مضامین ومقالات

امیت شاہ کا بیان اور زبانوں کی فرقہ وارایت !

تحریر: پریہ درشن

ترجمہ: نازش ہما قاسمی

بی جے پی صدر اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے ہندی کو لے کر اچانک جو ہنگامہ پیدا کیا، کیا اس کی کوئی ضرورت تھی؟ کیا بی جے پی کے پاس واقعی کوئی زبان نیتی ہے جس کے تحت وہ ہندی کو بڑھاوا دیناچاہتی ہے؟ یا وہ ہندو ہندی ہندوستان کے پرانے جن سنگھی نعرے کو اپنی فکری وراثت کی طرح پھر سے آگے بڑھا رہی ہے۔

بلاتفریق ملک سے محبت ہو، مذہب سے محبت ہو، یا زبان سے محبت ہو، اس کے نتیجے خطرناک ہوتے ہیں۔ ہندی کو ملک کی قومی زبان بنانے کی بات کرکے انہوں نے اچانک ان لوگوں کو ہندی مخالف بنا ڈالا ہے جنہیں ہندی سے کوئی نفرت نہیں ہے حالانکہ  جنوبی ہند کے بی جے پی کے اپنے وزیراعلیٰ تک امیت شاہ کی رائے سے متفق نہیں ہیں وہ کنڑ کو بڑھاوا دینے کی بات کررہے ہیں۔

فی الحال امیت شاہ کے بیان کے الگ الگ پہلوئوں کو سمجھنے کی کوشش کریں، ہندی کو اپنے پھیلاو یا وسعت کےلیے کسی حکمراں کی مہربانی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات تصدیق شدہ ہے۔ ساہتیہ اور سنیما کے لحاظ سے ہندی واقعی قومی زبان ہے اس نے بہت ہی فراخ دلی کے ساتھ دوسری زبانوں کے رائٹروں کو اپنایا ہے اور زبانوں کے درمیان پل بنائے ہیں، ہندی کے عام قارئین کے لیے مراٹھی کے وجے تندلکر اور نام دیو ڈھسال بھی ہندی کے رائٹر ہیں۔ بنگال کے شرت اور ومل متر یا مہاشویتی دیوی بھی کنڑ کے گریش کنارڈ بھی، پنجابی کی امرتا پریتم بھی، میر اور غالب تو ہندی کے رائٹر  ہیں ہی۔

ٹی وی سیرئلوں اور  سنیما میں بھی ہندی کا جو ملکی طور پر پھیلائو ہے وہ ہندی زبان بولنے والوں کی خوشی کےلیے کافی ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ پر ہندی کے پھیلائو کی رفتار حوصلہ افزا ہے۔ دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں ہندی کی پڑھائی ہورہی ہے، دنیا کے کئی ملکوں میں خراب ہی سہی؛ لیکن ہندی کے مصنف دکھائی پڑرہے ہیں۔

یہ ایک گلابی زمین کی تزئین ہے جس کے درمیان امیت شاہ نام کا کوئی نیتا اگر ہندی کے جھیل میں سیاست کا پتھر ڈالتا ہے تو اس کی ہلچل دور تک جاتی ہے۔ اچانک ہندی کو لے کر کئی لوگوں کی بھنویں تن جاتی ہیں۔

پھر پوچھنا ہوگا، اس کی کیا ضرورت تھی؟ کیوںکہ ایک مقام پر ہندی اگر پھیلتی دکھ رہی ہے تو دوسرے مقام پر سکڑتی نظر آرہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہندی میڈیم کے اسکول لگاتار بند ہورہے ہیں، اور انگریزی میڈیم کے اسکول کھلتے جارہے ہیں، ہندوستان کے متوسط طبقے کی نوجوان پیڑھی میں ہندی ایک چھوٹی ہوئی زبان ہے جسے ان کے والدین ، دادا دادی، نانا نانی بولتے ہیں۔ متوسط گھرانوں میں ہندی کی کتابیں اب نہ خریدی جاتی ہیں اور نہ ہی پڑھی  جاتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندی بس ایک بولی میں بدل کر رہ گئی ہے جس میں سنیما بن سکتا ہے، ٹی وی سیریئل بن سکتے ہیں، انگریزی محاوروں سے بھری کرکٹ کمنٹری چل سکتی ہے اور ویسے ہی بین الاقوامی پروگرام ہوسکتے ہیں  جیسے بھوجپوری کے ہوا کرتے ہیں۔ ہندی میں  علم سائنس کے دیگر شعبوں میں تخصص کا کام تقریبا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔صرف طبیعیات ، کیمسٹری یا حیاتیات ہی نہیں ، اب تاریخ ، جغرافیہ ، سماجیات اور نفسیات کو بھی کسی بھی پسماندہ زبان کے الفاظ کے طور پر قبول کیا گیا ہے۔ہندی کے قارئین زیادہ سے زیادہ ترجمہ میں یہ علم پاکر خوش ہیں۔ اخباروں اور ٹی وی چینلوں میں جو ہندی چل اور پھیل رہی ہے وہ انگریزی کی بیساکھیوں پر چلتی ایسی  تشویشناک ہندی ہے جس میں کچھ سنسنی خیز، افواہیں، خبریں ہی چلائی جاتی ہیں، ہندی کے سنگین کہلانے والے اخباروں کے ایڈیٹروں کو بھی ہندی لکھنے کا شعور نہیں ہے، صحافت کو ٹکر دیتی حالت یونیورسٹیوں کی ہے جہاں ہندی کے 90 فیصدی پروفیسر درست ہندی نہیں لکھ سکتے۔

اس کے مقابل انگریزی کا حلقہ مستقل بڑھتا جارہا ہے۔ انگریزی کے رائٹر اب خود کو ہندوستانی رائٹر کہنے لگے ہیں، ان کی کتابوں پر ہندی فلمیں بنا کرتی ہیں، جبکہ ہندی رائٹر کسی اتفاق سے یاد یا استعمال کرلیا جانے والا انسان ہے۔ انگریزی اس ملک میں استحقاق کی زبان ہے نوکری کی گارنٹی کی زبان ہے، بہت ساری نااہلی پر پردہ ڈالنے والی زبان ہے، انگریزی کے کسی متروک لفظ کا استعمال آپ کو معزز بنا تا ہے ، جبکہ ہندی میں بھی یہی کام آپ کو مضحکہ دیتا ہے۔

مودی سرکار اور بی جے پی کی زبان اور تہذیب پالیسی پر لوٹیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی ہندوستانیت کو پسند کرتی ہے۔ لیکن ہندوستانیت کا مطلب اس کے نزدیک کیا ہے ۔ یہ واضح نہیں ہے۔ اس کے برعکس ، ہندوتوا کے بارے میں ان کا اضافی زور اس ہندوستانی پن کو کمزور کرتا ہے۔لیکن اس کے لیے ہندی بھی ایک جھوٹے فخر کا معاملہ دکھائی پڑتا ہے۔ اس کے لیڈر جو ہندی بولتے ہیں وہ ڈراپ اور دعووں کی ہندی ہوتی ہے تسلی کی نہیں۔ ان کی اسکیموں میں بھی ہندی کا یہ استعمال کم نظر آتا ہے۔ اسمارٹ سٹی، میک ان انڈیا، اسکل انڈیا جیسی ان کی اسکیمیں بتاتی ہیں کہ ہندی اس کےلیے قدیم فخر کی وہ زبان ہے جس میں اردو فارسی کے الفاظ نہ ہو وہ ویسی پنڈتی ہندی ہو جس میں  علم سائنس بھلے نہ ہو سکے ، سنسکرت کی خوشبو آئے یہ بے ساختہ نہیں ہے کہ بی جے پی کے ہندی محبت کرنے والوں کی سنسکرت محبت بھی مضبوط ہے ۔  وہ سنسکرت میں حلف لیتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

کسی کو سنسکرت کا مخالف نہیں ہونا چاہئے۔ سنسکرت ایک متمول زبان ہے ، لیکن اس کی کلاسیکی اہمیت ہے اور اسی طرح دیکھا جانا چاہئے۔ یہ کسی بھی خطے میں نہیں بولی جاتی، یہ ہمارے ورثے کا ایک حصہ ہے۔ بحران یہ ہے کہ کچھ لوگوں کوان کے میکرو کلچر سے زیادہ سنسکرت پیارا نہیں ہے۔ سنسکرت سیکھنا تو دور ، وہ صاف ستھری ہندی یا کوئی دوسری زبان بھی لکھنے یا بولنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ زبان دراصل ان کے لیے مذہب کی طرح ایک فرقہ وارانہ ایجنڈہ ہے۔

اگر نہیں ہوتی تو امیت شاہ ہندی کو نہیں ، ہندوستانی زبانوں کی بات کرتے، وہ انگریزی کے ناگزیرہونے کی وجہ سے غصہ نہیں ہوتے تو وہ اپنے بیان میں انگریزی کا نام لینے سے بھی ہچکچاتے اور صرف غیر ملکی زبانوں کی بات کرکے رہ جاتے۔

دراصل ۲۱ویں صدی کے ہندوستان کی لسانی چیلنجوں کے کم سے کم تین مورچے ہیں۔ پہلا مورچہ تو انگریزی کے استحقاق سے آزاد کرانے کا ہے۔ انگریزی سے نہیں۔ ایک زبان کے طور پر انگریزی بہت دور تک ہندوستانی زبان ہوچکی ہے، بہت سارے اسکول وکالجز اور تنظیمیں انگریزی ہی میں چلتی ہیں۔ جیسے جیسے انگریزی سیکھنے والے بڑھ رہے ہیں وہ استحقاق کمزور پڑرہا ہے لیکن دھیان رکھنا ضروری ہے کہ انگریزی نو استعماریت کا ذریعہ نہ ہو اس کے لیے ضروری ہے ہندی اور دوسری ہندوستانی زبانوں کو تقویت بخشی جائے۔ ان میں روزی روٹی روزگار، علم سائنس، کے راستے نکالے اور کھولے جائیں، یہ دوسرا مورچہ ہے اچھی بات ہے کہ اگر ہندی کا ایک بڑا طبقہ انگریزی میں جاچکا ہے تو حاشیے پر پڑے ان برادریوں کا ایک نیا طبقہ ہندی سے جڑا بھی ہے جن کے بچے پہلی بار اسکول جارہے ہیں۔ اس طرح سے دیکھیں تو ہندی اپنے برہمن والد کے کینچل کچھ کچھ اتار رہی ہے جسے انگریزی پہن رہی ہے۔ ہندی اب دلت ، قبائلی ، کی زبان ہے وہ مراٹھی، بنگلہ،تمل، تیلگو، اردو کے مقابل نہیں ان کے ساتھ بطور سہیلی چلنے والی زبان ہے۔

لیکن تیسرا اور سب سے مشکل محاذ یہیں سے کھلتا ہے۔ آحر کار یہ تمام ہندوستانی زبانیں بحران میں ہیں، ان زبانوں میں آرہی نئی نسلیں اپنا مستقبل انگریزی میں دیکھ رہی ہیں، ابھی جو لوگ سنیما، ٹی وی، سیئریل او رانٹرنیٹ پر ہندی کی ترقی دیکھ کر بہت خوش ہیں انہیں احساس نہیں ہے کہ اگلے دو دہائی میں اس ترقی کے بھاپ بن کر اڑ جانے کا خطرہ ہے۔ اس خطرے سے بے خبر ہندوستانی زبانیں آپس میں لڑ رہی ہیں ۔ امیت شاہ کے بیان نے اس لڑائی میں کچھ گھی ڈالی ہے ۔ آخر زبانوں میں بھی فرقہ واریت ہوتی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker