ہندوستان

پختہ ثبوت کی جگہ آستھا کی بنیاد پر دعویٰ کیوں پیش کیاجارہا ہے؟ مولانا سید ارشد مدنی کا سبرامنیم سوامی کے بیان پر سخت رد عمل

نئی دہلی۔ ۱۶؍ستمبر: جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی بی جے پی لیڈرسبرامنیم سوامی کے تازہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہارکیا ہے اور یہ سوال بھی کیا ہے کہ آخر اس بیان کا کیا مطلب نکالاجائے؟ کیا یہ دھمکی کی زبان نہیں ہے اور کیا یہ عدالت کی توہین کا معاملہ نہیں ہے؟قابل ذکر ہے کہ سبرامنیم سوامی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ جب چاہیں گے رام مندرکی تعمیر کرلی جائے گی مگر عدالت کے احترام میں اکثریت طبقہ ابھی تک خاموش ہے، مولانا مدنی پوچھا کہ کیا اس طرح کی بات کہنا اکثریت کواکسانے اور اشتعال دلانے جیسانہیں ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ اپنے اس بیان میں سبرامنیم سوامی نے آگے بڑھ کر یہ بات بھی کہہ دی ہے کہ اس معاملہ کا فیصلہ آنے کہ بعد متھرااورکاشی کو مسجد سے آزادکرانا ان کا مشن ہوگا اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ خاموش بیٹھنے والے نہیں ہے بلکہ ان کے خطرناک منصوبے کچھ اور بھی ہیں، واضح ہوکہ اپنے اسی بیان میں سوامی نے یہ بھی کہا ہے کہ ایودھیاقضیہ کا فیصلہ آستھاکی بنیادپر ہی آئے گا، مولانا مدنی نے سوال کیا کہ آخرسبرامنیم سوامی کس بنیادپر ایسا کہہ رہے ہیں جبکہ سپریم کورٹ بارباریہ وضاحت کرتی آئی ہے کہ یہ آستھانہیں بلکہ زمین کی ملکیت کا معاملہ ہے، انہوں نے کہا کہ ابھی چندروزپہلے اترپردیش کے ایک وزیر نے بیان دیا تھا کہ سپریم کورٹ ان کی ہے اس لئے فیصلہ ان کے حق میں آئے گا اور اب بی جے پی کے ایک سینئر لیڈربھی کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ آستھا کی بنیادپر ہی آئے گا اسے کیا سمجھا جائے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اس روز ریاستی وزیر کا جو بیان تھا جمعیۃعلماء ہندکے وکلاء نے عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی تھی اور اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار بھی کیاتھا مگر افسوس کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور قابل اعتراض بیانات کا سلسلہ رک نہیں رہاہے اس لئے ہم عدالت سے یہ درخواست کریں گے کہ وہ اس پر سنجیدگی سے نوٹس لے اور جولوگ اس طرح کے بیانات سے ماحول کو خراب کرنے کی دانستہ کوششیں کررہے ہیں ان کو قانون کی گرفت میں لایاجائے، مولانا مدنی نے کہا کہ اب جبکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں اس پر حتمی بحث چل رہی ہے اس طرح کے بیانات کا سامنے آنا عدالت کی توہین کے مترادف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker