شمع فروزاں

اہل بیت اور اہل سنت(۲)

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(سیکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسن وحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو نوجوانان جنت کا سردار قرار دیا (ترمذی حدیث نمبر: ۳۷۶۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنینؓ سے بے حد محبت فرماتے تھے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو دونوں مونڈھوں پر بٹھائے ہوئے تھے، اور کبھی ایک کا اور کبھی دوسرے کا بوسہ لے رہے تھے، اسی حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی طرف تشریف لائے، ایک صحابی نے دریافت کر لیا کہ آپ اِن دنوں سے پیار کرتے ہیں؟ شاید انھوں نے سمجھا کہ بچوں سے پیار کرنا مقام نبوت کے شایان شان نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف ان کے سامنے حضرات حسنینؓ سے محبت کا اظہار فرمایا؛ بلکہ یہ بھی فرمایا کہ جس نے ان دونوں سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا (مسند احمد عن ابی ھریرہؓ، حدیث نمبر: ۹۶۷۳)
یہ تو اہل بیت کے چند خاص افراد سے متعلق آپ کی دعائیں تھیں؛ لیکن عمومی طور پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کی فضیلت بیان فرمائی ہے، اور ان سے محبت کو اپنی محبت کا اور ان سے بغض کو آپ سے بغض رکھنے کا معیار قرار دیا ہے، حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا: جو شخص ہمارے اہل بیت سے بغض رکھے گا، اللہ تعالیٰ ضرور ہی اس کو دوزخ میں داخل کریں گے (ابن حبان، حدیث نمبر: ۶۹۷۸) حضرات صحابۂ کرامؓ کو اہل بیت کی فضیلت کا اس درجہ خیال تھا کہ وہ ہمیشہ ان کو سر آنکھوں پر رکھتے تھے، حضرت علیؓ کا جو حضرت فاطمہؓ سے نکاح ہوا تو اس بارے میں خود شیعہ علماء نے لکھا ہے کہ یہ حضرت ابو بکرؓ کا حضرت علیؓ پر احسان تھا؛کیوں کہ وہی اس میں واسطہ بنے تھے اور وہ نکاح میں گواہ تھے: کان للصدیق منّ علیّ علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما حیث توسط لہ فی زواجہ من فاطمۃ رضی اللہ عنھا وساعدہ فیہ، کما کان ھو أحد الشھود علی نکاحہ بطلب من رسول اللہ (الامالی للطوسی :۱؍۳۸) اس مبارک نکاح کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر جن صحابہؓ کو مدعو فرمایا، ان میں حضرت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت سعد بن معاذؓ شامل تھے، حضرت علیؓ چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مصروف ہونے اور کوئی ذریعہ ٔمعاش اختیار نہ کرنے کی وجہ سے فقروتنگ دستی کی حالت میں تھے؛ اس لئے ان تینوں حضرات نے ارادہ کیا کہ ہم لوگ حضرت علیؓ کا تعاون کریں گے( جلاء العیون للملاء مجلسی: ۱؍۱۶۹) پھر مشہور شیعہ عالم علامہ طوسی کی روایت کے مطابق حضرت فاطمہؓ کے لئے ضروری اسباب کی خریداری کی ذمہ داری بھی آپ نے حضرت ابوبکرصدیقؓ ہی کو سونپی تھی (جلاء العیون: ۱؍۱۷۶)
صحابہ کے اہل بیت کے ساتھ حسنِ سلوک اور محبت واحترام کا حال یہ تھا کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ حضرت فاطمہؓ کے مرض وفات میں برابر آپ کی خبر گیری کیا کرتے تھے، اور حضرت ابوبکرصدیقؓ کی زوجہ اسماء بنت عمیسؓ نے اپنے آپ کو ان کی تیمارداری کے لئے وقف کر رکھا تھا اور وہ آخری سانس تک ان کے پاس رہیں (الامالی للطوسی: ۱؍۱۰۷) جب حضرت فاطمہؓ کی وفات ہوئی تو پورا مدینہ مردوں اور عورتوں کے رونے سے گونج اُٹھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جس طرح لوگ بے قرار تھے، اسی طرح آج بھی لوگ بے چین ہوگئے ( کتاب سلیم ابن قیس: ۲۵۵)
حضرت علیؓ کی ایک صاحب زادی ام کلثومؓ تھیں، حضرت عمرؓ نے ان سے نکاح کا پیغام دیا، حضرت علیؓ نے کم عمری کی وجہ سے اس کو قبول کرنے سے معذرت کی، حضرت عمرؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر رشتہ قیامت کے دن ختم ہو جائے گا، سوائے میرے سلسلۂ خاندان کے؛ اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری یہ نسبت قائم ہو جائے: وأردت أن یکون لي سبب وصھر برسول اللہ؛چنانچہ حضرت علیؓ نے ان کے پیغام کو قبول کر لیا، حضرت عمرؓ سے ان کا نکاح کر دیا، اور انھوں نے دس ہزار دینار اُن کا مہر مقرر کیا (تاریخ الیعقوبی: ۲؍۱۴۹) یہ خود ایک شیعہ عالم کا بیان ہے، حضرت عمرؓ کی قدردانی دیکھئے کہ ایک تو انھوں نے صرف خانوادۂ نبوی سے نسبت کے لئے نکاح کیا،دوسرے: دس ہزار دینار کی خطیر رقم مہر مقرر کی، جو میرے حقیر علم کے مطابق غالباََعہد نبوی اور عہد صحابہ میں کسی اور خاتون کے حصہ میں نہیں آیا۔
حضرت عمرؓ کی طرف سے اہل بیت کے اعزاز واکرام کا حال یہ تھا کہ جب حضرت عمرؓ کے پاس ۲۰ھ میں ڈھیر سارا مال آیا تو آپ نے اس کی تقسیم اس طرح فرمائی کہ سب سے بڑی رقم پانچ ہزار حضرت علیؓ کے لئے رکھی، چار ہزار اپنے لئے رکھی، حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے کم عمر ہونے کے باوجود ان کے لئے تین تین ہزار رکھی، یہ بات خود شیعہ مؤرخ علامہ یعقوبی نے لکھی ہے (تاریخ الیعقوبی:۲؍۱۸۳) تقسیم اموال کے وقت لوگوں نے حضرت عمرؓ سے ان کے امیر المؤمنین ہونے کے لحاظ سے کہا کہ آپ اپنے آپ سے شروع کیجئے، تو آپ نے فرمایا: نہیں؛ بلکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے شروع کروں گا (نہج البلاغۃ: ۳؍۱۷۳) جب کسریٰ شاہ ایران کی بیٹی قید ہو کر آئیں تو لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت عمرؓ اُن کو اپنے صاحبزادے کے حوالہ کریں گے؛ کیوں کہ وہ مسلمانوں کے سربراہ کے بیٹے ہی کے لئے کفو ہو سکتی ہیں؛ لیکن حضرت عمرؓ نے ان کو حضرت حسینؓ کو دیا، ان ہی سے امام زین العابدین علی بن حسینؓ پیدا ہوئے، کربلا کے حادثہ میں تنہا وہی بچے، اور ان ہی سے حضرت حسینؓ کا خاندان چلا، یہ بات خود شیعہ محدثین نے نقل کی ہے (الاصول: ۱؍ ۴۶۷) غرض کہ تمام ہی صحابہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور آپ کے مبارک خاندان کا احترام ملحوظ رکھتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی طور پر اہل بیت کی جو فضیلت بیان فرمائی ہے، اس کے بعد کسی صاحب ایمان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اہل بیت کی ناقدری کرے، یا ان کی شان میں بدگوئی کرے، حضرت زید ابن ارقمؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے مکہ ومدینہ کے درمیان مقام خُم میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو! میں تمہارے درمیان دو بہت ہی وزنی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک: کتاب اللہ، جس میں ہدایت اور روشنی ہے؛ لہٰذا تم کتاب اللہ کو پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھامے رہو، دوسرے: میرے اہل بیت، پھر آپ نے تین بار فرمایا: میں تم کو اہل بیت کے سلسلے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں (مسلم عن زید بن ارقم: ۲۴۰۸) حج کے کثیر مجمع میں یوم عرفہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! میں تم لوگوں کے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوںکہ اگر ان کو پکڑے رہے تو گمراہ نہ ہوگے، ایک: کتاب اللہ ، دوسرے: میرا خاندان یا میرے اہل بیت (ترمذی عن جابر بن عبداللہ: ۳۷۶۶)
علماء اہل سنت والجماعۃ نے ہمیشہ اہل بیت کو اپنی آنکھوں کا نور بنایا، حضرت علی کرم اللہ وجھہ کو خلیفۂ راشد کہا، اور حضرت امیر معاویہ ؓ کے بارے میں یہ نقطۂ نظر رکھا کہ حضرت علیؓ کے مقابلہ وہ خطا پر تھے؛ البتہ یہ اجتہادی خطاء تھی، اور اجتہادی خطاء قابل گرفت نہیں ہوتی، اور اس کی بناء پر طعن نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح حضرت معاویہؓ کی طرف سے یزید کی جانشینی بھی ان کی ایک اجتہادی خطاء تھی، جہاں تک یزید کی بات ہے تو امت کے کسی معتبر عالم نے اس کی بادشاہت کو برحق قرار دینے کی کوشش نہیں کی؛ بلکہ سلف صالحین کی ایک جماعت یزید پر لعنت کو جائز قرار دیتی ہے،امام احمد ؒؒ کا بھی ایک قول یہی ہے، اور بعض نے سکوت اختیار کیا ہے، پورے اموی اور عباسی دور میں جب بھی شاہان مملکت کا اہل بیت سے ٹکراؤ ہواتو اس زمانے کے علماء ربانیین کی تائید اہل بیت کے ساتھ رہی، جس کی ایک مثال خود امام ابو حنیفہؒ ہیں۔
اگرچہ واقعۂ کربلا کے بعد اہل بیت نے مادی اقتدار سے اپنا رشتہ توڑ لیاتھا؛ لیکن روحانی اقتدار ہمیشہ ان ہی کا قائم رہااور انھوں نے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی، اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ ہشام ابن عبدالملک نے اپنے والد کے زمانۂ اقتدار میں بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور حجر اسود تک پہنچنے کی بہت کوشش کی؛ لیکن اژدہام کی وجہ سے پہنچ نہیں پایا؛ چنانچہ اس کے لئے کرسی رکھ دی گئی، وہ اس پر بیٹھ گیا اور لوگوں کو دیکھنے لگا، اس کے ساتھ شام کی کچھ اہم شخصیتیں بھی تھیں، اتنے میں حضرت حسینؓ کے صاحبزادے امام زین العابدینؒ تشریف لائے، انھوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، جب وہ حجر اسود تک پہنچے تو پورا مجمع چھٹ گیا، انھوں نے بآسانی حجر اسود کا بوسہ لیا، ان کی یہ شان دیکھ کر اہل شام نے ہشام سے پوچھا: یہ کون شخص ہے، جس کا لوگوں پر اس قدر رعب ہے؟ ہشام کو اندیشہ تھا کہ اگر سچ کہا جائے تو کہیں اہل شام امام زین العابدینؒ کی طرف راغب نہ ہو جائیں، تو اس نے جھوٹ کہا: میں اِن کو نہیں پہچانتا، مشہور شاعر فرزدق وہاں موجود تھے، اُن سے رہا نہیں گیا اور انھوں نے اس موقع پر امام زین العابدینؒ کی تعریف میں ایک مبسوط قصیدہ کہا، جس میں انھوں نے کہا: ’’یہ وہ شخص ہے، جس کو مکہ کا ذرہ ذرہ جانتا ہے، جس کو بیت اللہ ، حِل اور حرم پہنچانتا ہے، یہ اللہ کے تمام بندوں میں سب سے بہتر شخص کی اولاد ہے، یہ صاحب تقویٰ ، پاک باز اور سردارِ قوم ہے، یہ حضرت فاطمہؓ کی اولاد ہے، اور اگر تم ناواقف ہو تو جان لو کہ اسی کے نانا پر سلسلۂ نبوت تمام ہوا، اور اس کے کیا کہنے! کہ اس کو تو عرب وعجم جانتا ہے‘‘ ہشام کو یہ اظہار حقیقت پسند نہیں آیا، اور اس نے فرزدق کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا (دیوان فرزدق: ۵۱۱–۵۱۲، حرف میم) یہ ایک مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بیت کی کیسی محبت مسلمانوں میں ڈال دی ہے، شاید اسی کا اثر ہے کہ آج تک سلوک واحسان اور اصلاح وتربیت کے سلاسل زیادہ تر مشائخ سادات کے ساتھ مربوط رہے ہیں۔
اہل سنت والجماعت کے بارے میں کچھ اس طرح کا پروپیگنڈہ کیا گیا ہے کہ گویا وہ صحابہ کو تو مانتے ہیں، اہل بیت کو نہیں مانتے، یہ بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے، خلفاء راشدین کے بعد علماء اہل سنت کی کتابوں میں سب سے زیادہ ذکرِ خیر اہل بیت ہی کا ہوتا ہے؛ کیوں کہ عام صحابہؓ کے مقابلہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کی ایک خصوصی نسبت حاصل ہے، صحیح نقطۂ نظر یہ ہے کہ تمام صحابہ لائقِ احترام اور لائق تعظیم ہیں، نہ یہ درست ہے کہ کسی صحابی کی شان میں گستاخی اور بدگوئی کی جائے، اور نہ یہ درست ہے کہ اہل بیت کے ساتھ ناانصافی ہو، یہاں تک کہ حضرت حسینؓ کے مقابلہ یزید کو برحق ثابت کیا جائے، اور بنو امیہ کے مظالم اور جوروجفا کی تاویلیں کی جائیں، یہ فکر ناصبیوںکی ہے، اور مختلف ادوار میں بعض مصنفین اس گمراہ کن فکر کے مبلغ رہے ہیں، موجودہ دور میں بھی بعض حضرات یزید کا’’ رضی اللہ عنہ‘‘ اور’’ رحمتہ اللہ علیہ‘‘ سے ذکر کرتے ہیں، یہ بلا شبہ اہل بیت سے بغض کا مظہر ہے، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ جو خود بنو امیہ میں سے ہیں اور جن کو خلیفہ راشد کہا جاتا ہے، ان کی مجلس میں ایک شخص نے یزید کو امیر المؤمنین کہا تو وہ اس درجہ ناراض ہوئے کہ اس کو بیس کوڑے لگوائے: قال أمیر المؤمنین یزید فأمر بہ فضرب عشرین سوطا (سیر اعلام النبلائ:۴؍۴۱) یزید کی سفاکیوں کا اندازہ اور تو اور خود اس کے بیٹے کو بھی تھا کہ جب اسے یزید کا جانشیں بننے کو کہا گیا تو اس نے اپنے والد کی حرکتوں کی وجہ سے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا (الصواعق المحرقہ:۱۳۴) حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فتنہ وفساد کے اندیشے سے حضرت عبدا للہ بن زبیرؓ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی اور اس میں سکوت اختیار کیا تھا، اس سے یزید کو غلط فہمی ہوئی کہ وہ اس سے محبت رکھتے ہیں، اس پس منظر میں اُس نے حضرت عبدا للہ بن عباسؓکو خط لکھا، اس کے جواب میں حضرت عبدا للہ بن عباسؓ نے تفصیلی خط لکھا، اس میں اس کی برائیاں گنوائیں، اور کہا کہ’’ تو حضرت حسین اور عبدالمطلب کے ان نوجوانوں کا قاتل ہے، جو ہدایت کے چراغ تھے، تم سے کیسے مجھے کوئی ہمدردی ہو سکتی ہے؟‘‘ (الکامل لابن اثیر:۳؍۴۶۶)
مشہور شافعی فقیہ عماد الدین کیا ہراسی نے یزید کے بارے میں لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام احمدؒ سے دونوں طرح کا قول منقول ہے، ایک یہ کہ یزید پر لعنت کی جا سکتی ہے، اور دوسرے یہ کہ سکوت اختیار کیا جائے؛ لیکن میرا ایک ہی قول ہے اور وہ یہ کہ اس پر لعنت کی جا سکتی ہے (وفیات الاعیان:۳؍۲۸۸) علامہ ابن جوزیؒ جیسے محدث وفقیہ نے اس موضوع پر مستقل کتاب ’’الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید‘‘ لکھا ہے، جس میں انھوں نے یزید کی مذمت اور اس پر لعنت کو جائز قرار دیا ہے، اس کا جرم صرف قتل حسینؓ ہی نہیں ہے؛ بلکہ حرمین شریفین کی بے حرمتی بھی ہے، جس نے تین دنوں کے لئے مدینہ میں قتل عام اور عصمت ریزی کی کھلی اجازت دے دی (فتاویٰ ابن تیمیہ: ۳؍۴۵۲) علامہ ذہبی جیسے محدث اور ناقد رجال نے خوب لکھا ہے کہ اس شخص نے اپنی حکومت کا آغاز حضرت حسینؓ کی شہادت سے کیا اور جب یہ مرا تو اس وقت اس کی فوج مکہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھی، وہ شراب بھی پیتا تھا، اور برے کام بھی کیا کرتا تھا: یتناول المسکر ویفعل المنکر افتتح دولتہ بمقتل الشھید الحسین واختتمھا بواقعۃ الحرّۃ (سیر اعلام النبلائ: ۴؍۳۸)
مشہور مؤرخ ابن عماد حنبلی نے لکھا ہے کہ اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ حضرت علی اپنے مخالفین سے لڑنے میں حق پر تھے اور اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ حضرت حسین کا یزید کے خلاف نکلنا اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور اہل حرمین کا بنو امیہ کے خلاف علم بغاوت اُٹھانا بہتر اور درست تھا (شذرات الذہب: ۱؍۲۷۶) مشہور مفسر علامہ آلوسی نے یزید کے بارے میں یہاں تک لکھا ہے کہ ’’ میرا گمان ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان نہیں رکھتا تھا،اور جو حرکتیں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد اطہار اور حرم الٰہی اور حرم نبوی کے رہنے والوں کے ساتھ کی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا قرآن پر بھی ایمان نہیں تھا، اور اگر اس خبیث کو مسلمان تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس نے اتنے کبائر اپنے اندر جمع کر لئے تھے کہ اسے بیان نہیں کیا جا سکتا، اور میری رائے تو یہی ہے کہ ایسے شخص پر بالتعیین لعنت کی جا سکتی ہے: وأنا أذھب الیٰ جواز لعن مثلہ علی التعیین ‘‘ (تفسیر روح المعانی: ۲۶؍۷۳) حضرت مجدد الف ثانیؒ یزید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’یزید بدبخت، صحابی نہیں ہے، اور اس کے بدبخت ہونے میں کوئی کلام نہیں، اس بدبخت نے ایسے کام کئے، جو فرنگی کافروں نے بھی نہیں کئے‘‘ (مکتوبات ربانی، دفتر اول، ص: ۱۳۳، مطبوعہ ترکی)
مشہور مفسر قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتیؒ نے یزید کو دین محمد ی کا منکر قرار دیا ہے ( تفسیر مظہری اردو: ۳۶۰۳۸) مولانا عبدالحئی صاحب فرنگی محلیؒ یزید کے بارے مین فرماتے ہیں’’ یزید کے متعلق اسلم ترین مسلک یہ ہے کہ اس بدبخت کو مغفرت اور رحمتہ اللہ علیہ کے کلمات سے ہرگز یاد نہ کرے اور نہ ہی لعنت سے اپنی زبان کو آلودہ کرے‘‘ (فتاویٰ عبدالحئی:۳؍۸-۹) یہاں تک کہ مشہور مؤرخ مسعودی نے یزید کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فرعون سے بھی بدتر تھا : بل کان فرعون أعدل منہ فی رعیتہ وأنصف منہ لخاصتہ وعامتہ (مروج الذہب: ۳؍۸۲)
جو سلف صالحین یزید اور اس کے گروہ پر لعنت کے قائل تھے، ان کے پیش نظر یہ حدیث تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے اہل مدینہ کو ڈرائے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس سے کوئی نفل قول کیا جائے گا اور نہ فرض (مصنف ابن ابی شیبہ عن جابر بن عبداللہ: ۳۲۴۲۷) اور یزید کی ہدایت کے مطابق اس کے گورنر مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ پر جو ظلم کیا، تاریخ میں مدینہ کی بے حرمتی اور پامالی کا پھر کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، علامہ زرقانیؒ نے مؤطا امام مالک کی شرح میں لکھا ہے کہ’’ اس نے تین دن مدینہ میں قتل وغارت گری اور عصمت ریزی کی کھلی اجازت دے دی تھی، یہاں تک کہ دس ہزار عورتیں اور بچے قتل کر دیے گئے، ایک ہزار سے زیادہ کنواری لڑکیاں حاملہ ہو گئیں، اور سات سو قراء شہید کر دیے گئے، پھر جبراََ ان سے یہ کہہ کر بیعت لی کہ تم سب کے سب یزید کے غلام ہو، اگر وہ چاہے تو آزاد کر دے، چاہے تو قتل کر دے‘‘ ( شرح زرقانی علی مؤچا امام مالک: ۳؍۱۱۸) اس ظلم وجور کا ذکر اکثر مؤرخین اسلام جیسے علامہ ابن کثیرؒ ، علامہ سیوطیؒ، حافظ ابن حجرؒ، حافظ ذہبیؒ اور علامہ ابن تیمیہؒ وغیرہ نے کیا ہے، ظاہر ہے کہ اہل مدینہ کو ڈرانے اور خوف زدہ کرنے کا اس سے بڑھ کر کیا واقعہ ہو سکتا ہے، جس کے مرتکب پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے؟
ایک موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :قریش کے نو عمر لڑکوں کے ہاتھوں میری امت کی ہلاکت ہوگی: ھلاک أمتی علی یدي غلمۃ من قریش (بخاری، حدیث نمبر: ۳۶۰۵) حضرت ابو ہریرہؓ یزید کو اس کا مصداق سمجھتے تھے، وہ کہتے تھے:’’ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ساٹھویں سال کے آغاز اور بچوں کے امیر بننے سے: أعوذ باللہ من رأس الستین وامارۃ الصبیان ‘‘اس سے ان کا اشارہ یزید کی حکمرانی کی طرف تھا(فتح الباری:۱؍۱۲۶، نیز دیکھئے: عمدۃ القاری:۲؍۱۸۵) حضرت ابو ہریرہؓ اس ہلاکت کی تشریح اس طرح کرتے تھے کہ اگر ان ظالموں کی اطاعت قبول کی جائے تو لوگ دین کے اعتبار سے ہلاک ہو جائیں گے، اور اطاعت نہ کی جائے تو دنیا کے اعتبار سے حکمراں انھیں ہلاک کر دیں گے (ارشاد الساری: ۱۰؍۱۷۰)
غرض کہ نہ یہ درست ہے کہ کسی صحابی یا خلفاء ثلاثہ اور امہات المؤمنین پر سب وشتم کیا جائے یا حضرت معاویہؓ اور حضرت عمروبن عاص ؓ کی تنقیـص کی جائے، اور نہ یہ درست ہے کہ اہل بیت کی عظمت دل سے نکل جائے، حضرت حسینؓ اور ان کے رفقاء کو باغی قرار دیا جائے اور یزید اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے دفاع کیا جائے، یہاں تک کہ اہل بیت اور صحابہ کے اس قاتل اور حرمین شریفین کے اس غارت گر کو ’’ رضی اللہ عنہ اور رحمتہ اللہ علیہ ‘‘ کے القاب سے یاد کیا جائے، ایسے لوگ اہل سنت نہیں ہیں؛ بلکہ ناصبی ہیں، اور امت کو توہین صحابہ اور توہین اہل بیت دونوں ہی فتنوں سے چوکنا رہنا چاہئے کہ یہی عدل اور اعتدال کا راستہ ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker