شعر و ادب

….. مینائے غزل 27………..

استاذ الشعراء علامہ مسیح الدین نذیری

ہوا ہے فیصلہ کل شب درونِ خانۂ عشق

رہیں گے آج سے ہم حاکمِ خزانۂ عشق

ہمارا نام بھی آنے لگا رقیبوں میں
چلو کہ مل گیا ہم کو بھی محنتانۂ عشق

ہمارے عشق نے اتنا تو رنگ دکھلایا
کھلا ہے گاؤں میں اپنے بھی ڈاکخانۂ عشق

یہ رنگ و نور کی دنیا، یہ شامِ کیف و سرور
سمجھ سکو تو سبھی کچھ ہے شاخسانۂ عشق

بتارہی ہے یہ تاریخ عشق کی ہم کو
خطا ہوا نہیں کرتا کبھی نشانۂ عشق

جناب فرقِ مراتب کا کچھ خیال رہے
کہاں میں عشق کا قائد وہ عامیانۂ عشق

ہمارا نام بھی ہے اس کے ہمنشینوں میں
پلٹ کے دیکھ لو اوراقِ دوستانۂ عشق

ہمیں دیا گیا اعزاز عاشقی کیلئے
بجا ہے گھر میں ہمارے ہی شادیانۂ عشق

برائے عشق کوئی قیدِ عمر و صحت کیا
رواں ہے سانس تو موجود ہے زمانۂ عشق

ہے عاشقی کا نذیری انھیں کو زعم بہت
جو آج تک نہ ادا کر سکے دُگانۂ عشق

علامہ مسیح الدین نذیری پورہ معروف مئو
fb.me/qasmighazals
naziriqasmi.blogspot.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker