکہ اسلام میں شادی کو بہت آسان کیا گیا ہے۔ شادی بیاہ میں شامل کئے گئے رسم و رواج نے وہ شدت اختیار کرلی ہے کہ ایک عام انسان شادی کا نام سنتے ہی بڑی سوچ و فکر میں پڑجاتا ہے، جسکی وجہ سے آج ہمارے معاشرے میں زنا آسان ہوگیا ہے اور نکاح مشکل بن گیا ہے۔ اور دن بہ دن یہ مشکلات کی سیڑھیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جس مذہبِ اسلام نے زنا کو حرام قرار دیا اسی مذہب کے ماننے والے مسلمانوں کی شادیاں زنا کے اڈوں کا ایک ٹریلر بنی ہوئی ہیں۔ حضرت شاہ ملت تو یہاں تک فرمایا کرتے ہیں کہ ”مسلمانوں کی شادیوں میں فقط خطبۂ نکاح کے علاوہ کہیں دین و شریعت کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا۔ اگرچہ خطبۂ نکاح کی ضرورت نہ ہوتی تو آج کل کے یہ نام نہاد مسلمان شادی کے دیگر مغربی رسومات کی طرح آگ کے بھی ساتھ پھیرے لینے کیلئے تیار رہتے۔ جس نکاح خوانی میں سنت نبوی کا مزاق ہو اس نکاح میں شریک ہونا بھی جائز نہیں! کیونکہ فقط شرکت ہی انکے کارہائے انجام کو تائید کرنے کے مانند ہے!“ الغرض حافظ عبد الرحیم صاحب نے بڑی سادگی کے ساتھ اپنی لختِ جگر کی شادی کروائی۔ جس پر حضرت شاہ ملت جو محفل نکاح میں مجبوری کی وجہ سے اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرپائے تھے انفرادی طور پر بڑی خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے حافظ صاحب کو مبارکبادی پیش کی اور دیگر مقامی حضرات سے گزارش کی کہ ایسی تقریبات جہاں سنتوں کو زندہ کیا جاتا ہو اسکی خوب تشریح کرنی چاہئے اور ایسی تقریبات جہاں سنتوں کا گلا گھونٹا جارہا ہو وہاں شریک ہونے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ حضرت شاہ ملت مدظلہ کے فرزند ارجمند حافظ سید فوزان شاہ کی شادی بہت ہی سادگی اور سنت نبوی کے طریقے کے مطابق ہوئی تھی۔ جو ان لوگوں کیلئے ایک مثال تھی جو یہ کہتے تھے کہ شادی سادگی سے کیسے ہوسکتی ہے؟ اس تقریب کو دیکھتے ہوئے ہر عام و خاص کی زبان سے ہر بار کی طرح یہ سنہرے الفاظ نکلے تھے کہ ”حضرت شاہ ملت نہ صرف حق بات بولتے ہیں بلکہ اسے عملی جامہ بھی پہنا کر امت کے سامنے ایک مثال قائم کرتے ہیں۔“ یہاں ہمیں ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ اگر کوئی بندہ سنت نبوی پر عمل پیرا ہونے کا ارادہ کرلے تو حالات کیسے بھی ہوں اللہ تبارک و تعالیٰ خود اسکو راستہ نکال کر دیتے ہیں۔ اسی کے ایک مثال حافظ عبد الرحیم صاحب کی دختر کی شادی تھی۔ یقیناً وہ تقریب سنت نبوی کو زندہ کر رہی تھی۔ اور مشکوٰۃ شریف کی روایت کے مطابق ایسے پر فتن دور میں سنت نبوی کو زندہ کرنا سو شہیدوں کا ثواب ہے! اللہ اکبر!!! لہٰذا امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ سنت نبوی پر عمل پیرا ہوں، سنت نبوی پر عمل پیرا ہوجانا ہماری دونوں جہاں میں کامیابی کی دلیل ہے۔ الغرض قیام گاہ پہنچنے کے بعد حضرت شاہ ملت اور مولانا اسماعیل صاحب کے ہمراہ تمام رفقاء سفر نے قیام گاہ ہی پر دوپہر کے کھانے اور قیلولہ سے فارغ ہوئے۔ اور اگلے دن کے دیگر پروگرامات کا مشورہ ہوا۔

(اگلی قسط میں پڑھیں: دیگر اضلاع کے مہمانان اور لاتور کے علماء کرام کی حضرت شاہ ملت سے ملاقات اور گفتگو کی روداد)

+91 8495087865
mdfurqan7865@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker