ہندوستان

مودی حکومت کے اقدامات اقلیت مخالف، ماب لنچنگ، این آر سی ، یو اے پی اے ، طلاق ثلاثہ، تعلیم کا بھگوا کرن، تحفظ مدارس سے متعلق آل مہاراشٹر نمائندہ اجلاس میں اورنگ آباد اعلامیہ ۲۰۱۹ جاری

اورنگ آباد : ۱۵؍ ستمبر ( رفیع الدین رفیق کی رپورٹ )کل جماعتی وفاق’’ مسلم نمائندہ کونسل اورنگ آباد ‘‘کے زیر اہتمام ’’کل مہاراشٹر نمائندہ اجلاس ‘‘منعقدہ اورنگ آباد کا یہ احساس ہے کہ موجودہ حکومت کے اقدامات اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے خلاف اٹھائے جاتے رہے ہیں ، بالخصوص طلاق ثلاثہ اور این آر سی کے سلسلے میں جانبداری کا رجحان واضح ہے ۔ یہ اجلاس مسلمانوں سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ نکاح ، طلاق ، وارثت وقف کے تنارعات کو دارالقضاء وشرعی فیصلوں کو ماننا بھی شریعت پر چلنا ہے ۔ اس طرح کا اعلامیہ اورنگ آباد میں منعقدہ آل مہاراشٹر نمائندہ اجلاس کے بعد مولانا عمرین محفوظ رحمانی ( سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ) نے پریس کانفرنس میں جاری کیا اور پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔اس موقع پر مولانا عبدالحمید ازہری ، مولانا ابوطالب رحمانی ( رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ) عبدالرشید انجینئر ( نائب صدر کل ہند تعمیر ملت حیدرآباد ) ، ضیاء الدین صدیقی ( صدر مسلم نمائندہ کونسل ) ، مولانا محفوظ الرحمن فاروقی (رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ )موجودہ تھے ۔ کل مہاراشٹر نمائندہ اجلاس میں مہاراشٹر بھر سے سرگرم ملی ، تعلیمی ، سماجی ، دینی قائدین اور اسلامک اسکالرس شریک ہوئے ۔ شرکائے اجلاس کے سامنے ’’ یو اے پی اے ، این آر سی عملاً کیا کیا جائے ؟ (ایڈوکیٹ ابوبکر صباق ، سپریم کورٹ دہلی ) ، تحفظ مدارس اور ہماری ذمہ داریاں ( مولانا ابوظفر حسان ندوی ازہری ، ممبئی ) ، تعلیم کا بھگوا کرن۔۔اندیشے و امکانات ( سید متین الدین قادری ، سیکریٹری مجلس تعمیر ملت حیدرآباد ) ، مسلم پرسنل لاء کا تحفظ ۔۔ طلاق ثلاثہ کے تناظر میں ( مولانا ابوطالب رحمانی ، رکن مسلم پرسنل بورڈ ) ’’ماب لنچنگ مسئلہ اور اس کا حل‘‘کے عنوان پر مولانا عمرین محفوظ رحمانی (سیکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ ) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تمام تقاریر کے بعد سوالات و جوابات کا موقع شرکائے اجلا س کو دیا گیا ۔ شرکاء اجلاس کی تجاویز کے بعد قراردادیں پیش و منظور کی گئیں ۔مولانا عبدالحمید ازہری کی صدارتی خطاب و دعاپر اجلاس اختتام پذیر ہوا ۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اعلامیہ اورنگ آباد ۲۰۱۹ء پیش کیا گیا ۔ جس میں این آر سی سے متعلق کہا گیا ہے کہ : این آر سی آج آسام میں لاگو کیا گیا ہے اور حکومت اسے پورے ملک کے لیے ضروری سمجھ رہی ہے ۔ یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا کہ ایسی کوئی قانونی اسکیم ملک پر لاگو نہ کی جائے جس سے بھارتی شہریوں کو غیر ملکی ہونے کا احساس پیدا ہو ۔ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کسی مہذب دنیا میں ایسا نہیں ہوتا کہ اپنے ہی شہریوں کو غیر ملکی قراردے دیا جائے ۔ اس ضمن میں اجلا س مسلمانوں سے اپنی دستاویزات کو اپڈیٹ رکھنے ، الیکشن کارڈ ، آدھا کارڈ ، راشن کارڈ اور تعلیمی و جائیدادی دستاویزات ٹھیک رکھنے کی اپیل کرتا ہے ۔ ٹاڈا کو پوٹا سے بدلا گیا اور اب پوٹا کی جگہ یو اے پی اے میں شدید ترمیمات کی گئیں ۔ ٹاڈا اور پوٹا جو منسوخ کردئیے گئے ان میں زیادہ اقلیتوں کو جھوجھنا پڑا ہے ۔ یو اے پی اے کو مزید دھاردار بناکر ایسا کردیا گیا ہے جس سے حکومت کو عدالت کے بغیر کسی کودہشت گرد قرار دینے کا اختیار مل گیا ہے ۔ جو دستوری و آئینی روح کے خلاف ہے اس سے مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہورہا ہے ، حکومت اس بے چینی کو رفع کرتے ہوئے یو اے پی اے کو دستوری بنیادی حقوق کے تابع رکھے ۔اس کے علاوہ اعلامیہ میں ماب لنچنگ ، تعلیمی پالیسی ، مدارس اسلامیہ کا تحفظ اور دفعہ ۳۷۰؍ دفعہ ۳۵( اے ) اور کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بھی قراردادیں پیش کی گئیں ۔تادم تحریر شہر کی تاریخی جامع مسجد میںمسلم نمائندہ کونسل کے بینر تلے مذکورہ بالا اعلامیہ اور نمائندہ اجلاس میں پیش کردہ عنوانات پر اجلاس عام جاری ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker