ہندوستان

اورنگزیب عالمگیر نے ملک کی ترقی کے لئے بڑی قربانیاں پیش کیں، دارالعلوم دیوبند کے طلبہ کی قدیم انجمن بزم سجاد کے افتتاحی اجلاس سے مولانا اشرف عباس اور مولانا عبد اللہ معروفی کا خطاب

دیوبند – 20/ستمبر (شاہد معین) دارالعلوم دیوبند میں زیرِ تعلیم طلبہء بہار، جھارکھنڈ اڈیشا و نیپال کے طلبہ کی مشترکہ مرکزی اور قدیم انجمن ’بزم سجاد‘ کا افتتاحی پروگرام گزشتہ شب سابق دار الحدیث تحتانی میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا عبد اللہ معروفی صاحب استاذ تخصص فی الحدیث دارالعلوم دیوبند نے فرمائی ،جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر ادارہ کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی نے شرکت کی، نیز بزمِ سجاد اور دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کے نگراں مولانا معین الدین قاسمی صاحب اور بزم سجاد کے نائب سرپرست مولانا اشرف عباس صاحب استاذ ادب عربی دارالعلوم دیوبند نے بطور خاص شرکت کی – پروگرام میں خطاب کے دوران مولانا اشرف عباس نے طلبہ کی جانب سے پیش کردہ معلومات افزا مکالمہ کی ستائش کی اور جلسہ کی کامیابی پر بزم سجاد سے منسلک اراکین کو مبارک باد پیش کی، بعد ازاں انہوں نے اپنے کلیدی خطاب میں اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کے دورِ حکومت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ نے ملک کی ترقی کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں، وہ ہمیشہ ملک کی ترقی کے لئے کوشاں رہے، جتنی وسیع و عریض سلطنت پر اورنگزیب عالمگیر بادشاہ نے حکمرانی کی اتنی بڑی سلطنت پر دوسرے کسی بادشاہ نے حکمرانی نہیں کی، ان کی سلطنت امن و امان کا گہوارہ تھی، اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ نے کبھی بھی ملک کے باشندوں کو شرمندہ نہیں کیا، آج چند فرقہ پرست لوگ ان کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، مولانا اشرف عباس نے کہا کہ ہمیں اپنی روشان و تابناک تاریخ کو یاد رکھنا چاہئے، اور لوگوں کے سامنے اس کو بیان کرنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ جو قوم اپنی تاریخ کو فراموش کرجائے اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں، وہ اپنی ہمت اور قدر و قیمت کو کھو دیتی ہے، انہوں نے کہا کہ آج نظریات اور تہذیبوں کی لڑائی چل رہی ہے، اسلام اور مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے، کیونکہ اس وقت پوری دنیا میں اسلام سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ، اسلام کو روکنے کے لئے مختلف مذاہب کے لوگ اسلام کی شبیہ خراب کر رہے ہیں، اسلامی قوانین کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں، اسلام کے خلاف لوگوں کے دلوں میں نفرت کا زہر گھول رہے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کی خوبیوں کو لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے، انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جو اسلام پھیلا وہ اخلاق و کردار کی وجہ سے پھیلا ہے، نفرت کے اس ماحول میں آج ہمیں پھر سے اخلاق و کردار کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ تخصص فی الحدیث کے استاذ مولانا عبد اللہ معروف صاحب نے بزم سجاد سے منسلک طلبہ کی جانب سے پیش کردہ مکالمہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سجاد لائبریری کا پروگرام بہت عمدہ اور معلوماتی رہا، عصر حاضر کے حالات پر ایک خوبصورت اور معلوماتی مکالمہ پیش کیا گیا، انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کے ماحول میں جو انجمنیں شاندار ماضی رکھتی ہیں ان میں سر فہرست بزم سجاد ہے، جن لوگوں نے اس بزم سے منسلک ہوکر تحریر و تقریر، خطابت و کتابت میں مشق کی وہ اس وقت ملک میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے رہے ہیں، انہیں نے طلبہ کو بزم سجاد سے وابستہ ہونے کی بھی درخواست کی ۔قبل ازیں پروگرام کا آغاز قاری ارشاد صاحب استاذ تجوید وقراءت دارالعلوم دیوبند کی تلاوت سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض ’ بزم سجاد ‘ کے صدر مولوی مزمل حسین ارریاوی نے انجام دئے اور خطبہٴ استقبالیہ بزم سجاد کے ناظم مولوی صبغت اللہ کٹیہاری نے پیش کیا، نیز بزم سجاد کے نائب صدر مولوی فہیم احمد ارریاوی نے مولانا عبد اللہ معروف صاحب کے نام تحریک صدارت پیش کی، دریں اثناء پروگرام میں طلبہ کی جانب سے دو عمدہ تقریریں پیش کی گئیں، پہلی تقریر ’’ سیرت رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور معاصر تقاضے ‘‘ جبکہ دوسری تقریر ’’ ابو المحاسن مولانا سجاد رحمہ اللہ کی ملی خدمات ‘‘ کے موضوع پر تھیں، یہ دونوں تقریریں بالترتیب مولوی عبد الحق ارریاوی اور مولوی محمد علی ارریاوی نے پیش کیں، اس دوران مولوی محمد عمران پورنوی اور مولوی محمد فرمان بانکوی نے مشترکہ طور پر شاندار نعت شریف پیش کی، جس سے سامعین خوب محظوظ ہوئے۔ دوران اجلاس وقفہ وقفہ سے مولوی حق نواز کشن گنجی اور مولوی محمد حمزہ سپولوی نے ” آب کوثر ایک مطالعہ“ اور ” تدوین قرآن ایک مطالعہ “ کے عنوان سے مختلف سوالات (کوئز) بھی پیش کئے، جس میں طلبہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور درست جواب دینے والوں کو موقع پر ہی گراں قدر انعامات سے نوازا گیا ـ بعد ازاں بزم سجاد سے منسلک طلبہ نے مشترکہ طور پر ’’ہندوستانی تہذیب اور آمد اسلام‘‘ کے عنوان سے ایک دلچسپ، پرمغز، بامعنیٰ اور دل آویز مکالمہ پیش کیا، جس میں ہندوستان کے اندر اسلام اور مسلمانوں کی آمد و ارتقاء، مسلم بادشاہوں کے غیر مسلموں اور اقلیتوں کے ساتھ برتاؤ پر تاریخی روشنی ڈالتے ہوئے اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کے کارناموں کو شاہی دربار منعقد کرکے شاندار کردار سے اُجاگر کیا گیا، جس میں طلبہ نے اپنی عمدہ صلاحیتوں کا ثبوت پیش کیا، مکالمہ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے مولوی عبد الرشید سیتامڑھی ، مولوی عبادہ حبیب دھنبادی ، مولوی مظفر کمال سیتامڑھی، مولوی مبارک صدیقی ارریاوی ، سعدان معین دیوبندی ، محمد عکرمہ گڈاوی رہے۔ آخر میں مولوی عقیل دربھنگوی نے دارالعلوم دیوبند کے ممتاز و مؤقر استاذ، متعدد کتابوں کے مصنف و شارح مولانا علامہ جمال احمد کے سانحہ ارتحال پر تعزیت مسنونہ پیش کی، پروگرام میں دارالعلوم کے طلبہ آخر تک کثیر تعداد میں موجود رہے، صدر محرم کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker