اخبارجہاں

ہندوستان پر دباؤ ڈالیں کہ کشمیر میں مواصلاتی سروسز کو بحال اور گرفتار افراد کو رہا کیا جائے :امریکی سینٹرز کا ٹرمپ کو خط ، ’کشمیریوں کے حالات روز بروز بدتر ہوتے جا رہے ہیں‘

واشنگٹن۔ ۱۳؍ستمبر: (بی بی سی اردو) چار امریکی سینٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کہا ہے کہ وہ ہندوستان پر دباؤ ڈالیں کہ کشمیر میں مواصلاتی سروسز کو بحال کی جبکہ حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کیا جائے۔ریپبلکن سینیٹر لنڈزے گراہم اور ٹاڈ ینگ کے علاوہ ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولر اور بین کورڈین نے کشمیر میں انسانی حقوق سے جڑے حالات کے سلسلے میں امریکی صدر کو خط لکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان سینیٹرز نے اپنے خط میں کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیر کے لوگوں کے لیے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں اس لیے انڈین وزیر اعظم مودی سے مواصلاتی نظام کی بحالی، کرفیو ہٹانے اور حراست میں لیے گئے کشمیریوں کو رہا کرنے کی درخواست کی جائے۔تاہم ان سینیٹرز نے پاکستان کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ دہشتگردوں کی حمایت بند کرے اور ایسے قدم نہ اٹھائے جس سے کشمیر میں گڑبڑی پھیلے۔ امریکی ایوان نمائندگان کے بھی کچھ ممبران نے کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں انڈین نژاد پرمیلا جے پال اور روہت کھنا بھی شامل ہیں۔وہیں کشمیر میں پیلٹ گن کا شکار بننے والی ایک خاتون نے بی بی سی کے ماجد جہانگیر سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 8 اگست کی شام وہ اپنے شوہر کے ساتھ سبزی لینے کے لیے گھر سے باہر نکلیں۔ وہ ابھی گھر کے گیٹ پر ہی تھیں جب انھوں نے لڑکوں کے ایک ہجوم کو اپنی جانب بھاگتے دیکھا۔بی بی سی اردو کے خصوصی پروگرام نیمروز میں ان کا کہنا تھا کہ اس ہجوم کے ساتھ ایک سکیورٹی اہلکار بھی موجود تھا۔وہ بتاتی ہیں کہ وہ اپنے گھر کے دروازے پر ہی کھڑی تھیں، جب انھوں نے اس سکیورٹی اہلکارکو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ مت مارو لیکن پھر بھی اس نے بندوق چلائی۔’میر ے شوہر نے مجھے کور کیا اور ان کی پیٹھ پر سارے پیلٹ لگ گئے۔ پانچ چھ میری بائیں آنکھ، ناک، چہرے، سر اور ہاتھ میں لگ گئے۔‘وہ کہتی ہیں کہ پیلٹ سے زخمی ہونے کی وجہ سے وہ اور ان کے شوہر ہر روز تکلیف میں گزار رہے ہیں۔وہ کہتی ہیں ’میرے ساتھ جو بھی ہوا بہت برا ہوا۔ ہم بہت کچھ کر رہے تھے۔ ہم سوچ رہے تھے کے آگے جا کر بہت کچھ کریں گے۔ لیکن جو بھی ہوا بہت غلط ہوا۔ ان لوگوں نے بہت غلط کیا۔ میں اپنے ہاتھوں سے کماتی تھی، میرے شوہر اور میں دونوں کام کرتے تھے۔ سوچا تھا اپنے لیے گھر بنائیں گے لیکن وہ بھی ختم ہو گیا۔‘یہ جو پیلٹ گن چل رہا ہے یہ سب ختم ہونا چاہیے، کافی لڑکوں اور لڑکیوں کی زندگی خراب ہو گئی۔ میں تو ایک آنکھ سے دیکھ سکتی ہوں لیکن کئی کی تو دونوں آنکھیں ختم ہو گئیں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker