مضامین ومقالات

محمود مدنی صاحب ، ریجیکٹ نظام مصطفٰی اور جمعیۃ یوتھ کلب

مفتی غلام رسول قاسمی
سب ایڈیٹر بصیرت آن لائن
Gulamrasool939@gmail.com
کسی کی کسی بھی بات کا رد یا تنقید کرنے سے قبل اس کا پس منظر جاننا ضروری ہوتا ہے.نیز تنقید کرنے کے لیے کبھی ذاتیات پہ نہیں جانا چاہیے، اختلاف رکھیے؛ لیکن گالم گلوج ،طعن و تشنیع نہیں، اس سے آپ کی تربیت کا پتہ بھی چلتا ہے، ایک بیان میں محمود مدنی جی کہہ رہے ہیں “ہم نے نظام مصطفی کو ریجیکٹ کیا تھا” ان کی مکمل بات کو فتین اور بدخواہ حضرات کاٹ کر کلپ نشر کر رہے ہیں جس سے سادہ دل مسلمان تذبذب کے شکار ہو رہے ہیں، در اصل مذکورہ بات محمود مدنی صاحب نے  ایک اجلاس عام میں تقریباً دو سال قبل کہی تھی اور اب اس سے رجوع بھی کرچکے ہیں (علی احمد کی پوسٹ پر میرا تبصرہ جو کہ چند ساعت قبل لکھا ہے) آپ بھی پڑھ لیں !
آپ سمجھ نہیں پائے شاید اس بیان کا پس منظر!
ہندوستان کے  بٹوارے کے وقت پاکستان بنانے کے لیے کئی نعرے لگے تھے، ان میں سے ایک نعرہ پاکستان کے لیے پاکستان میں “نظام مصطفی” قائم کرنے کا  بھی لگ رہا تھا؛ لیکن مولانا ابو الکلام آزاد و دیگر علماء نے ہندوستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی اور لوگوں کو ترغیب بھی دی تھی اور سب کو ان نعروں سے دھوکے میں نہ آنے کو کہہ رہے تھے ( دیگر نعروں کے ساتھ اس نعرے کو بھی ریجیکٹ کر دیا تھا).
چنانچہ آپ دیکھ لیں پاکستان تو بن گیا، نصف صدی ہو گئی؛ لیکن ابھی تک وہاں نظام مصطفی قائم نہ ہو سکا.
اس بات کا بتنگڑ بنا کر لوگ انھیں زندیق و کافر تک کہہ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف کئی سالوں سے (آپ اپنا دفاع کیسے کریں) جمعیۃ یوتھ کلب نام سے آرگنائزیشن چلا رہے ہیں جس میں نونہالان قوم کو سیلف ڈیفنس سکھایا جاتا نیز اس کلب کا اور اس کے سیکھنے سکھانے والوں کا ایک مخصوص ڈریس ہے، مدھیہ پردیش میں پرسوں اس کلب کا ایک پروگرام تھا جس میں انھوں نے وہاں کے اساتذہ کی ہم آہنگی کرتے ہوئے جمعیۃ یوتھ کلب کا ڈریس زیب تن کر لیا، اس پر بھی کچھ احباب کو تنقید کرنے کا موقع ملا اور بھرپور تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں، طرح طرح کے القابات دے رہے ہیں، یہ سراسر گستاخانہ باتیں ہیں، کم از کم وہ عالم ہیں اس کا بھی خیال رکھیے! (بھائی میں بھی ان کی کئی باتوں پر عدم اتقاق کے ساتھ اختلاف رکھتا ہوں؛ لیکن اس طرح تو نہیں جو آپ حضرات انجامِ عقبیٰ کی پرواہ کیے بغیر کر رہے ہیں.
مفتی غلام رسول قاسمی
8977684860
Gulamrasool939@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker