مضامین ومقالات

کشمیر معاملہ: کون زیادہ کامیاب کانگریس یا بی جے پی؟

ـــــــ
از ـ محمود احمد خاں دریابادی

کشمیر اور ۳۷۰ پر آجکل جتنا لکھا اور بولا جارہا ہے شاید ہی اس سے پہلے کبھی اس پر اتنی چرچا ہوئی ہو ـ
پہلے تویہ جاننا چاہیئے کہ کشمیر کے لئے خصوصی درجہ یعنی ۳۷۰ کا مطالبہ کشمیری مسلمانوں نے نہیں بلکہ وہاں کے ہندو مہاراج ہری سنگھ نے کیا تھا، اس وقت کی گانگریسی حکومت نے اُن کے اس مطالبہ قبول کیا اور خارجہ پالیسی، دفاع، مواصلات اور نقدی جیسی چند چیزوں کو چھوڑ کر باقی سارے معاملات، یہاں تک کہ وہاں کا دستور اور پرچم بھی الگ تسلیم کرلیا گیا، ہندوستانی سپریم کورٹ کے فیصلے اور ملکی پارلیامنٹ میں پاس ہونے والے قوانین بھی وہاں نافذ نہیں ہوسکتے تھے ـ
ان خصوصی اختیارات کے حصول میں اُس وقت کے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا ـ اُس وقت کے بعض اپوزیشن لیڈران، خود کانگریسیوں کا ایک گروہ اور کچھ صحافیوں نے جب وزیر اعظم نہرو سے کشمیر کو خصوصی آرٹیکل ۳۷۰ دینے پر اشکال کیا تو نہرو نے کہا تھا فکر نہ کیجئے وقت گذر نے کے ساتھ ۳۷۰ بے اثر اور بھولی بسری چیز بن جائے گا ـ
اور پھر ہوا بھی یہی، داد دیجئے کانگریس کی چانکیہ نیتی کو، اس نے اپنے دور حکومت میں انتہائی خاموشی اور چالاکی سے ۳۷۰ کو بے سونڈ کا ہاتھی بنادیا ـ ۳۷۰ کے تحت پہلے کشمیر میں گورنر کے بجائے صدر ریاست ہوا کرتا تھا، وزیر اعلی کے بجائے وزیر اعظم ہوتا تھا، اب دوسری ریاستوں کی طرح وہاں بھی گورنر اور وزیر اعلی ہوتے ہیں، پہلے ہندوستانی پارلیمنٹ میں منظور شدہ قوانیں وہاں نافذ نہیں ہوتے تھے، اب رزرویشن اور کچھ دوسرے قوانین وہاں نافذ ہیں ـ اگر چند سال اور کانگریس کی حکومت رہ گئی ہوتی تو اُسی خاموشی کے ساتھ ۳۷۰ کا جوبرائے نام حصہ بچ رہا تھا وہ بھی رخصت ہوجاتا ـ……… جس وقت کشمیر میں ۳۷۰ نافذ ہوا تھا تب کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ میں زیرغور تھا، بلکہ تب کی کانگریسی حکومت کی خود اعتمادی دیکھئے کہ وہ خود اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے گئی تھی، کیونکہ حکومت کو یقین تھاکہ ہم جلد ہی ۳۷۰ سے پیچھا چھڑالیں گے بس فی الحال کسی طرح سے اس معاملے سے اقوام عالم کی توجہ ہٹائی جائے ـ
پھر اس کے بعد کانگریسی سیاست کا کمال یہ سامنے آتا ہے کہ پچھلے ہچاس برسوں میں پاکستان کی ہر ممکن کوشش کے باوجود کبھی یہ معاملہ اقوام متحدہ میں زیر بحث نہیں آیا، دنیاکے تمام ممالک نے گویا اس معاملے کو بھلادیا ـ
کانگریسی ڈپلومیسی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس نے ۳۷۰ کو ختم کرنے کا آغاز اُنھیں لوگوں سے کیا جو اس دفعہ کے سب سے بڑے حامی تھے ـ شیخ عبداللہ جو آزادی سے قبل ہی سے کشمیر کی سب سے بڑی آواز تھے، ہری سنگھ کی بدعنوانیوں اور انگریز کی مخالفت میں بارہا جیل بھی گئے، آزادی لے بعد اُنھیں کشمیر کا وزیر اعظم بننے کا موقع ملا ـ مگر ان کے جگری دوست جواہر لال نہرو نے ۳۷۰ کی تمام یقین دھانی کے باوجود انھیں جیل میں ڈال دیا اوراپنے خاص آدمی میر قاسم کو وزیر اعلی نامزد کردیا ـ شیخ عبداللہ کی پارٹی برسوں تک اس پر احتجاج کرتی رہی، مگر کانگریس نے کوئی توجہ نہیں دی، تب تک اندرا گاندھی ملک کی وزیر اعظم بن چکی تھیں، اب اُن کا کرشمہ دیکھئے کہ ہری سنگھ اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے اور اہنےجگری دوست نہرو کی ستم ظریفی سے آزادی کے بعد بھی برسوں تک جیل میں زندگی بسر کرنے والے سابق وزیر اعظم کشمیر شیخ محمد عبداللہ اندرا جی سے ملاقات کے بعد ایک عام وزیر اعلی بننے پر تیار ہوگئے، ………. اس طرح ۳۷۰ کے اختتام کی طرف سب سے بڑا قدم اُتھایا جاچکا تھا، تعجب یہ ہے کہ اس قدم پر نہ تو اندرون کشمیر کوئی ہنگامہ ہوا، نہ اقوام عالم نے اس کا کوئی نوٹس لیا ـ
آگے کانگریس نے ایک اور مہرے کو آگے بڑھایا، مفتی سعید جو کشمیر میں کانگریس کے بڑے لیڈر ہوا کرتے تھے اُنھوں نے پارٹی سے استعفا دیا، وی پی سنگھ جو خود بھی سابق کانگریسی تھے اُن کے ساتھ مفتی سعید شامل ہوگئے، وی پی سنگھ حکومت میں انھیں وزیر داخلہ بنادیا گیا ـ اُنھیں کی وزارت داخلہ کے دوران جگموہن جیسے فرقہ پرست جس نے ایمرجنسی کے زمانے میں دہلی جامع مسجد اور ترکمان گیٹ کے مسلمانوں کو اجاڑنے میں سب سے بڑا کردار ادا کیا تھا کو کشمیر کا گورنر بناکر بھیج دیا گیا، اُس کے کشمیر پہونچنے کے بعدجس طرح وہاں خونریزی ہوئی وہ تاریخ کا حصہ ہے ـ جگموہن ہی نے کشمیری مسلمانوں کو بدنام کرنے اور کشمیر کی فرقہ وارانہ یکجہتی کو نقصان پہونچانے کے لئے کشمیری پنڈتوں کو وہاں سے ہجرت کے لئے مجبور کیا، اس طرح کشمیری تنازع کو پہلی مرتبہ ہندو مسلم رنگ دیدیا گیا ـ
تعجب یہ کہ یہ ساری کارروائیاں ہوتی رہیں مگر کسی بھی عالمی پلیٹ فارم پر کوئی ہائے توبہ نہیں مچی، اندرون کشمیر ہونے والی مسلح سرگرمیاں آتنک واد اور پڑوسی ملک پاکستان کارستانیاں تھیں، جب بھی کسی عالمی شخصیت کا دورہ ہندوستان میں ہوتا اُس سے کچھ دن قبل وادی میں اتنکی حملہ ہوجاتا، مثلا امریکی صدر کلگٹن کی آمد سے قبل کشمیر میں سکھوں پر دیشت گردانہ حملہ ہوگیا تھا اوردنیا ایک بار پھر دہشت گردی کو مٹانے کے لئے سرگرم ہوگئی تھی ـ
اب ذرا بھاچپا کے چانکیہ امت شاہ کی نیتی ملاحظہ فرمالیں، بے ضرر ہوچکا ۳۷۰ جو صرف برائے نام بچا تھا اُس کو آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے پرٹھکانے لگانے کے بجائے اُنھوں نے خواہ مخواہ کی بہادری دکھاتے ہوئے یکلخت کالعدم کردیا اور وادی کشمیر میں غیر معینہ کرفیو اور عالمی میڈیا سمیت ہر باہری شخص کے داخلے پر پابندی لگادی ـ
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کے سرد خانے میں پڑا زنگ آلود تنازعہ کشمیر ۵۰ سال بعد سلامتی کونسل میں زیر بحث آگیا، سلامتی کونسل کی بحث کا نتیجہ کیا نکلا، کس کو کامیابی ملی یہ الگ بحث ہے، مگر ۵۰ سال بعد عالمی تنازعات کی پہلی قطار میں مسئلہ کشمیر کا آجانا ہماری بہت بڑی ناکامی ہے ـ
ہم یہ کہتے رہے ہیں کہ کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ ہے اس میں پاکستان یا کسی دوسرے ملک کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں، مگر ہمیں افسوس ہوتا ہے جب امریکی صدر کے سامنے ہمارے وزیر اعظم کـشمیر کے سلسلے میں تمام ہندوستانیوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کشمیری تنازعہ کو ہمارا اندورونی معاملہ بتانے کے بجائے اسے دوطرفہ معاملہ قرار دیتے ہیں ـ…….. اسی کانتیجہ ہے کہ ٹرمپ جیسے سنکی باربار زبردستی ثالث بننے کی کوشش کررہے ہیں، نیز وادی میں تقریبا ڈیڑھ ماہ کی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کو بڑے پیمانے پر کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالی کے سلسلے میں ہندوستان کو بدنام کرنے کا موقع بھی مل رہا ہے ـ
کاش ہماری موجودہ حکومت کے رہنما خواہ مخواہ بہادری کا ناٹک کرنے کے بجائے حکمت و مصلحت کے ساتھ ملک کے مفاد میں فیصلے کرتے ـ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker