مضامین ومقالات

سیاسی لیڈروں کی فحش ویڈیوز !

نازش ہما قاسمی
سیاسی لیڈر پردیپ جوشی، اوپین پنڈت، رینا ٹھاکر کے بعد اب سوامی چنمیانند کی فحش ویڈیو گردش میں ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سیاسی پارٹی میں شامل لیڈروں کی کیسی سوچ ہے۔ کبھی ایوان اسمبلی میں فحش ویڈیو دیکھی جاتی ہے، کبھی کلدیپ سنگھ سینگر جیسا انسان سامنے آتا ہے، کبھی آپسی رضامندی سے شادی شدہ جوڑا اپنی بیوی اور شوہر کو چھوڑ کر دوسرے کے شوہر اور دوسرے کی بیوی سے ہوس پوری کررہا ہے، کبھی کوئی مرد مرد سے اپنی شہوت کی تکمیل کررہا ہے کیا یہ ہندوستان کی شبیہ ہے کیا اسی طرح کی ویڈیو سے ملک کا نام روشن ہوتا ہے۔ شرم گاہ شاید اب شرم گاہ نہیں رہی، نمائش گاہ بن گئی ہے، جس طرح سے ان کی ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں ملک کے عوام تک پہنچ رہی ہیں اس کےبعد شرم گاہ کا نام بدل کر نمائش گاہ کردینا چاہیے؛ کیوں کہ مذکورہ لیڈران شرم گاہ کو شرم وحیا کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھپانے کے بجائے اپنی کرتوتوں سے نمائش کرکے عوام کے سامنے لارہے ہیں۔ اور لانے والے کوئی چھوٹے موٹے عام افراد نہیں مشہور پارٹی کے قد آور لیڈران ، ان سے منسلک یوا مورچہ کے عہدیداران، تنظیمی لیڈران شامل ہیں۔ حال ہی میں سوامی چنمیانند جو کہ بڑے سوامی ہیں، مرکزی وزیر رہ چکے ہیں، قد آور لیڈر کے طور پر مشہور ہیں، خوب طاقت وقوت کے مالک ہیں، پیسوں کی ریل پیل ہے۔ کالج ویونیورسٹی چلاتے ہیں، ان کے زیر اہتمام کئی آشرم ہیں۔ حکومت میں ان کی اونچی پہنچ ہے۔ وزیراعلیٰ سے لے کر وزیر اعظم تک ان کی رسائی ہے، انکی کالی کرتوت ایسی ہے کہ دیکھ کر دنیا شرمندہ ہوجائے؛ لیکن انہیں ذرہ برابر بھی شرمندگی نہیں، متاثرین کو دھمکیاں دے کر، انہیں خاموش کرانے کا ہنر جانتے ہیں وہ مجرم نہیں ہیں۔ میڈیا بھی ایسے پاکھنڈی کو سوامی کہہ کر پکار رہا ہے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر وہ بڑا لیڈر ہے تو اس کا گناہ گناہ نہیں؛ بلکہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ عوامی مفاد میں کیا گیا بہترین کام ہے۔ اسی طرح کا اگر کسی نام نہاد مولوی، پیر، یا بابا کا ویڈیو وائرل ہوتا تو پورا گودی میڈیا چیخ پڑتا، آسمان سر پر اُٹھالیتا، مذہب اسلام پر آوازیں کسی جاتیں کہ کیا مذہب اسلام میں یہی سب سکھایاجاتا ہے؛ حالانکہ مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ غلط کام ہر مذہب میں غلط ہی ہے؛ لیکن میڈیا والوں کو مرچ مصالحہ صرف قوم مسلم سے ہی دستیاب ہوتا ہے۔ آسام رام، رام رجیم، سوامی چنمیانند، پردیپ جوشی ، لکشمن سادوی، کلدیپ سنگھ سینگر وغیرہ قائدین ہیں، انہیں بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کی خبروں کو کوریج نہیں دیاجاتا ہے، چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر سوشل میڈیا کا دور نہ ہوتا تو شاید کسی کو کچھ معلوم بھی نہیں پڑتا کہ کیا ہوا اور ملک کے لیڈران کیسی کیسی حرکتوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ایسے معاملوں میں میڈیا والے تو اس وقت دھیان دیتےہیں جب معاملہ زیادہ ہی اچھال پکڑ لیتا ہے؛ ورنہ ان کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی سوامی، کسی پنڈت، کسی جوشی کی قبیح حرکتوں کو باہر نہ لایاجائے۔ چنمیانند کے وکیل نے کہا تھاکہ ان پر غلط الزامات لگائے جارہے ہیں، ان کی مقدس شبیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ روحانی شخصیت ہیں؛ لیکن وائرل ویڈیو نے ان کی تمام روحانیت کو آشکار کردیا ہے۔ پورے جسم سے روحانیت ٹپک رہی ہے۔ لڑکی کے ہاتھ جب اس کے جسم پر مساج کے لیے پڑتے ہیں تو سوامی جی کا انگ انگ سکون پاتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ویڈیو میں سوامی جی ننگے ہوکر مساج کرا رہے ہیں اور مساج کرنے والی لڑکی سے کہہ رہے ہیں کہ ۶؍تاریخ کے بعد تم کورٹ میں بیٹھنا شروع کردو، لڑکی کہتی ہے کہ چھ تاریخ کے بعد ہی ملوں گی اب تو گنے چنے دن بچے ہیں، اس پر سوامی جی فرماتے ہیں تم گھر سے کورٹ جاؤ، ہاسٹل بند کردیں گے، کیا کریں گے جب کوئی یہاں رہے گا نہیں۔ سوامی جی لڑکی کے اندرونی کپڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں جس پر لڑکی کہتی کہ میں پہنتی ہوں رات میں سوتے وقت نکال لیتی ہوں۔ سوامی جی لیٹے لیٹے مساج کا آنند لیتے ہوئے کہتے ہیں جس کا دھیان رکھنا چاہیے تم رکھتی نہیں ہو۔ اور بھی دیگر باتیں ہوتی ہیں یہ ویڈیو لڑکی نے کمال چالاکی سے چشمے میں فٹ کیمرے کے ذریعے بنائی ہے؛ تاکہ وہ دنیا کو دکھاسکے کہ کالج کی طالبات کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ اور یہاں کس طرح کے گندے کام پروان چڑھتے ہیں۔ ایک کالج کا سربراہ کس طرح کے گھناؤنے کام میں ملوث ہے۔ باپ کی عمر کا اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی سے اپنے جسم پر ہاتھ لگواتا ہے، اس سے نجی سوال پوچھتا ہے۔ اس سے پہلے بھی سوامی پر عصمت دری کاالزام لگ چکا ہے۔ گزشتہ سال اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے چنمیانند کے خلاف درج ریپ اور اغوا کے معاملے واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔یہ کیسا لیڈر ہے اور کس پارٹی کا ترجمان ہے۔ کیا اس پارٹی میں ایسے ہی لوگوں کی اکثریت ہے۔ کیا ان لوگوں کی کالی کرتوتوں سے ملک کا نام روشن ہوتاہے؟ ۔ وزیر داخلہ رہ چکا شخص کس طرح کی حرکتیں کرتا ہے نئی نسل کو یہ کیا پیغام دے گا۔ یہی نہ کہ اپنی شہوت کی تکمیل کےلیے ماں، بہن، بیٹی کی عمر کوئی معنی نہیں رکھتی آپ صاحب اختیار ہیں تو سب کچھ کرسکتے ہیں کوئی آپ کا بال بیکا نہیں کرسکتا، لیکن ملک میں ابھی انصاف کی امید باقی ہے سپریم کورٹ نے اس معاملے میں دخل اندازی کی ہے امید ہے کہ جلد ہی سوامی پاکھنڈی ثابت ہوجائے گا اور اس کے کالے کرتوت مزید عیاں ہوں گے جس سے پارٹی کا نام روشن ہوگا اور معلوم پڑےگا کہ اس پارٹی کے لوگ کیسی کیسی ذہنیت کے مالک ہیں، یہاں کس کس طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں اور کن کن جرائم میں ملوث ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker