ہندوستان

ہندی کو ملک کی زبان بنانے کے بیان پر اپوزیشن برہم! امیت شاہ نے کہا ’ہندی کو سارے ملک کی زبان بنایاجائے؛ تاکہ غیر ملکی زبانیں یہاں سے نکالی جاسکیں‘، ہندوستان، ہندی ، ہندو اور ہندومذہب سب سے کہیں بڑا: اویسی، تمل ناڈو کے سیاست داں اسٹالن کا سوال ’یہ انڈیا ہے یا ہندیا‘؟، کانگریس نے کہا امیت شاہ کا نظریہ ملک کے لیے خطرہ

نئی دہلی۔۱۴؍ستمبر: (دی وائر اردو؍ایجنسیاں ) یوم ہندی کے موقع پر وزیر داخلہ امت شاہ نے ہندی کو پورے ملک کی زبان بنانے اور اس کے ذریعے پورے ملک کو جوڑنے کی اپیل کی ہے جس پر اپوزیشن نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ایک پروگرام کے دوران امت شاہ نے کہا کہ مختلف زبانیں اور بولیاں ہمارے ملک کی طاقت ہیں لیکن اب ملک کو ایک زبان کی ضرورت ہےتاکہ یہاں پر غیر ملکی زبانوں کو جگہ نہ مل پائے۔ اسی لئے ہمارے مجاہدین آزادی نے ہندی کو’راج بھاشا’کے طور پر قبول کیا تھا۔شاہ نے کہا،کئی زبان کئی بولیاں لوگوں کو لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے لئے بوجھ ہیں، مجھے لگتا ہے کہ کئی زبان کئی بولیاں ہمارےملک کی سب سے بڑی طاقت ہے لیکن ضرورت ہے کہ ملک کی ایک زبان ہو، جس کی وجہ سے غیر ملکی زبانوں کو جگہ نہ ملے۔ میں مانتا ہوں کہ ہندی کو طاقت دینا، نشرو اشاعت کرنایہ سب ہماری قومی ذمہ داری ہے۔نوبھارت ٹائمس کی خبر کے مطابق شاہ نے یہ بھی کہا،میں ملک کے تمام شہریوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ جب دنیا کے 20 فیصد سےزیادہ لوگ ہندی میں بات کر سکتے ہیں، ہندی پڑھ سکتے ہیں، ہندی میں اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں تو کیوں نہ اس سمت میں جائیں کہ ہندی دنیا میں سب سے زیادہ بولنے والی زبان بنے اور اقوام متحدہ کو بھی منظور کرنا پڑے کہ ہندی دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔شاہ نے یوم ہندی پر ملک کو مبارکباد دیتے ہوئے ٹوئٹ بھی کیا،آج یوم ہندی کے موقع پر میں ملک کے تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہم اپنی-اپنی مادری زبان کے استعمال کو بڑھائیں اور ساتھ میں ہندی زبان کا بھی استعمال کر کے ملک کی ایک زبان ،باپو اور سردار پٹیل کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں اپنی خدمات دیں۔ شاہ نے کہا کہ آج ملک کو یکجہتی کی ڈور میں باندھنے کا کام اگر کوئی ایک زبان کر سکتی ہے تو وہ سب سےزیادہ بولی جانے والی ہندی زبان ہی ہے۔ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے کہا کہ ہندی ہندوستان میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے جو ہم تمام ہندوستانیوں کو یکجہتی کے دھاگہ میں پروتی ہے اور دنیا میں ہماری پہچان بھی ہے۔ آئیے ہم تمام اپنے روز مرہ کی زندگی میں ہندی کے استعمال کو بڑھائیں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں۔حالانکہامت شاہ کے یوم ہندی کے موقع پر ہندی کو پورے ملک کی زبان بنانے کے بیان پر حزب اختلاف نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی سالمیت کو متاثر کرنے والا بیان قرار دیا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس سمیت پڈوچیری کے وزیر اعلی نارائن سامی ، ڈی ایم کے کے ایم کے اسٹالن اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے شدید رد عمل کا اظہار کیا جب کہ ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے یوم ہندی کے موقع پر نیک خواہشات پیش لیکن کہا کہ تمام زبانوں اور ثقافتوں کا یکساں طور پر احترام کیا جانا چاہئے۔شاہ کے بیان پر کانگریس نے نے ٹوئٹ کر کہا ہے کہ ’’امت شاہ جی، زبان کا تنوع ہمارے عظیم ملک کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔ خود ہندی نے بھی اپنی رواداری اور تنوع کے سبب ہی دیگر زبانوں کے الفاظ قبول کیے ہیں اور خود کو خوشحال بنایا ہے۔ ہندوستان تو اتحاد کے مالا میں بندھا ہوا ہے۔ آپ کے نظریات سے ہی اسے خطرہ ہے، زبانوں سے نہیں۔‘‘دڑاوڑ منیتر کژگم (ڈی ایم کے) پارٹی کے صدر ایم کے اسٹالن نے سوال کیا کہ یہ ’انڈیا‘ ہے یا ’ہندیا‘۔مسٹر اسٹالن نے کہا کہ ملک کی طاقت کثرت میں وحدت میں ہے اور یہ ہندوستانی ثقافت کی شناخت ہے۔ انہوں نے کہا ، ’’جب سے بی جے پی کی زیرقیادت حکومت اقتدار میں آئی ہے کئی وجوہات کی بناء پر وہ ملک کی اس شناخت کو ختم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے تمل زبان کو بچانے کے لئے ہندی زبان کے تسلط کی ہمیشہ مخالفت کرتی آئی ہے۔اس کے علاوہ ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ورکن پارلیمنٹ صدر اسدالدین اویسی نے ٹوئیٹ کرکے کہا ، ’’ہندی ہر ہندوستانی کی مادری زبان نہیں ہے۔ کیا آپ مختلف مادری زبانوں کی تنوع اور خوبصورتی کی تعریف کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟ آئین کی دفعہ 29 ہر ہندوستانی کو ایک الگ زبان بولنے اور ثقافت کا حق دیتی ہے۔ انہوں نے کہا ،’’ ہندوستان ہندی ، ہندو اور ہندو توا سے بہت بڑا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندی ملک کے ہر ہندوستانی کی مادری زبان نہیں ہے اور ہندوستان ہندی، ہندو اور ہندو مذہب سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔انہوں نے ایک نیوز چینل کے ذریعے شیئر کئے گئے وزیر داخلہ کے ویڈیو پر جواب دیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا،ہندی ہر ہندوستانی کی مادری زبان نہیں ہے۔ کیا آپ اس ملک کے تنوع اور کئی اور مادری زبان کی خوبصورتی کی تعریف کر سکتے ہیں؟ آرٹیکل 29 ہر ہندوستانی کو الگ زبان، رسم الخط اور تہذیب کا حق دیتا ہے۔مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی کہا ، ’’یوم ہندی مبارک ہو۔ ہمیں تمام زبانوں اور ثقافتوں کا احترام کرنا چاہئے۔ ہمیں دوسری زبانیں بھی سیکھنا چاہئے لیکن مادری زبان کو نہیں بھولنا چاہئے۔ آل انڈیا انا دڑاوڑ مننیترکژگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے ترجمان نے بھی ہندی زبان کو ملک کی زبان بنانے کے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر شاہ کا یہ بیان ملک کے اتحاد کوتوڑ جاسکتا ہے۔ترجمان نے کہا ، ’’وزیر اعظم نریندر مودی نے متعدد بار تمل زبان کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اپنے الفاظ پر قائم ہیں۔‘‘اس کے علاوہ ، پڈوچیری کے وزیر اعلی وی نارائن سامی نے مسٹر شاہ کے اس بیان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ، ’’ہندی کو ملک کی زبان بنا نے سے ملک کو ایک ساتھ نہیں رکھا جاسکتا۔ ہندوستانی حکمرانی کے بنیادی اصول کے مطابق ، تمام زبانوں ، مذاہب اور ثقافتوں کا احترام کیا جانا چاہئے۔واضح ہو کہ ہندوستان میں قومی سطح پر دو سرکاری زبانیں ہیں جبکہ 22 زبانوں کو ریاست کی زبان کا درجہ حاصل ہے لیکن ملک میں ابھی تک کسی کو قومی زبان کا درجہ حاصل نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker