ہندوستان

نوعمر کشمیری قیدیوں پر سپریم کورٹ کو تشویش، صورتحال انتہائی سنگین، ضرورت پڑی تو میں خود وادی کا دورہ کروں گا: چیف جسٹس آف انڈیا کا اعلان

ریاست کی صورتحال پر مرکز سے رپورٹ طلب، غلام نبی آزاد اور یوسف تاریگامی کو کشمیر جانے کی اجازت

نئی دہلی۔۱۶؍ستمبر: آج سپریم کورٹ نے جموں کشمیر میں مواصلاتی ذرائع پر لگی پابندیوں کو ہٹانے کی عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے جہاں مرکزی حکومت کو یہ ہدایت دی کہ وہ قومی مفاد کے تحت جموں کشمیر کے حالات کو معمول پر لائے وہیں مرکزی حکومت سے کشمیر کے تعلق سے رپورٹ بھی طلب کی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگر ضرورت پڑی تو وہ خود کشمیر جائیں گے۔ آج ہی سپریم کورٹ نے کانگریس کے لیڈر غلام نبی آزاد کو کشمیر جانے کی اجازت بھی دی، جبکہ ریاست کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی آج پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری بھی عمل میں آئی۔ جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے اور اس کے بعد کے حالات پر ہو رہی سماعت کے دوران ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ یہ معاملہ سنگین ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں خود حالات کا جائزہ لینے سری نگر جاؤں گا۔ دراصل یہ معاملہ جموں وکشمیر کی جیلوں میں بند 18 سال سے کم عمر کے بچوں کی گرفتاری سے منسلک ہے۔ حقوق اطفال کارکن اناکشی گانگولی نے کورٹ میں یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے متعلقہ ان کیسوں کی جانکاری مانگی جنہیں ہائی کورٹ کمیٹی دیکھ رہی ہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے لئے جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔ اس پر اناکشی کی طرف سے سینئر وکیل حصیفہ احمدی نے کہا ’’ ایسا کرنا بیحد مشکل ہے، ہائی کورٹ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔عرضی گزار کے وکیل کے اس تبصرہ پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بیحد سنگین معاملہ ہے اگر لوگ ہائی کورٹ میں اپنی اپیل نہیں کر پا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس پر جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ بھی مانگی۔ اس میں انہوں نے پوچھا کہ ہائی کورٹ اپیل کنندگان کی پہنچ میں ہے یا نہیں؟ سی جے آئی نے آگے کہا ’ یہ بیحد سنگین معاملہ ہے۔ میں خود نجی طور پر فون پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بات کروں گا۔ ضرورت پڑی تو ریاست کا دورہ بھی کروں گا‘‘۔حالانکہ، سی جے آئی نے عرضی گزار کو انتباہ بھی دیا اور کہا کہ اگر آپ کا دعویٰ غلط نکلا تو اس کا خمیازہ بھی آپ کو بھگتنا ہو گا۔مختلف عرضیوں کی پیر کو سماعت کرتےہوئے سینئر کانگریسی لیڈر غلام نبی آزاد اور یہاں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس)میں علاج کرارہے مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر محمد یوسف تاریگامی کو اپنی آبائی ریاست جانے کی اجازت دےدی ہے۔غلام نبی آزاد نے جموں و کشمیر جانے کی اجازت ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا۔ مسٹر آزاد نے پیر کو یہاں کہا،’میں سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتاہوں۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ خود سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کشمیر کے حالات کے سلسلے میں میری تشویش کو سنجیدگی سے لیا اور مجھے وہاں جانے کی اجازت دی‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر جاکر صورتحال کا جائزہ لیں گے کہ وہاں کی حقیقی صورتحال کیا ہے ۔ عوام سے ملاقات کرکےمعلومات حاصل کریں گے۔ وہ اس کی اطلاع عدالت عظمیٰ کو بھی دیں گے۔ عدالت عظمیٰ کے حکم پر مسٹر آزاد سری نگر، اننت ناگ، بارہمولہ اور جموں جائیں گے۔ اس دوران وہ پریس کانفرنس نہیں کریں گے۔ مسٹر آزاد نے کہا،’میں نے سپریم کورٹ کے سامنے ان افراد کی حفاظت کے لیے تشویش ظاہر کی جو گلبرگ، سونبرگ وغیرہ مقامات پر سیاحوں سے ہونے والی آمدنی پر منحصر ہیں۔ دستکاری، ہینڈلوم،رکشہ، تانگے والے، کھانچہ فروش وغیرہ کی کمائی آج رک گئی ہے۔تین ماہ سے حکومت کی توجہ ان چھوٹے کارباریوں، مزدوروں اور عام لوگوں پر نہیں گئی۔ جموں وکشمیر کی ایک تہائی آبادی اسی طرح کا کام کرکے اپنی زندگی بسر کرتی ہے لیکن حکومت کی ان پر کوئی توجہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے جموں کشمیر کے لوگوں کی فکر ہے میں واپس لوٹ کر سپریم کورٹ کے سامنے رپورٹ پیش کروں گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker