مضامین ومقالات

تیری رہبری کا سوال ہے!

مدثراحمد

ایڈیٹر۔ روزنامہ آج کاانقلاب شیموگہ ۔ 9986437327

پچھلے سال جمیعت العلماء کے جنرل سکریٹری ( انڈر کور صدر ) مولانا محمود مدنی نے ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجلس اصلاح المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی حیدرآباد چھوڑ کر باہر آنے کی کوشش نہ کریں ، وہ مسلمانوں کے لیڈر بننے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی ہندوستان کے مسلمانوں کی دعویداری کریں ۔ مولانا محمود مدنی نے نہایت سخت الفاظ میں اسدالدین اویسی کو نصیحت کی تھی ، اس بات کو گزرے ہوئے ایک سال ہوچکاہے ۔ اب مولانا مدنی کا دور چل رہاہے ، وہ مسلمانوں کے امام بننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ، مسلمانوں کی قیادت اور ذمہ داری کے علمبردار ہونے کیلئے مولانا محمود مدنی بیتاب ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آر یس یس کے لیڈروں کے ساتھ بات کرنے کیلئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے اور انہیں آریس یس کے نظریات میں نرمی دکھائی دے رہی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ مولانا محمود مدنی نے ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کا ثبوت پیش کرنے کیلئے پچھلے دنوں جنیوا جاکر وہاں سے یہ صدا بلند کی کہ کشمیر میں حالات بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں اور وہاں کے معاملات میںپاکستان کو مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستانی مسلمان اس بات کو قبول کریگا ۔ ٹھیک ہے ، مان لیتے ہیں کہ پاکستان کو کشمیر کے موقوف پر بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ ہندوستان کا اپنا معاملہ ہے ۔ لیکن انہوں نے یہ کس بنیادپر کہہ دیا کہ کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں ، وہاں خوشحالی لوٹ آرہی ہے اور یہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے ۔ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے یا نہیں یہ فیصلہ کشمیر ی کرینگے اسکے لئے اقوام متحدہ نے 1951 میں ہی کشمیریوں کو حق دے رکھا تھا لیکن اس حق سے محروم رکھنے کے لئے جب ہندوستانی حکومتیں کوششیں کررہی تھیں اس وقت سوسال پرانی جمیعت العلماء کہاں تھی؟۔ کشمیر کے مدعے کو مسلمانوں کا مدعہ نہ مانیں بلکہ انسانیت کا مدعہ مان کر چلیں تو وہاں کے لوگوں کو اب بھی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور کشمیر کو پوری طرح سے الگ تھلگ ماناجاتاہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کشمیر میں حالات کیسے ہیں اور کیا ہیں اس سلسلے میں مولانا محمود مدنی کو کس نے بتایا ؟۔ پوری دنیا کا آزاد میڈیا چلا چلا کر کہہ رہا ہے کہ کشمیریوں کے حقوق سلب کرلیے گئے ہیں ۔ 51 دنوں سے انہیں انکے گھروں میں بندھک بناکر رکھاگیا ہے ، نہ انکے اپنوں کی انہیں خبر ہے نہ انکی خبر انکے اپنوں کو ہے ۔ ہر طرح سے کشمیری مسلمان پریشان ہیں ۔ 50 ہزار سے زائد نوجوان بچے لاپتہ بتائے جارہے ہیں تو مولانا محمودمدنی کو کس بنیادپر یہاں پر خوشحالی دکھائی دے رہی ہے اسکا اندازہ نہیں ہورہاہے ۔۔اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر مولانا محمود مدنی کو جنیوا میں کانفرنس کرنےکیلئے کس نے موقع فراہم کیاہے ؟۔ کو ن تھے انکے اسپانسر اور راتوں رات جنیوا جانے کیلئے انکی راہیں ہموار کیسے ہوئیں ؟۔ بعض حلقوں میں کہا جارہاہے کہ امیت شاہ کی قربت نے محمود مدنی کی راہ آسان کردی ہے اور وہ جنیوا چلے گئے ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مولانا محمود مدنی صاحب فلسطین کی آزادی کے لئے ہندوستان میں بیٹھ کر آواز بلند کرتے ہیں اور کشمیر کی بات کرنے کے لئے جنیوا چلے جاتے ہیں ۔ آخر کونسا پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے اسکا اندازہ نہیں ہورہاہے ۔ ایک طرف ترکی کے سربراہ طیب اردوغان کشمیر کے معاملے کو فلسطین کے معاملے سے جوڑ کر دونوں علاقوں کی آزادی کے لئے آواز اٹھارہے ہیں تو ہمارے اپنے مولوی حضرات کشمیر پر زبان کھولنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ۔ توکلت الاللہ کہنے والے حضرات فرعون کی چھوٹی سے فوج پر خوف کھانے لگے ہیں ۔ ایک طرف انکی جانب سے مسلمانوں کو گمراہ کیاجارہاہے تو دوسری جانب ان سے سوالات کرنے والوں کی ماں بہنوں کو علماء نما شخصیات گالیاں دے رہے ہیں ۔ آج کل ہندوستان میں دو طرح کے لوگوں کا دور چل رہاہے ، ایک مودی بھگت ہیں تو دوسرے مولوی بھگت ۔ دونوں کو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مودی کو کچھ کہتے ہیں تو ملک کا غدار ، ملک مخالف اور دہشت گر د بن جاتے ہیں تو دوسری جانب مولوی سے سوال کیاجاتاہے تو اس پر منافق ، غدار ، کافر کے القاب لگائے جاتے ہیں ۔ یہ بات تو طئے ہے کہ دونوں طرح کے بھگتوں میں سوچنے کی صلاحیت کم ہے ، مشتعل ہونے کا مادہ زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک مسلمانوں کے نام نہاد علماء کی جانب سے دوہری پالیسیوں کو اپنا ئے جانے کے باوجود مسلم حلقوں سے سوالات نہیں اٹھائے جارہے ہیں کہ آخر کس بنیادپر فرعونیت کو تسلیم کرنے کے لئے راہب نما علماء اپنے آپ کو پیش کررہے ہیں ۔ کچھ لوگ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ حکمت کی بات ہے ۔ حکمت کے طورپر جب سو سال پرانی کانگریس ہی خاموشی اختیار کررہی ہے جبکہ انکے ہاتھوں میں اقتدار رہاہے ، مان لیتے ہیں کہ کانگریس سیاسی جماعت ہے اور وہ حکمت سے کام کررہی ہے جبکہ جمیعت العلماء تو سوسال پرانی 20 ملین کارکنوں پر مشتمل مذہبی جماعت ہے تو سنگھ پریوار کی تعظیم کرنے کی نوبت کیوں آن پڑی ہے ؟۔ان سوالات کو اٹھانا مولوی بھگتوں کی نظر میں غلط ہے ۔ جب بھی کسی عالم نما شخصیت کی غلطی کو پیش کیاجاتاہے تو یہ کہہ کر بوال کھڑا کردیاجاتاہے کہ علماء کی بے عزتی کی جارہی ہے اور علماء کی بے عزتی کرنے والاجہنمی ہے ، ٹھیک ہے علماء کی بے عزتی کرنے والاجہنمی ہی ہے مان لیتے ہیں لیکن اس میں بھی علماء کے الگ الگ زمرے ہیں ۔ ابلیس بھی تو عالم ہی تھا تو کیا اس کی توہین کرنے والے جہنمی ہوچکے ہیں ؟۔ جو حق پر ہیں انکی تعظیم کرنی ضروری ہے اور جو فاسدو ں و کافروں کے ساتھ ہوکر حکمت کا دعویٰ کرنے والے عالم نما لوگ ہیں انکی تنقید کرنا کوئی غلط کام نہیں ہے ۔ اچھا ہے کہ اب مولانا محمود مدنی مزید اقتدار کی آس چھوڑ کر اللہ اللہ کرتے ہوئے اپنی آخرت سنوارلیں اور جو لوگ قوم کی قیادت کرنے کے لئے آگے آناچاہتےہیں انکے لئے مواقع فراہم کریں ۔ ضروری نہیں کہ جنازے میں سونے تک حالیہ صدر ، سکریٹری یا ممبر بن کر ہی رہیں اللہ سابق صدر ، سکریٹری اور ممبر کو بھی اپنے بندوں میں شمار کرہی لیتا ہے ۔ خوامخواہ رہبری کا دعویٰ کرتے ہوئے قوم کے رہزن بن کر مسلمانوں کے مستقبل کی سودے بازی کرنے سے گریز کریں ۔ آج امت مسلمہ کو رہبروں کی ضرورت ہے رہزنوں کی نہیں ۔ لیکن یہاں تو ہر قدم پر رہزن ہی دکھائی دے رہے ہیں اور انہیں رہزنوں کی وجہ سے مسلمان زوال کی جانب گامزن ہورہے ہیں ۔ آج واقعی محمود مدنی جیسے علماء مخلص ہوتے ، مسلمانوں کی قیادت کاحقیقی جذبہ رکھتے تو مسلمان اس قدر ہر شعبے میں پسماندہ نہ ہوتے ۔ آزادی کے بعد سے اب تک جمیعت نے مسلمانوں کو ہائی جیک بنا کررکھا ہے اور مسلمانوں کو ہمیشہ اپنے مفادات کی خاطر استعمال کیاہے جبکہ ہندوستانی مسلمانوں نے ان پر ہر معاملے میں بھروسہ کیا، انکی ہر بات کو قبول کیالیکن انہوں نے مسلمانوں کا سوائے ذہنی استحصال کے اور کچھ نہیں کیا۔ جو لوگ انکے بھگت ہیں سوچئے کہ کس طرح سے کچھ نام نہاد مسلم تنظیموںنے مسلمانوں کو کمزور بنادیاہے۔ صرف جمیعت العلماء ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی جماعتیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو اپنے مفادات کی خاطراستعمال کیاہے ۔ سب سے زیادہ کسی ملی جماعت نے مسلمانوں کا استعما ل کیاہے تو وہ مولانا محمود مدنی کی جماعت ہے جنہوں نے مسلمانوں کو دکھا دکھا کر گاندھی پریوار سے قربت حاصل کی ، انکے یہاں مہمان بنے ، انکی مہمان نوازی ، پارلیمنٹ میں رکن بن کر ان سے وفاداری کا انعام پایا۔ لیکن مسلمانوں کو کیا دیا ؟۔ کچھ بھی نہیں ۔ ہاں اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ مسلمانوں کے نام پر انہوں نے بہت کچھ پایا جو انکے قریبی ہی جانتے ہیں ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ایسے قائدہیں جو خود کے سامنے کسی اور کو آگے بڑھنے ہی نہیں دیتے ۔ اسی لیے اسدالدین اویسی کو لیڈر ہی نہیں مانتے ۔ شاید انہیں حالات کے تناظر میں کسی شاعر نے لکھا تھاکہ

اِدھر اُدھر کی بات نہ کر۔ یہ بتا قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں سے نہیں گِلانہیں تیری رہبری کا سوال ہے

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker