مضامین ومقالات

بی جے پی اور شیوسینا کے بنتے بگڑتے رشتے

ڈاکٹر سلیم خان
2014 کا لوک سبھا انتخاب ساتھ میں لڑنے کے بعد صوبائی الیکشن میں بی جے پی نے شیوسینا کو دھوکہ دے دیا تھا اب پھر سے اس تاریخ کو دوہرانے کی تیاری ہورہی ہے ورنہ شیو سینا رکن پارلیمان سنجے راؤت سیٹوں کی تقسیم پر یہ نہ کہتے کہ ’’اتنا بڑا مہاراشٹر ہے۔ یہ جو 288 سیٹوں کی تقسیم ہے، یہ ہندوستان-پاکستان کی تقسیم سے بھی خطرناک ہے۔ راؤت نے یہ بیان مہاراشٹر میں الیکشن کا بگل بجنے کے بعد دیا ہے۔ کانگریس اور این سی پی نے اتحاد کا اعلان کرکےامیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی لیکن بی جے پی اور سینا کے خیمہ میں سناٹا ہے ۔ ایک ماہ پہلے صوبے میں تکونہ مقابلہ تھا لیکن ایم آئی ایم کے ونچت اگھاڑی سے الگ ہوجانے پر اب یہ چوکور ہوگیا ہے۔ ایم آئی ایم کی علٰحیدگی کےاعلان پرکاش امبیڈکر سمیت بہت سے لوگوں نے تنقید کرتے ہوئے اسے جلد بازی قرار دیا تھا لیکن شیوسینا کی بے بسی کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ امتیاز جلیل کا فیصلہ بروقت اور درست تھا۔
 شیوسینا اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے یہ ایک حقیقت ہے کہ فی الحال وہ اتحاد میں جونیر پارٹنر بن گئی ہے۔ ۲۰۰۹؁ تک اس کو بی جے پی پر جو سبقت حاصل تھی وہ اب نہیں رہی ہے ۔ اس وقت سینا نے 169 اور بی جے پی نے 119 نشستوں پر الیکشن لڑا تھا لیکن کم مقامات پر لڑنے کے باوجود بی جے پی کو 46 اور شیوسینا کو 45 پر کامیابی ملی ۔ اس طرح مہاراشٹر کی سیاست میں بی جے پی نے شیوسینا کو زیر کرلیا ۔ ۲۰۱۴؁ کا پارلیمانی انتخاب ساتھ میں لڑنے کے بعد بی جے پی کی مجبوری کا فائدہ شیوسینا اٹھانا چاہتی تھی لیکن امیت شاہ نے اس کو جھٹک دیا ۔ این سی پی کو کانگریس سے الگ کروا کر بی جے پی نے خود بھی اکیلے لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بی جے پی 122 نشستوں پر کامیاب ہوگئی اور شیوسینا 63 پر سمٹ کر رہ گئی ۔
اس بار کانگریس اور این سی پی چونکہ اپنے بقاء کی جنگ ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں اس لیے بی جے پی نہیں چاہتے ہوئے بھی شیوسینا کو اپنے ساتھ لینے کے لیے مجبور ہے اس کے باوجود وہ شیوسینا کے ساتھ وہی کھیل کھیل رہی ہے جو ونچت نے ایم آئی ایم کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی تھی ۔ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ ۴ اکتوبر ہے لیکن ابھی تک سینا اور بی جے پی کے بیچ نہ تو یہ طے ہوا کہ کون سی پارٹی کتنی سیٹ لڑے گا اور نہ یہ فیصلہ ہوسکا ہے کہ کون سا امیدوار کہاں سے لڑے گا ؟امیت شاہ ۲۲ ستمبر کو ممبئی آئے تو یہ امید تھی کہ وہ کوئی فیصلہ کرکے جائیں گے لیکن وہ تو صرف دفع ۳۷۰ کا گانا گا کر چلے گئے۔ انہوں نے ادھو ٹھاکرے سے ملاقات تو دور شیوسینا کا ذکر کرنا تک گوارہ نہیں کیا الٹا یہ کہہ کر چلے گئے کہ ’کچھ ہو یا نہ ہو‘ بی جے پی کی حکومت بنے گی ۔ سیاسی گلیارے میں اس ہونے یا نہ ہونے کو شیوسینا کے ساتھ مفاہمت کا ہونا یا نہ ہونا مراد لیا جارہا ہے ۔
ادھو جی ٹھاکرے کا اس بیچ یہ بیان بھی آگیا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے ذریعہ فہرست کے جاری ہونے کا انتظار کررہے ہیں ۔ اس کو پارٹی میں پیش کرکےحتمی فیصلہ کریں گے ۔بالا صاحب ٹھاکرے کے زمانے اس طرح کے بیان کا تصور بھی محال تھا کیونکہ اس وقت لال کرشن اڈوانی اور پر مود مہاجن جیسے رہنما ماتو شری کے چکر کاٹتے تھے ۔ اب تو امیت شاہ اور فڈنویس پوچھ کر نہیں دیتے پھر بھی شیوسینا بی جے پی کی چوکھٹ پر ہاتھ باندھے کھڑی رہتی ہے۔ بی جے پی نے شیوسینا کی حالت جسودھا بین جیسی بنا رکھی ہے کہ نہ تو ساتھ رکھاجاتا ہے اور نہ ہی ساتھ چھوڑاجاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ فڈنویس سے جب اخباری کانفرنس میں اتحاد کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس کی جتنی فکر آپ لوگوں کو ہے اتنی ہی ہمیں بھی ہے اور صحیح وقت پر فیصلہ بتا دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یکساں سیٹ کا کیا مطلب ہے یہ بھی واضح ہو جائے گا۔
شیوسینا کی یہ دلیل رہی ہے کہ قومی انتخاب میں بی جے پی اور صوبائی الیکشن میں اس کو فوقیت ملنی چاہیےلیکن اس بار اس نے زیادہ نشستیں مانگنے کے بجائے ابتداء ہی مساوی سیٹوں کے مطالبے سے کی جو اس کی اخلاقی شکست تھی ۔ بی جے پی اس پر راضی نہیں ہوئی تو کہا جاتا ہے کہ شیوسینا نے کم از کم ۱۳۵ نشستوں کا مطالبہ کردیا مگر وہ بھی بی جے پی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ بی جے پی کےچانکیہ ایک نیا فارمولا پیش کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ پچھلی مرتبہ بی جے پی کو جو122 اور شیوسینا کو 63نشستیں ملی تھیں انہیں اسی طرح چھوڑ کر باقی ماندہ ۱۰۳ سیٹوں کو برابر برابر تقسیم کرلیا جائے ۔ اس طرح بی جے پی کی 174اورشیوسینا کی 114بنتی ہیں ۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو ۲۰۰۹؁ کی طرح 169 اور119پر راضی ہیں لیکن سینا کے بجائے بی جے پی بڑا بھائی اور بی جے پی کی جگہ شیوسینا چھوٹا بھائی ہوگا۔ شیوسینا اگر حقیقت پسندی سے کام نہ لے تو اس کو کاوش کا یہ شعر (مع ترمیم) پڑھنا پڑے گا؎
عجیب لوگ سیاست کے سنگ ریزوں سے تعلقات کے شیشوں کو توڑ دیتے ہیں
 بی جے پی کے اس گھمنڈ کی ایک وجہ کانگریس کے بہت سارے مراٹھا رہنماوں کا کمل تھام لینا ہے۔ اس کے سبب حزب اختلاف کے علاوہ شیوسینا کی بھی گھبراہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ اس صورتحال نے بی جے پی کے پرانے کارکنان کو بے چین کردیا ہے ۔ اس کی مثال ستارا ضلع ہے جہاں سے این سی پی کے رکن پارلیمان ادین راجے بھونسلے بی جے پی میں آگئے ۔ اس سے ناراض ہوکر پچھلی بار ان کے خلاف الیکشن لڑنے والے بی جے پی کے امیدوار دیپک پوار این سی پی میں چلے گئے ۔ اس طرح حساب برابر ہوگیا یعنی ا وجین راجے جتنے لوگوں کو اپنے ساتھ لائیں گے دیپک پوار اتنے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر جائیں گے ۔ بی جے پی کے ریڑھ کی ہڈی اس کا او بی سی ووٹ بنک ہے اور اب مراٹھوں کی آمد سے وہ عدم تحفظ کا شکار ہوگیا ہے بلکہ اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کررہا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے مہاراشٹر کی سیاسی تاریخ پرنگاہ ڈالنی ہوگی ۔
کانگریس نے سب سے پہلے مغربی مہاراشٹر کے مراٹھا رہنما یشونت راو چوہان کو وزیر اعلیٰ بنایا ۔ان کے بعد وی پی نائک کو وزیر اعلیٰ بناکر او بی سی سماج اور ودربھ کا اعتماد حاصل کیا ۔ اس زمانے میں مراٹھوں کے علاوہ مسلم اور دلت سماج بھی کا نگریس کے ساتھ تھا ۔ براہمنوں کی اکثریت کمیونسٹ پارٹی میں تھی ۔ وی پی نائک کے بعد جب کانگریس پر پھر سے مراٹھوں کے نرغے میں چلی گئی تو کانگریس کے او بی سی اسی طرح بے چین ہوگئے جیسے کہ آج ہیں ۔ ودربھ میں اس کیفیت کا فائدہ بی جے پی نے اٹھایا ۔ ناسک و کوکن میں شیوسینا اس سے فیضیاب ہوئی ۔ اسی کے نتیجے میں 1995؁ کے اندر بھگوا تحاد کامیاب ہوگیااور مہاراشٹر میں سینا بی جے پی کی پہلی حکومت قائم ہوئی ۔ سیاسی افق پر اس تبدیلی کے بعد کمیونسٹوں کا زور ٹوٹ گیا ۔ اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے بالا صاحب ٹھاکرے نے منوہر جوشی کے طور پر مہاراشٹر کو پہلا براہمن وزیر اعلیٰ دیا لیکن مایوسی کا شکار براہمن سماج نے بی جے پی کا رخ کیا اس طرح بی جے پی کی حالت سینا سے بہتر ہوگئی۔
2019؁ میں قومی انتخاب کے بعدبی جے پی نے کانگریس کو کمزور کرنے کے لیے وکھے پاٹل اور ادین راجے جیسے مراٹھارہنماوں کو اپنی جماعت میں شامل کر لیا۔ اس سے او بی سی سماج کو ایسا لگا کہ جیسے ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ ایسے میں یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ کہیں وہ بی جے پی سے ناراض ہوکر کانگریس این سی پی کی طرف نہ نکل جائے ؟ اس کو حزب اختلاف کی جھولی میں جانے سے روکنے کا کام ونچت اگاڑھی سے لیا جارہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پرکاش امبیڈکر دلتوں اور مسلمانوں سے زیادہ او بی سی کی طرف توجہ دے رہے ہیں ۔ فی الحال بی جے پی کی کامیابی کا دارومدا ر ونچت کی کامیابی پر ہے ۔ وہ اگر این سی پی کانگریس اتحاد کو او بی سی ووٹ سے محروم رکھنے میں کامیاب ہوجائے تو بی جے پی کی راہ سہل ہوجائے گی ورنہ بی جے پی کو اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی ۔ بی جے پی کی بھلائی اسی میں ہے کہ انانیت کو ترک کرکے شیوسینا کو ساتھ رکھے ورنہ اگر شیوسینا کا تیر کمان سے نکل کر کمل کے سینے میں اتر گیا تو ونچت کے چائے کی پیالی اس کے کسی کام نہیں آئے گا۔فی ا لحال بیچاری سینا ’قطار میں انتظار ‘ کررہی ہے ۔ ایم آئی ایم کی کم ازکم یہ حالت نہیں ہے۔ وہ انتخابی تیاریوں میں مصروفِ عمل ہے۔سینا اور بی جے کا اتحاد اگر ٹوٹ جائے تو اس پر ثمر کاوش کایہ شعر صادق آئے گا؎
گر دچہرے پہ تھی بچھڑنے کی دیر تک آئینہ خراب لگا
(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker