مضامین ومقالات

ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ہے…….!

 

 

احساس نایاب ( شیموگہ, کرناٹک )

ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن

 

اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتے کہ ہمارے محترم بزرگ مولانا ارشد مدنی صاحب کی زندگی کا طویل عرصہ خدمت خلق کرتے ہوئے گزرا ہے. تب کہیں جاکر مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ نے انہیں قائد کا درجہ دیا اور ان کے یہی جانشین ہیں جو قدم بہ قدم ہر لحاظ سے ان کا بھرپور ساتھ دیتے آرہے ہیں. کیونکہ کوئی بھی جماعت ہو یا تنظیم کسی ایک فرد یا ایک پریوار سے نہیں بنتی بلکہ اُس ایک فرد کے پیچھے اجتماعی طور پہ کئیوں کی محنت و کارگردگی اور بےلوث قربانیاں چھپی ہوتی ہیں. ساتھ ہی مظلوم , مستحق و کمزور مسلمانوں کی دعاؤں کا ثمرہ ہوتا ہے جس کی بدولت وہ مستقل درپیش آنے والے بڑے سے بڑے مسائل و ناگہانی آفات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے ,ظالم کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوانے کے قابل بنتے ہیں …….

ایسے میں کسی بھی تنظیم یا جماعت کو صرف مخصوص فرد یا مخصوص پریوار تک جوڑ کر دیکھنا اُسے محدود کردینے کہ برابر ہے ساتھ ہی یہ بھی مورسی , آمریت نظام کا حصہ ہے ……..

اور جب یہ کسی ایک دو فرد یا مخصوص پریوار کے احاطے میں آجاتی ہے تو اُس میں پہلی والی صلاحیت وہ جذبہ جہاد باقی نہیں رہتا جو آغاز میں دکھائی دیتا ہے ……..

 

کچھ وقت سے یہی حال جمعیت کا بھی نظر آرہا ہے ……. سالوں سے اپنے موقف پہ ڈٹے رہنے والی دنیا بھر میں مسلمانوں کی ترجمانی کرنے والی جمعیت آج فرعونیت بھرے مودی راج میں لڑکھڑاتی , بھگوا رنگ میں رنگی, ہندوتوادی سوچ کی تائید کرتی نظر آرہی ہے اور حکمت و مصلحت کے نام پہ مسلمانوں کا نرسنگھار کرنے والے آدم خوروں کے آگے دوستی کی پیش کش کرنے اور مسلمانوں کے مسائل پہ بات چیت کے غرض سے مسلمانوں ہی کا قتل و عام کرنے والے ان آدم خور, قسائیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کیا کوئی بتاسکتا ہے کہ آخر یہ کس حد تک صحیح ہے ؟؟؟؟؟

 

بہت پہلے ہم نے ایک کہانی سنی تھی جس میں بکریوں کا ایک بڑا سا جھُنڈ چرنے کے لئے ہر دن ہرے بھرے گھاس کے میدان کی اور نکلتا اور گھاس چرتے ہوئے کبھی کوئی بکری جھُنڈ سے دور نکل جاتی اور انہیں تنہا پاکر جنگلی جانور ان کا شکار کرتے پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ جنگلی جانور کے منہ کا نوالا بن جاتی جس سے جھُنڈ کی ساری بکریاں بہت پریشان تھیں ….. ایک دن اچانک بکریوں کے پاس ایک بھیڑیا آیا اور بہت ہی میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگا…… بھیڑیے کی چکنی چپڑی باتیں سُن کر بکریاں اُس خونخوار جنگلی بھیڑیے کو اپنا ہمدرد سمجھ کر اپنی ساری پریشانی بتائی ……. کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بھیڑیے نے ایک حل نکالا اور ساری بکریوں سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ تم سبھی میرے ساتھ چلو …. پہاڑی کے پیچھے بہت ساری گھاس ہے , وہاں کسی جنگلی جانور کا خطرہ بھی نہیں ہے اور تو اور میں بھی ہمیشہ تم سبھی کے ساتھ رہونگا تو نقصان پہنچانے کی بات تو بہت دور کی ہے کسی کی ہمت بھی نہ ہوگی تمہارے قریب آنے کی …… بھیڑیے کی بات سُن کر ساری بکریاں اُس کے ساتھ چلنے کے لئے خوشی خوشی راضی ہوگئیں …… جبکہ جھُنڈ کے عمردراز , بزرگ بکرے نے انہیں سمجھاتے ہوئے بھیڑئیے کے ساتھ جانے سے منع کیا اور یہیں پہ گھاس چرتے وقت اکٹھا رہنے کا مشورہ دیا…… مگر بکریوں نے بزرگ بکرے کی ایک نہ مانی ……. دراصل انہیں اُس بھیڑیے کی طاقت و ہمدردی پہ بہت یقین تھا اور وہ اُس کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر اُس کے ساتھ چلی گئیں …… جیسے ہی انہونے پہاڑی کو پار کیا بھیڑیے نے اپنا اصلی خونخوار چہرہ دکھاتے ہوئے پہاڑی کے پیچھے چھپے بیٹھے اپنے ساتھی بھیرئیوں کے ساتھ مل کر بکریوں پہ حملہ بول دیا اور کچھ ہی پل میں سفید برفیلی پہاڑی بکریوں کے خون سے سُرخ ہوگئی اور ظالم دشمن پہ اعتبار کرنے کی قیمت انہیں اپنی جانیں دے کر چکانی پڑی ………

 

اسی لئے بزرگ کہتے ہیں کہ کمزور اور طاقتور , ظالم اور مظلوم کے بیچ کبھی دوستی نہیں ہوسکتی ………..

 

اور یہی حقیقت بھی ہے …..

جیسے گھاس چرنے والا جانور کبھی گھاس سے دوستی نہیں کرتا بالکل اُسی طرح ایک ظالم کبھی مظلوم کا ساتھی, ہمدرد نہیں بن سکتا اور یہ بات محترم بزرگ مولانا ارشد مدنی صاحب سے بہتر اور کون جان سکتا ہے ……..

باوجود اس کے جانتے بوجھتے مولانا کا مسلمانوں کی کھلی دشمن جماعت آر ایس ایس کے لیڈر موہن بھاگوت سے ملاقات کرنا پھر کئی دنوں تک رازداری قائم رکھنا آج مسلمانوں میں تشویش کا باعث ہے ………

بیشک مولانا کا مقصد نیک ہوگا لیکن کیا یہ ملاقات دیگر جماعتوں و تنظیموں کے علماء و اکابرین سے تبادلے خیال کرکے نہیں کی جاسکتی تھی ؟؟؟

ہوسکتا ہے اس طرح کرنے سے بہتر نتائج سامنے آتے ……. لیکن یوں تنہا اپنے آپ جانا ملاقات کرنا پھر سکوت اختیار کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے ………

 

ساتھ ہی حال ہی میں سوشیل میڈیا پہ حضرت کا ایک بیان خوب وائرل ہوا ہے جو موجودہ حالات میں مسلم نوجوانوں کے حوصلے بلند کرنے کے بجائے ان کے حوصلے پست کرنے کے لئے کافی ہے ” ظالم بن کر جینے سے بہتر ہے مظلوم بن کر مرجائیں ” جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ظلم کرنا جتنا گناہ ہے ظلم سہنا بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے, اور ظالم کے حوصلے اُسی وقت بڑھتے ہیں جب آگے والا انسان خود سپردگی کردے ….. ایسے میں مولانا کا یہ بیان ناقابل قبول ہے …….. اس پہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے

 

” ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹہرا

خاموشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرح ………”

 

معذرت کے ساتھ چھوٹا منہ بڑی بات

آج ہمارا حضرت سے سوال ہے …….

کیا ہماری قوم مظلوم بن کر بےموت مرنے کے لئے ہی دنیا میں آئی ہے ؟؟؟

اگر ایسا ہے تو ہمارے علما و اکابرین نے آزادی کے خاطر انگریزوں کے خلاف کیوں بگُل بجایا تھا ؟؟؟؟

اگر اُس وقت وہ بھی یہی الفاظ دہراتے تو آج بھی ہم انگریزوں کی غلامی ہی کررہے ہوتے ؟؟؟؟ ……….

 

یوں تو 2 سال قبل جب مولانا سلمان ندوی صاحب نے بابری مسجد کو لے کر شری شری روی شنکر سے انفرادی طور پہ ملاقات کی تھی اُس وقت مسلمانوں کا ردعمل کسی سے چھپا نہیں ہے کہ کس طرح مولانا سلمان ندوی صاحب پہ تنقید و الزامات کی بوچھار کی گئی تھی اور اس بیچ مسلمانون کے اتحاد کو دھچکا سا لگا تھا …….

اس کے علاوہ بھی مولانا سلمان ندوی صاحب اپنے جذباتی بیانات کی وجہ سے آئے دن سرخیوں میں رہتے آئے ہیں . کبھی رام کو پیغمبر کہہ دیا( نعوذبااللہ ) تو کبھی صحابہ رضی اللہ عنہ کے متعلق غیر ضروری تبصرے کرکے اہل علم حضرات کے درمیان اختلاف برپہ کردیا ………

 

لیکن چند دنوں سے اس سلسلہ کو آگے بڑھارہے ہیں چھوٹے مدنی مولانا محمود مدنی صاحب اور مدنی صاحب تو ندوی صاحب سے بھی چار قدم آگے نکل چکے ہیں ………

 

چاچا مدنی صاحب سے آگے نکلنے کی کوشش نے محمود مدنی صاحب کو یہ کہنے پہ مجبور کردیا کہ موقعہ ملے تو وہ بھی موہن بھاگوت بھاجپائیوں سے ملاقات کرینگے اور حال ہی میں وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات ہو بھی گئی ………

 

یہاں پہ دشمن سے ملاقات کرنا غلط نہیں ہے بلکہ انفرادی طور پہ ملاقات کر کے اُن کے رنگ میں رنگ جانا اور ہر بات میں حامی بھرتے ہوئے اُس کی تائید کرنا غلط ہے ……. کیا ہی اچھی بات ہوتی کہ ہندوستان کی تمام مسلم تنظیمیں و جماعتیں ساتھ مل کر اس کام کو انجام دیتیں اور آر ایس ایس کے آگے بڑے ہی دم دار طریقے سے اپنی بات رکھتی …… لیکن افسوس ایسا نہ ہوا …….

 

اس پہ حد تو تب ہوتی ہے جب کشمیر کو لے کر چھوٹے مدنی صاحب نے اپنا موقف رکھتے ہوئے 370 جیسے ظالمانہ و جاہلانہ فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں ” کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس پہ مزید کشمیریوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” وہ کشمیر میں کسی بھی طرح کی علیحدگی پسند تحریکات کو بڑھاوا نہ دیں, ہم پوری طرح سے بھارت کے ساتھ ہیں, جہاں بھارت وہیں ہم …… آخر کشمیریوں کی مرضی کے بنا اُن کی زندگی کا فیصلا کرنے والے کوئی کون ہوتے ہیں ؟؟؟

 

صرف یہی نہیں اس کے علاوہ ملک بھر میں آسام کی طرح این آر سی کے نفاذ کا بھی مطالبہ کردیا ………

 

اور اس دوران ایک پل کے لئے بھی کشمیر میں کئے جارہے مظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی ,نہ ہی ہندوستان میں کشمیریوں پہ کئے جانے والے حملوں کا ذکر کیا اور نہ ہی کشمیری لڑکیوں کی توہین کرتے ہوئے بھاجپائیوں کی اور سے دئے جانے والے بیانات کا منہ توڑ جواب دے سکے……… جبکہ کشمیری بہنوں کی آبرو بچانے کے خاطر ہمارے سکھ بھائیوں نے اپنی شمشیریں نکالی تھیں , اتنا ہی نہیں ہندوستان میں زیر تعلیم کئی کشمیری طلبہ کو صحیح سلامت اُن کی منزلوں تک پہنچایا , اور خبروں کے مطابق الحمدللہ انسانی حقوق کی علمبردار کہلانے والے ملک امریکہ میں ہمارے سکھ بھائی بہنوں نے مودی کے خلاف سول سوڈ ڈائر کیا ہے اور وہاں کی عدالت نے مودی کے خلاف سمن بھی جاری کیا ہے …………

مگر ہمارے قائد ہمارے رہنماؤں نے کیوں مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز تک نہیں اٹھائی ایک لفظ تک نہیں کہہ سکے ؟؟؟؟؟

 

جبکہ کشمیر میں تقریبا 47 دنوں سے کرفیو

ہے, انسانی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے, ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے جن میں نابالغ بچے بھی شامل ہیں, جبرا گھروں میں گھُس کر ان کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے انہیں پریشان کیا جارہا ہے اور ان حالات کے چلتے کئی کشمیری لڑکیوں کی شادیاں منسوخ کردی گئی ہیں, وہاں پہ دوائی اور غذائی قلت ہے جس سے معصوم بچے و بوڑھے بیمار ہورہے ہیں سننے میں یہاں تک آیا ہے کہ مرنے والوں کے جنازہ مجبورا سہنوں میں دفن کرنے پڑرہے ہیں ………..

 

اپنوں کی اس بےحسی اور غیروں کی ہمدردی کے مدنظر آج ہم یہ کہنے پہ مجبور ہیں

اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں

غیروں نے آکے پھر بھی ہمیں تھام رکھا ہے ………..

 

کیا اُمت مسلمہ کے تئیس ہمدردی رکھنے والوں کو آج ان کشمیریوں کی یہ آہ و پکار سنائی نہیں دے رہی …… 47 دنوں سے بھوک پیاس سے بلکتے کشمیری بچوں پہ ترس نہیں آرہا ؟؟؟

آخر کیوں کشمیر کی بےبسی و لاچاری پہ یہ خاموش ہیں ؟؟؟ کیوں یہ وہاں پہ ہورہے ظلم و ستم کے خلاف کہنے سے قاصر ہیں. ؟؟؟؟ آخر انہیں کس بات کا ڈر ہے ؟؟؟

 

کشمیر تو کشمیر ہندوستان میں ہندی مسلمانوں کی قیادت کا دم بھرنے والے جناب محمود مدنی صاحب کو مآب لنچنگ میں قتل ہورہے تبریز , جنید , قاری اویس جیسے نوجوانوں کا ناحق خون بھی کیوں نظر نہیں آرہا ؟؟؟

 

جو یہ مسلم نوجوانوں کے حوصلے بڑھانے, جہاد فی سبیل اللہ کا سبق یاد دلانے کے بجائے ظالم حکمران کے ظالمانہ فیصلوں کی تائید کرتے ہوئے اپنوں کو مایوس کررہے ہیں ……….

 

آخر سرکار کی جانب سے کونسی گولی کھلائی جارہی ہے انہیں جو یہ ہوش میں رہتے ہوئے بھی بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں

 

اگر انہیں سرکار کے فیصلوں کی تائید کرنی ہی ہے تو بیشک کریں لیکن اپنی ذات تک, نہ کہ دنیا کے آگے خود کو مسلمانوں کا ترجمان بناکر پیش کریں ……… کیونکہ ایک کمزور دنیا پرست انسان کو قوم اپنا قائد نہیں تسلیم کرے گی نہ ہی ان جاہلانہ فیصلوں کی تائید کرے گی ……..

 

افسوس آج ہمارے اپنے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے خاطر خود کو حکمت و مصلحت کی چادر میں چھپارہے ہیں. جبکہ یہ حکمت نہیں بزدلی ہے اور یہ بھائی چارگی, اتحاد کے لئے اٹھتے ہوئے قدموں , بڑھتے ہوئے ہاتھوں میں ہماری بھلائی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی بربادی کا ساز سامان تیار ہورہا ہے ……… جو غیروں کے آگے اپنوں کو نیچادکھانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے .سمجھ نہیں آتا اس کو چاپلوسی کہا جائے یا جی حضوری کا لقب دیا جائے …….

 

بات اتنے پہ ختم ہوتی تو بات کچھ اور

ہوتی لیکن یہاں پہ تو ہندو راجا شیواجی کی تلنا اورنگ زیب جیسے نیک صفت بادشاہ سے کردی گئی ہے اور اُن کی قابلیت پہ رینکنگ بھی دی گئی ہے. شیواجی کو 10 نمبر اور بادشاہ اورنگ زیب کو 8 نمبر سے نواز کر ………

کیا ہماری اتنی اوقات ہے جو ہم اورنگ زیب جیسے بادشاہ کی قابلیت کو جج کرسکیں …… آخر کس نے ہمیں یہ حق دیا ہے کہ ہم حد سے گذرجائیں اور غلط کی تائید , سچ کہنے والوں کی تنقید کرنے لگ جائیں ………….

الحمدللہ نہ ہمارا ضمیر مرا ہے نہ ہی ہماری غیرت مردہ ہے جو ہم دنیا پرستی کے خاطر شخصیت پرستی کو اپنا شیوہ بنالیں ………

 

ویسے بھی آج تو شخصیت پرستی عروج پہ ہے …… جہاں ایک طرف دشمنان اسلام صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کی شان اقدس میں گستاخی کررہے ہیں وہیں افسوس و شرم سے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے والی بات ہے کہ اس گستاخی کا جواب دینے کے بجائے ہم مسلمانوں کی زبانیں گونگی , جسم مفلوج ہوچکے ہیں ……….

 

وہیں برعکس ایک ادنی سے بھی اہل علم کی توہین ہوجائے یا کوئی جانے انجانے میں چند اختلافی جملے کہہ دے تو ان اہل علم حضرات کے حلقوں میں بھونچال آجاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشیل میڈیا زبانی کُشتی کا اکھاڑا بن جاتا ہے وہ تو خیر منائیں ابھی ٹیکنالوجی اتنی ایڈوانس نہیں ہوئی ورنہ جہاں اپنے دینی بھائی پہ زبانی نشتر چلائے جاتے ہیں وہیں تیر شمشیر اور گولی بارود برسائے جاتے …………

 

یہ سوچے سمجھے بنا کہ کوئی کچھ کہہ رہا ہے تو اُسے کچھ تو غلط فہمی ہوئی ہوگی یا اُس کی بات میں کچھ تو سچائی ہوگی کیونکہ دھواں وہیں سے اُٹھتا ہے جہاں پہ آگ لگی ہو ………. اور اگر آگے والا شخص بہتان تراشی بی کررہا ہے تو وقت ایسی چیز ہے جو ہر راز کو فاش کر ہر چہرہ بےنقاب کردیگا کیونکہ جھوٹا لاکھ اپنا گلا پھاڑ لے سچ خاموشی سے اپنے ہونے کا ثبوت دے ہی دیتا ہے اور اس دوران صبر و برداشت کا دامن تھامے رکھنا اعلی ظرفی کی علامت ہے ………

ویسے بھی اپنوں میں نظریاتی اختلافات ہونا عام بات ہے لیکن اس کو اس قدر بڑھاوا دینا کہ گالم گلوج پہ اتر آنا جاہلیت ہے …….. جو آج کل شخصیت پرست نام نہاد اہل علم حضرات میں کھُل کر دکھائی دے رہی ہے ……… جو ایک قسم کی پرستش ہے اور یاد رہے بُت پرستی اور شخصیت پرستی میں زیادہ فرق نہیں ہے ہوتا ……….

 

مضمون کو پڑھتے ہوئے اپنے جذبات پہ قابو رکھیں اور ایمانداری سے خود سے خود کو جواب دیں ….

آج ہم جتنا احترام اپنے علماء و اکابرین کا کرتے ہیں اُن کے آگے بات کرنے یہاں تک کہ کھڑے بھی نہیں ہوتے اس ڈر سے کہ کہیں اُن کی شان میں توہین نہ ہوجائے …..

کیا آج اتنا احترام ہم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ و اہل بیت کا کررہے ہیں ؟؟؟؟؟

 

اگر کررہے ہوتے تو آج گستاخانِ اہل بیت و گستاخان صحابہ رضی اللہ عنہ کے حوصلے اتنے بلند نہ ہوتے ……….. جو وسیم رضوی جیسا منافق کمظرف, خبیث اُمت کی ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی پہ گستاخی کررہا ہے اور اُس جیسے کئی لوگ صحابہ رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیات کو تعصب کا نشانہ بنارہے ہیں لیکن افسوس کے ہم مسلمانوں میں کوئی ایسا بیباک, بانباز, بہادر نہیں بچا جو ان خبیثوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں بلکہ ہمیں تو آپس میں ہی لڑنے سے فرصت نہیں مل رہی ہے جو ہم ان مردودوں کو جہنم رسید کریں. یہی وجہ ہے کہ آج یہ سبھی صحیح سلامت اپنے پیروں پہ کھڑے میڈیا کے آگے بھونک رہے ہیں ……

 

آج ایک دنیاوی استاد کی بےعزتی پہ ہم تیش میں آجاتے ہیں ہمارا خون کھولنے لگتا ہے, مرنے مارنے کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں, ایک دوسرے کی ذاتیات پہ حملہ بول دیتے ہیں …..

لیکن افسوس کہ آج امت کی ماں کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے اور ہم اپنا غصہ طاقت وسیم رضوی جیسے ناپاک نسلوں پہ اتارنے سے قاسر ہیں

 

سمجھ نہیں آرہا آخر دشمن سے لڑنے کے بجائے ہم کیوں آپس میں لڑکر اپنا وقت ضائع کررہے ہیں ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے مسائل کی کمی نہیں ہے, نہ ہی ہم پہ کئے جارہے مظالم میں کوئ کمی آئی ہے نہ ہی دشمنان اسلام کی کمی ہے جو ہم آپس میں چیل کوؤں کی طرح ایک دوسرے کو نوچ رہے ہیں …….

اگر لڑنا ہی ہے تو ہندوتوا کے نام پہ تانڈاؤ مچارہے درندوں سے لڑیں, اُن کے مظالم سے لڑیں اور اپنے حق کے لئے لڑیں ……

 

ہندوستان و ہندی مسلمان پہلے ہی مودی بھگتوں کی وجہ سے برباد ہوچکے ہیں. ایسے میں مسلکوں و فرقہ بندی کے بعد ہمارے اپنے اہل علم حضرات ندوی , مدنی و فلاں فلاں گروہ میں بٹ کر اسلام کے سپاہی کہلانے کے بجائے کوئی مدنی بھگت بنا ہے تو کوئی ندوی بھگت بن کر سوشیل میڈیا پہ اپنوں پر ہی یلغار بول کر اپنی ہی طاقت کھورہے ہیں …….. آخر مودی بھگتوں اور ان شخصیت پرستوں میں کیا فرق رہ گیا ہے وہ شر پھیلارہے ہیں تو یہ مسلمانوں میں اختلاف بڑھا رہے ہیں………. کیا یہ شخصیات اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہوگئے ہیں ( نعوذبااللہ )

جو ان کے خاطر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا دشمن بن کر ایک دوسرے پہ کیچڑ اچھال رہا ہے ……

مانا کہ یہ قابل احترام شخصیات ہیں لیکن ہیں تو بشر ہی نہ اور دنیا میں ایسا کونسا انسان ہے جس سے غلطی نہ ہوئی ہو ؟؟؟؟؟

 

خدارا اس اندھ بھگتی سے باہر نکل کر انسان کو انسان رہنے دیں فرشتوں کا درجہ نہ دیں کیونکہ فرشتے معصوم ہیں لیکن انسان جتنا بھی نیک کیوں نہ ہو دنیا پرستی میں ڈوب کر کسی نہ کسی نازک موڑ پہ نفسی غلام ہوہی جاتا ہے جس سے کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی چوک ہونی کوئی بڑی بات نہیں ہے ……….

 

ویسے بھی 1400 سال قبل ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وحی آنے کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے ابھی کوئی کتنے بھی بڑے عالم جابر کیوں نہ ہوں . کسی کو کوئ وحی نہیں آتی جو اُن کی بات اُن کے فیصلے پتھر پہ کھینچی لکیر بن جائیں کہ لوگ آنکھ موندھ کر اُس پہ اعتبار کرلیں ……… اور یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ ہر ایک کی سوچ ہر کسی کا نظریہ ایک جیسا ہو, نظریات میں بیشک اختلافات ہونا عام بات ہے لیکن اس کو تول دینا جہالت کی علامت ہے جس سے ہماری قوم برباد ہوتی جارہی ہے ……..

 

کیونکہ اگر دنیا میں لفظ اختلاف نہ رہا تو کسی کا ایک غلط فیصلہ بھی ہمارے لئے خطرناک ہوسکتا ہے اور قوم کی تباہی کی وجہ بن سکتا ہے جس کا اندازہ لگاپانا مشکل ہے ………

 

یہاں پہ غورطلب بات یہ بھی ہے کہ آج ہمارے علماء و قائدین جتنی محنت, کوشش , جدوجہد دشمنان اسلام کو منانے اپنا بنانے میں صرف کررہے ہیں. کاش تھوڑی سی محنت اپنے دینی بھائی امت مسلمہ کو ایک کرنے کی کی جاتی تو آج یقینا مسلمانوں کا حال ایسا نہ ہوتا اور نہ ہی جمعیت دو حصوں میں بٹتی نظر آتی ……. افسوس کفار کو اپنا بنانے کی کوشش میں ہم اپنوں سے دور ہورہے ہیں ……..

اورون کو راضی کرنے کے چکر میں ہم خود مسلمانوں میں تفریق کررہے ہیں …………

 

آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بھائی چارہ, نام اتحاد پہ وسرجنوں اور دانڈیا جیسے غیر مذاہب کے رسم و رواج میں شرکت کرنا تو قبول کرلیتے ہیں لیکن مسلکوں و فرقوں کے نام پہ اللہ کے گھر جانا ہمیں گوارہ نہیں آخر یہ کونسا دوہرا معیار ہے ہماری سوچ کا آخر یہ کونسی ذہنیت کو پال رہے ہیں ہم ؟؟؟

جس پہناوے کو اسلام نے منع کیا ہے جس سے کفار و مشرکین کی مشابہت جھلکتی ہے

اُسی پہناوے کو بھگوادھاریوں کے درمیان خود بھی گلے میں بھگوادھاری پٹہ ڈالے نظر آتے ہیں, اس اتحاد کے نام پہ آخر اور کس حد تک جائینگے ؟؟؟

یہاں پہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک اور قول یاد آرہا ہے

دشمن کے ساتھ بیٹھنے والا کبھی آپ کا دوست نہیں ہوسکتا ………

 

اس لئے دشمنوں کے آگے ہاتھ بڑھانے کے بجائے اپنوں کو سینے سے لگائیں , مظلوم کے آنسو پونچھیں کیونکہ وہی آنسو ایک دن طاقت بن کر ظالم کو فنا کرینگے اور

یاد رہے جس دن اُمت مسلمہ ایک ہوجائے گی ان شاءاللہ اُس دن اللہ کے سوا دنیا کی کوئی طاقت نہ ہمیں توڑ سکتی ہے نہ ہی نقصان پہنچاسکتی ہے ……….

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker