مضامین ومقالات

کشمیر؛ مجھ کو ڈر ہے کہیں بے موت نہ مارے جاؤ!

محمد صابرحسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

کشمیر ابھی بھی اپنی کشمیریت کی سزا کاٹ رہا ہے، مسلمان اکثریت ہونے اور ملک کا سب سے خوبصورت خطہ ہونے کی بنا پر مقتل بنا ہوا ہے، پھولوں کا جگر بندوقوں سے کاٹا جارہا ہے، گلاب کو ترشا جارہا ہے، نشتر چلائے جارہے ہیں، وہاں کے بچے قیدی بنا لئے گئے ہیں، بچوں کو جیل خانون میں اور معصوم عوام کو ٹارچر کرنے کیلئے اٹھا لیا گیا ہے، دفعہ ۳۷۰ ہٹنے کے بعد اب تقریبا دو مہینے ہونے کو ہیں؛ لیکن اب بھی کرفیو کی مار ان پر مسلط ہے، جو عذاب بن گیا ہے، جسے بغیر جرم اور گناہ کے تھوپ دیا گیا ہے، عورتوں اور بچیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تشدد کا قہر جاری ہے، دھرتی کا سینہ چیرا جارہا ہے، خوبصورت پہاڑ اور برفیلی وادیوں کو خون آلود کیا جارہا ہے، بہاریں مسموم ہوگئی ہیں، فضائیں مغموم اور آسمان مجبور ہوگیا ہے، وہاں زمین بھی سسکیاں لے رہی ہے، ماتھا پھوڑ رہی ہے کہ کس فرعون کی حکمرانی میں آگئی؟ کس ظالم کے ہتھے چڑھ گئی جس نے میرے رہ باسیوں کو اجاڑنے اور میری ہی گود سونی کردینے پر بضد ہی کیا ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے؟ آخر کس جرم کی سزا ہے؟
یہ بات جگ ظاہر ہوچکی ہے کہ وہاں پر ہیومن رائٹس اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی سر عام کی جارہی ہے، مگر ہر ایک کی آنکھ میں دھول جھونک دیا گیا ہے، ہندوتو کا اور زعفرانیت کا زہر گھول دیا گیا، انسان انسان کو مذہب اور دین کی بنیاد پر فرق کرنے اور ہر ستم روا رکھنے کا تخم فساد بو دیا گیا ہے، کسی کو کچھ نہیں دکھتا_ کوئی کچھ نہیں بولتا، بلکہ اگر شہر خموشاں میں کوئی گونج جائے، کسی زبان پر پڑ بند تالے کو چابی لگ جائے، کسی کا مردہ دل متحرک ہو کر چیخ پڑے تو وہ سزا پاتا ہے، وہ گنہگار اور مردود ٹھہرتا ہے، وہ حکومت کا معتوب گردانا جاتا ہے، سرکاری محکموں سے اکھیڑ کر پھینک دیا جاتا ہے، اور اگر ہو سکے اسے ملک مخالف اور دیش دروہی (دہشت گرد) ثابت کرنے کی کوششیں زور پکڑ لیتی ہیں_ حالت یہ آن پڑی ہے کہ عدالت عظمی کے چیف جسٹس نے خود کشمیر کا دورہ کرنے اور حالات کا جائزہ لینے کی بات کہی ہے، ان کو اب کسی پر اعتماد نہیں ہے، کسی پر بھروسہ نہیں۔ ہر تلوار پر خون ہے اور پھول پر سرخ رنگ ہے؛ لیکن کوئی سنتا نہیں اور نا کوئی جاننا نہیں چاہتا۔
اس فصل بہاری میں دل ٹوٹ گئے جتنے
اتنے کسی موسم میں ٹوٹے نہیں پیمانے
اس شب تاریک میں سکھ بھائیوں کی دریادلی اور بہادری پر رشک آتا ہے، کہ انہوں نے کشمیریوں کیلئے خود کو وقف کردیاہے، اپنی جایں داو پر لگادی ہے، مال اور تلوار دونوں ہی میان سے باہر کر لئے ہیں، لیکن اف!!!! یہ ہمارے قائدین (اگر ہیں) اپنی افضلیت ثابت کرنے میں مصروف ہیں، اپنا دعوی اور علمی دھاک جمانے میں مشغول ہیں، گڑے مردوں کو اکھاڑ کر صدی کا سب سے عظیم کارنامہ انجام دے رہے ہیں، یا پھر اپنے اسلاف کے کارناموں پر اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں، اور ان کے بھکت اپنی بھکتی پر آمادہ ہیں، ان کے سامنے ملک کے حالات کی کوئی قدر نہیں ہے، ایسا لگتا ہے کہ ان کے اندر موجود خون جگر سوکھ گیا ہے، وہ زمانے کی نبض کیا پکڑے گے؟ خود ہی بے نبض ہوگئے ہیں، انسانیت دم توڑ رہی ہے، کب کس وقت کون کس جنوں کا شکار ہوجائے؟ کسے تختہ مشق بنا کر حق زندگی سے محروم کردیا جائے؟ کچھ نہیں کہہ سکتے!! کیوں سچ یہی ہے کہ اس ملک کا مسلمان اگر وہ کشمیری نہیں ہے، تو بھیڑ کے ہاتھوں مار دیا جائے گا، ہجومی دہشت گردی عروج ہے اور عدالت بھی ان کا ساتھ دے رہی ہے، حکومت خود ان کی سرپرستی کر رہی ہے، اور اگر اس سے بھی بچ جائیں، تو این، آر سی_ کی ظلمت ان پر چھائی ہوئی ہے، کسی بھی پل ہندوستان سے بے گھر ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے؛ لیکن کیا مجال ہے کہ کوئی کچھ بولے؟
آپ اندازہ کیجیے! ملک کی معیشت کا کیا حال ہے؟ اور ملک میں اقلیت کس بدحالی میں جی رہے ہیں؟ اس کے بعد بھی مسلمانوں کی زندگی کا طرز دیکھیے! ان کے مباحث کے موضوعات پر نگاہ ڈالئے! سوائے سطحیت کے اور کچھ نظر نہ آئے گا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے سینہ میں موجود دل مردہ ہوگیا ہے، وہ کشمیر میں مہینوں دن سے پڑے زندہ لاشوں کے خلاف بھی نہیں دھڑکتا، خود کے پیٹ کا سائز دن بدن بڑھتا جاتا ہے؛ لیکن اس کی کوئی فکر نہیں کہ اپنے ہی ملک اور اپنے ہی لوگوں کے ایک بڑے خطے کو جیل خانہ میں تبدیل کردیا گیا، ان کے منہ سے نوالہ چھین لیا گیا، ان سے زندگی کا حق چھین لیا گیا؛ لیکن انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا_ اے خدا یہ کیسے مسلمان ہیں؟ ان کے سینہ کا وہ لوتھڑا جس سے وہ انسان کہلاتا ہے، کہاں مر گیا؟ ایسا لگتا ہے کہ وے بھی دنیاوی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں_ یاد رکھئے! اگر آج آپ نہیں جاگیں گے؟ اگر آپ کی رگ غیرت نہ پھڑکے گی؟ تو کوئی بعید نہیں کہ کل آپ کو بھی بے موت ماردیا جائے_ اور آپ کے جسم کو کوئی کفن دینے والا اور کوئی دو قطرے آنسو بہادینے والا اور کوئی دعائے مغفرت کردینے والا بھی نہ ہوگا۔ کلیم عاجز صاحب کا یہ شعر تھوڑی تبدیلی کے ساتھ:
پہلو میں ہمارے کشمیر کیسا کشمیر پر تو قیامت بیت گئی
مرجھایا ہوا اک غنچہ ہے ٹوٹا ہوا اک پیمانہ ہے
20/09/2019

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker