مضامین ومقالات

“حسنِ کرشمہ ساز”

تحریر: معوذ سید
——————————————————————–

ایک معزز ہستی کی ایک تحریر نظر سے گزری، ساتھ ہی میرے بڑے بھائی جیسے ایک عزیز کی فرمائش ملحَق تھی کہ اس پر اظہارِ خیال کیا جائے.

صاحبِ تحریر مولانا محمود مدنی کو تاریخ پڑھا رہے تھے اور ان سے شکایت کر رہے تھے کہ آپ “دیش دیش” کیوں کر رہے ہیں؟

فرمایا: آپ دیش دیش کی تکرار میں حکومتِ ہند کے عہد شکن اقدامات کو کیوں بھول جا رہے ہیں؟ موجودہ حکومت نے دفعہ 370 ہٹا کر بدعہدی کی، اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق استصوابِ رائے نہ کرا کر بدعہدی کی، شملہ معاہدہ کی پابندی نہ کر کے بدعہدی کی……الخ!

اگر آپ نے میری ہی طرح کم از کم کچھ یہاں وہاں کی معلومات بھی یکجا کر رکھی ہوں گی تو آپ جانتے ہوں گے، کہ 1956 میں کشمیر آئین ساز اسمبلی کی جانب سے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیے جانے کے بعد، 1972 کے شملہ معاہدے میں بھارت و پاکستان دونوں کی جانب سے اقوام متحدہ کو اس مسئلے سے لاتعلق کر دیے جانے کے بعد، 1975 میں اندرا گاندھی اور شیخ عبداللہ کے معاہدے کے بعد، 2001 میں ہند و پاک کے دورے پر آئے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کوفی عنان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو “تجویزِ محض” قرار دیے جانے کے بعد اور 2003 میں پاکستان کے سربراہِ مملکت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو کنارے لگا دینے پر اظہارِ رضامندی کے بعد، اقوام متحدہ کی استصوابِ رائے کی قرارداد کیا حیثیت رکھتی ہے اور آج 2019 میں اس کا حوالہ دینے کے عمل کو “تاریخی قابلیت” سمجھنا کس درجہ مضحکہ خیز ہے!

فاضل موصوف نے محمود صاحب سے یہ شکایت بھی کی ہے کہ آپ حکومت سے “شملہ معاہدے” کی عہد شکنی پر سوال کیوں نہیں کرتے؟ 1972 کا شملہ معاہدہ ایک سطر میں یہ تھا کہ بھارت اور پاکستان اپنے مسائل کو صرف اور صرف بات چیت سے حل کریں گے. اب بتلائیے، 1999 میں کارگل میں پاکستان کی جو فوج “بات چیت” کرنے آئی تھی، اس کے تشریف لے آنے کے بعد شملہ معاہدے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ خود عہد شکن کی جانب سے جب عہد شکنی کا شکوہ کیا جائے تو اسی کو “حسنِ کرشمہ ساز کا جلوہ” کہتے ہیں.

دفعہ 370 ہٹانے کے عمل کو اس کے طریقِ کار کی بنیاد پر کشمیریوں سے بدعہدی قرار دینا معقول بات ہے، اور اِسی لیے محمود صاحب نے ٹی وی پر 370 کے حوالے سے مسلسل یہی بات کہی کہ “ہمارے اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن نیشنل انٹی گریٹی کے حق میں ہم دیش کے ساتھ ہیں”، اور انہی “اختلافات” کا ذکر اس متفقہ قرارداد میں آ چکا تھا جو اس سے پہلے منظور ہوئی تھی.

لیکن ابھی بات مکمل نہیں ہوئی، اصل سوال تو باقی ہے. اصل سوال یہ ہے کہ محمود صاحب “دیش دیش کیوں کر رہے ہیں؟”. جواب لینے کے لیے ذرا اوپر چلیے، وہ دو “معاہدات” جن کی “شکستگی” پر فاضل موصوف کو دُکھ ہے، ان میں فریقین کون ہیں؟ ہندوستان اور پاکستان ہیں. اگر بالفرض ہندوستان نے عہد شکنی ہی کی ہے، تو کس سے عہد شکنی کی ہے؟ فریقِ ثانی پاکستان سے. آخر آپ کیوں اس فریقِ ثانی کی وکالت میں کھڑے ہو گئے؟ اگر استصوابِ رائے کی قرارداد کے قطعاً بے معنی و بے اثر ہو جانے کے بعد بھی آپ کو استصوابِ رائے کرانے کی تمنا ہے، تو اس کا سیدھا مطلب تو یہ ہے کہ آپ “کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے” پر اب تک اٹوٹ وشواس نہیں پیدا کر پائے.

جی ہاں، آپ درست سمجھے، ناقص معلومات، ناپختہ شعور اور بے تحاشا جذبات کے اِسی طوفان پر بندھ باندھنے کے لیے محمود مدنی کو دیش دیش کرنا پڑتا ہے. اگر وہ ایسا نہ کرے، تو جانتے ہیں کیا ہو گا؟ اُدھر باہر کی جانب وہ ناکام سفارتی لابی ہے جو مسلمانانِ ہند کے کاندھے پر بندوق رکھ کر چلانے کی کوشش میں ہے، اور جن کے وزیرِ اعظم نے پبلک ریلی میں “بھارت کے 20 کروڑ مسلمان شدت پسندی کا راستہ اختیار کر لیں گے” جیسی احمقانہ بیان بازیاں کی ہیں، اور اِدھر اندر کی جانب دانشورانِ قوم کی یہ بے دانشی ہو گی جس کا ابھی آپ نے مشاہدہ کِیا. عین اِنہی دو عناصر یعنی بیرونی مداخلت اور اندرونی بے سمت شدت پسندی نے کشمیر کو تباہ کِیا ہے، اور خدانخواستہ یہی دو عناصر آپ کو بھی تباہ کر دیں گے!

آخری بات، کشمیری عوام کے لیے حقوق و حالات کی بحالی، ثقافتی شناخت اور سماجی وقار کے تحفظ کی آواز پہلے بھی اور ابھی پانچ دن قبل بھی اسی محمود مدنی نے اٹھائی ہے، جس آواز کو انڈین ایکسپریس کے سِوا کسی نے نہیں سننا چاہا. ہمارے اپنوں نے بھی شاید اس لیے نہیں سننا چاہا، کہ محمود مدنی نے حسبِ عادت یہ کڑوا سچ بول دیا تھا کہ کشمیری عوام چکی کے دو پاٹ میں پِس رہے ہیں، یہ سچ بہت ناگوار گزر جاتا ہے، لیکن یہی سچ کل 15 ستمبر کو نیویارک ٹائمز نے اس شدت کے ساتھ پیش کِیا ہے کہ شاید اس آئینے میں بہت سے لوگ اپنی صورت نہ دیکھ سکیں. اس رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ کشمیر کے حالات کو معمول پر نہ آنے دینے کے لیے علاحدگی پسندوں نے باقاعدہ طور پر سخت ترین سماجی پابندیاں لگا رکھی ہیں حتی کہ وہ کشمیری عوام پر پر گولی چلا دینے سے بھی گریز نہیں کر رہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker