مضامین ومقالات

ہاں میں صحابہؓ کا غلام ہوں۔۔۔!

نازش ہما قاسمی
جی صحابہؓ کا غلام، انبیاء کرام ؑکے بعد روئے زمین پر مقدس ترین جماعت کا غلام، ان پر جاں لٹانے والا، ان کی عظمت بیان کرنے والا، ان کو راہنما تسلیم کرنے والا، انہیں رہبر کامل سمجھنے والا، ان کی باتوں پر عمل کرنے والا، ان کی عزت وتوقیر کرنے والا، جو ان کے خلاف بولے اس سے لڑ جانے والا، ان کا منہ نوچنے والا، خواہ وہ ظاہری طور پر طرم خان ہی کیوں نہ ہو، علمی مقام میں کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو؛ لیکن جب وہ صحابہؓ کا نہیں تو کا ہے کا بڑا۔ ہاں میں ان ہی صحابہ ؓکا غلام ہوں جنہیں اللہ رب العزت نے نجات کا پروانہ عطا کیا ہے۔ جنہوں نے حضور ﷺ کے وصال کے بعد مذہب اسلام بنا کمی وبیشی کے ہم تک من وعن پہنچا کر احسان عظیم کیا۔ جنہوں نے قیصر وکسری کو تباہ و برباد کیا۔ ان کے غرور کو خاک میں ملایا۔ جن کی حکومت کا دائرہ کار انتہائی وسیع تھا۔ جن کی خلافت ۶۴لاکھ ۶۵ ہزار مربع میل پر قائم تھی۔ جنہوں نے عراق فتح کیا، مصر و لیبیا فتح کیا، ، خراسان میں داخل ہوئے، یروشلم فتح کیا، شام فتح کیا،عموریہ، شمشاط ، طرطوس، صقلیہ کی حدود میں اسلامی جھنڈے گاڑے، ہندوستان میں بھی ان برگزیدہ ہستیوں کے قدم مبارک پڑے اور اسلام کا پیغام امن آیا۔ ان صحابہ ؓکا غلام ہوں جنہوں نے پوری دنیا میں اسلام کا پرچم لہرایا۔ جنہوں نے حق وباطل کی معرکہ آرائی میں تعداد و وسائل کم ہونے کےباوجود اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اسلام کا پرچم بلند کیا۔ ہاں میں صحابہ ؓکا غلام ہوں وہ اصحاب نبیﷺ جن کا ذکر قرآن وحدیث میں ہے، جن کی افضلیت قرآن نے بتائی ہے، جن کی برتریت احادیث سے واضح ہے، جن کے بارے میں قرآن کہیں کہتا ہے “اولئک ھم المفلحون” کہیں کہتا ہے “اولئک ھم الفائزون” کہیں کہتا ہے “اولئک ھم الراشدون” کہیں کہتا ہے “وکلا وعد اللہ الحسنی” اور کہیں بشارت سناتا ہے” رضی اللہ عنھم ورضو عنہ “… ہاں میں ان ہی صحابہ کا غلام ہوں جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے” وہ لوگ جو اپنی آوازوں کو رسول ﷺ کے سامنے پست رکھتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لیے خالص کردیا ہے ان لوگوں کےلیے مغفرت اور اجر عظیم ہے( سورہ حجرات) ۔ وہ صحابہ جو کافروں کے لیے سخت اور آپس میں رحم دل تھے۔ (سورہ فتح) ۔
ہاں میں صحابہؓ کا غلام ہوں، کون صحابہؓ، وہی صحابہؓ جنہیں نبی ﷺ کی صحبت حاصل ہے۔ جنہوں نے حضور ﷺ کو ایمان کی حالت میں دیکھا اور ایمان پر ہی خاتمہ ہوا۔ جن کے ایمان کو قرآن نے معیار حق اور کسوٹی قرار دیا، “فان آمنوا بمثل ما آمنتم بہ فقد اھتدوا” (سو اگر اہل کتاب اسی طریق سے ایمان لے آئیں جس طریق سے تم ایمان لے آئے تو وہ بھی راہ حق پر لگ جائیں گے) ۔ہاں میں اہل بیت صحابہ ؓکا غلام ہوں، مہاجر صحابہ ؓکا غلام، انصار صحابہ ؓکا غلام، بدری صحابہ ؓکا غلام، اُحدی صحابہ ؓکا غلام، یرموک کی جنگ لڑنے والے اصحاب نبیﷺ کا غلام، عرب صحابہ ؓکا غلام، غیر عرب صحابہ ؓکا غلام، غزوہ حنین میں شریک صحابہ ؓکا غلام، عشرہ مبشرہ میں شامل خلیفہ اور یارغار ابوبکر صدیقؓ، خلفیہ دوم فاروق اعظم عمربن خطابؓ، خلیفہ سوم ذوالنورین عثمان غنیؓ، خلیفہ چہارم فاتح خیبر حضرت علیؓ، طلحہؓ وزبیرؓ، عبدالرحمن بن عوفؓ، سعد بن وابی قاصؓ، سعد بن زیدؓ اور ابوعبیدہ بن الجراحؓ کا غلام۔حضور اقدس ﷺ کے چچا سیدالشہدا حضرت حمزہؓ و حضرت عباسؓ کا غلام،فاتح عرب و عجم، کاتب وحی، بحری بیڑے کے موجد،خال المومنین و امیر المومنین حضرت امیر معاویہ ؓکا غلام، مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرانے والے حسن ابن علی ؓکا غلام اور یزید کی امارت تسلیم نہ کرکے اور باطل کے آگے نہ جھک کر بھوکے پیاسے اپنے بچوں سمیت اپنی جاں کا نذرانہ پیش کرکے اسلام کا جھنڈا بلند کرنے والے حضرت حسین ابن علیؓ کا غلام ہوں۔ حضرات حسنین کریمین ؓ کے علاتی بھائی محمد بن حنفیہ ؓکا غلام ہوں۔
ہاں میں گورے صحابہ ؓکا غلام ہوں، کالے حبشی صحابہ ؓکا غلام ہوں۔ مفسر صحابہ ؓکا غلام ہوں، مجتہد صحابہ ؓکا غلام ہوں، محدث صحابہ ؓکا غلام ہوں۔ صحابیات ؓکا غلام ہوں۔ امہات المومنینؓ کا غلام، مجاہد صحابہ ؓوصحابیہ ؓکا غلام ہوں۔ انس بن مالک ؓکا غلام، ابوہریرہ ؓکا غلام، عمار بن یاسر ؓکا غلام، حضرت سمیہ ؓکا غلام، اللہ کی تلوار خالد سیف اللہ ؓکا غلام، جی خولہ بنت ازور ؓکا غلام ہوں، زید بن حارث کا غلامؓ، عبداللہ بن عمر ؓکا غلام، نابینا صحابی عبداللہ ابن مکتوم ؓکا غلام ہوں۔ غسیل الملائکہ حضرت حنظلہ بن ابو عامر ؓکا غلام ہوں۔ دریاؤں میں گھوڑے دوڑانے والے صحابہ ؓکا غلام، پہاڑوں پر چلنے والے صحابہ ؓکا غلام، صحراء و بیابان عبور کرنے والے صحابہ ؓکا غلام، ہاں کم وبیش ایک لاکھ ۲۴؍ ہزار صحابہ وصحابیات رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا غلام ہوں اور اس غلامی پر مجھے بے انتہا فخر ہے۔(الحمدللہ)
ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ کرامؓ ہم سے لاکھ درجہ بہتر ہیں ہماری کوئی اوقات نہیں ان کے آگے۔ وہ اعلیٰ ہیں، بہتر ہیں، ارفع ہیں، ان کا مقام ومرتبہ ہماری سوچ وفکر سے کافی بلند ہے۔ ہم انہیں عزت وتوقیر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کا احترام ہمارے دلوں میں بستا ہے۔ ان کے صادق و عادل ہونے میں ہمیں کوئی شک نہیں، ان کی شان میں گستاخی کرنا ہم گناہ عظیم سمجھتے ہیں اور جو ان کی شان اقدس میں گستاخی کرتا ہے اسے اسلام سے خارج تصور کرتے ہیں اور علی الاعلان کہتے ہیں جو ہمارے صحابہؓ کا نہیں وہ ہمارا نہیں۔ صحابہ ؓکا جو غلام ہے۔ ہمارا وہ امام ہے۔ اگر صحابہ ؓکی تنقیص کرنے والا، ظاہری طور پر اسلامی حلیے میں ملبوس کوئی فرد خود کو اسلامی علوم وفنون کا ماہر کہتا ہے۔ ہم اسے ماہر نہیں جاہل و اجہل سمجھتے ہیں۔ اگر وہ خود کو محدث کہتا ہے ہم اسے مُحْدث (ناپاک) سمجھتے ہیں۔ اگر وہ خود کو خطیب العصر کہتا ہے تو ہم اسے تنقیص صحابہ کے جرم میں ذلیل العصر انسان گردانتے ہیں، ہم غلامان صحابہؓ ایسے لوگوں کو دھتکار دیتے ہیں، انہیں صحابہ ؓکی تنقیص کے جرم میں مجرم سمجھتے ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ ہے جو صحابہ ؓپر تنقید کرتا ہے، جو ان کی تنقیص کرتا ہے، جو انہیں باغی کہتا ہے، جو انہیں کافر کہتا ہے، جو ان کے ایمان کا محاسبہ کرتا ہے، انہیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ صحابہ ؓکو تو “کلہم عدول” کا پروانہ حاصل ہے۔ وہ تو بخشے بخشائے ہیں انہیں رضی اللہ عہنم ورضو عنہ کا پروانہ نجات حاصل ہے؛ لیکن توہین صحابہ کے مجرمین تو دنیا میں رسوا ہوہی رہے ہیں آخرت میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے۔
ہاں میں ان ہی صحابہ ؓکرام کا غلام ہوں جن کے بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “ہم اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ سے محبت کرتے ہیں، ان میں سے کسی کی محبت میں بھی غلو نہیں کرتے، نہ ہی ان میں سے کسی ایک سے برأت کرتے اور نہ ہی کسی پر تبرّا کرتے ہیں اور ہر اس شخص سے بغض رکھتے ہیں جو ان (صحابہؓ) سے بغض رکھتا ہے اور ان کی برائی کرتا ہے۔۔۔اور ہم ہمیشہ اُن کا ذکر فقط اچھائی، خیر و بھلائی ہی کے ساتھ کرتے ہیں، اُن (صحابہؓ) سے محبت کرنا دین، ایمان اور احسان ہے، اور ان سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی ہے”… ہاں میں انہی صحابہ ؓکا غلام ہوں جنکے بارے میں لمعات التنقیح میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒلکھتے ہیں کہ ”صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم اور ان کی مدح سرائی کرنا واجب ہے، “ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ تکملہ فتح الملہم میں لکھتے ہیں کہ ”اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرات انبیاء کرامؑ کے بعد سب سے افضل وبرتر حضرات صحابہ کرام ؓکی جماعت ہے، کوئی بھی ولی خواہ عبادت وتقوی پرہیزگاری کے کتنے ہی اعلی مقام پر فائز ہو حضرات صحابہ کرام ؓکے مقام کونہیں پہنچ سکتا۔“
ہاں میں ان ہی صحابہ ؓکا غلام ہوں جن کے اوصاف کی منظر کشی ایک عالم دین نے یوں کی ہے کہ ”ان کو اولئک ھم الراشدون کے ذریعے راہ راست پر ہونے کی سند دی گئی ہے، کبھی ان کو رضی اللہ عنھم ورضو عنہ کے ذریعے اپنی رضامندی اور پسندیدگی سے نوازا گیا، تو کبھی ان کو لھم مغفرۃ و اجر عظیم کا مژدہ سنایا گیا، اور کبھی اشداء علی الکفار رحماء بینھم سے ان کے دینی مزاج وافتاد طبع کا تذکرہ کیا گیا ہے، تو کبھی “تراھم رکعا سجدا سے ان کی عبادت وریاضت کو سراہا گیا ہے، اور کبھی والذین تبوؤالدار و الایمان من قبلھم… الی قوله اولئک ھم المفلحون” سے ان کے جذبۂ ایثار وسخاوت، کمزوروں سے الفت ومحبت اور اخروی فلاح کو بیان کیا گیا ہے، تو کبھی لیغیظ بھم الکفار کے ذریعے ان سے بغض وعداوت رکھنے والے کی جبلت فاسدہ وکاسدہ، فطرت خبیثہ وخسیسہ کو اجاگر کیا ہے، کبھی ان کو خیر امۃ یا امۃ وسط کے لقب سے نوازا گیا ہے، تو کبھی وکلا وعد اللہ الحسنی کے ذریعے تمام مہاجرین و انصار سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، کبھی الحمدللہ و سلام علی عبادہ الذین اصطفی سے ان کے اصطفا اور انتخاب کا اعلان کیا، تو کبھی یوم لایخزی اللہ النبی والذین آمنوا معه کے ذریعے نبی اور ان کے اصحاب کو محشر کی ذلت و رسوائی سے حفاظت کا پروانہ عطا کیا گیا ہے۔ “ (عظمت صحابہ: ص۳۴)
ہاں میں ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا غلام ہوں جن کے واسطے سے دین ہم تک پہنچا ہے، جنہوں نے کمال امانت داری سے من وعن دین کو ہم تک پہنچایا ہے، جو لوگ ان پر شک کریں گے تو ان کا دین ہی مشکوک ہوجائے گا، جو لوگ ان کے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں وہ صرف ان کی توہین ہی نہیں کرتے ہیں؛ بلکہ کتاب اللہ کو جھٹلاتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت پر انگلی اٹھاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں ہم تو یہ سوچ رہے ہیں کہ آخر وہ کس منہ سے حضور ﷺ اور ان کی مقدس وبرگزیدہ جماعت کا سامنا کریں گے جو ان کو دنیا میں برا بھلا کہہ کر خود کو محقق و مجتہد کہلوانا چاہتے ہیں، خطیب العصر والمغرب بننا چاہتے ہیں ایسے خطیبوں اور ان کے حواریوں کو بارگاہِ ایزدی میں گڑگڑا کر توبہ کرنی چاہیے، روز محشر کی رسوائیوں سے ڈرنا چاہیے۔ اللہ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی محبت ہمارے دلوں میں پیوست کردے، جولوگ ان کے بارے میں زبان طعن دراز کرتے ہیں ان کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین۔
نوٹ: اصحاب نبی ﷺکی تعریف اور ان کے روشن کارناموں کو اس مضمون میں سمانا مشکل تھا اور اسلام کے لئے ان کی خدمات عالیہ کو کماحقہ بیان کرنا مجھ ناتواں کے بس میں کہاں۔ یہ مضمون فقط اس امید میں لکھا گیا ہے کہ بروز محشر میرا نام بھی رسول اکرم ﷺ کے جاں نثاروں کا دفاع کرنے والوں میں آجائے۔۔۔!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker