مضامین ومقالات

سیاست پبلک سیفٹی پر بھاری پڑرہی ہے۔۔۔!

اُمیش چترویدی

ترجمہ: نازش ہما قاسمی

نئے موٹروہیکل قانون کو لے کر جاری بحث میں امریکہ، سنگا پور، روس اور چین جیسے بڑے ممالک میں لگنے والے بھاری جرمانے کی خاص گفتگو نہیں ہورہی ہے، نئے موٹروہیکل قانون کو لے کر ہندوستانی لیڈر شپ کے رویے نے ہمارے سسٹم کی اصلیت ظاہر کردی ہے۔ سرکار اور عام لوگ چاہتے ہیں کہ بہترین سہولیات کےساتھ ہر شہری کی زندگی کی حفاظت بھی ہو؛ لیکن سیاست اپنے مفادات کے دائرے میں اس قدر بندھی نظر آرہی ہے کہ وہ لوگوں کے مفادات کے نام پر نئے قانون کو لاگو کرنے میں من مانی کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون اور اس کے لاگو کرنے کے طریقے پر سوال اُٹھنے لگے ہیں۔ کثیر جرمانے کے نام پر اپوزیشن کی قیادت والی ریاستوں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، راجستھان او رپنجاب میں نیا موٹروہیکل ایکٹ لاگو نہ کرنے کو لے کر کوئی شکوہ نہیں تھا؛ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سڑک حادثوں کےلیے سرخیوں میں رہنے والی بی جے پی کے زیرِ اقتدار  ریاست ہماچل پردیش نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔

گجرات نے بھاری جرمانے کو کم کردیا تو اترپردیش، ہریانہ اور اتراکھنڈ بھی اسی ڈگر پر ہیں جبکہ جھارکھنڈ نے تین مہینے کےلیے عوامی بیداری کا راستہ اپنا رکھا ہے۔ مہاراشٹر نے جرمانہ کم کرنے کو لے کر مرکز کو خط لکھا ہے اور کیرل کی بھی یہی خواہش ہے۔ ہریانہ اور مہاراشٹر میں اکتوبر ماہ اور جھارکھنڈ میں اس سال کے اخیر تک اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں؛ لہذا یہاں کی حکومتیں خائف ہیں۔ بھاری جرمانے کی وجہ سے لوگوں کی مخالفت کا ڈر انہیں ستا رہا ہے؛ لیکن جن ریاستوں کو ابھی الیکشن کا سامنا نہیں کرنا ہے وہاں اس قانون کو لے کر حکومتی مخالفت سمجھ سے پرے ہے۔

زبان جیسے مدعے پر کھلی سیاسی مخالفت کے عادی ملک میں اس قانون کی اتنی مخالفت نہیں نظر آرہی ہے؛ لیکن قانون توڑنے والوں کو جس طرح کثیر جرمانے سے راحت دی جارہی ہے وہ بھی ایک طرح سے اس قانون کی مخالفت ہے۔

شہریوں کی جان سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہوسکتا؛ لیکن طویل وقفے تک مشورے کے بعد پارلیمنٹ کی منظوری دلانے کے بعد جب اس قانون کو عمل میں اتارا جانے لگا تو پردے کے پیچھے سے مخالفت شروع ہوگئی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ریاستوں سے اس بارے میں بات چیت نہیں کی گئی تھی۔ اور اگر کی گئی تھی تو پھر وہ اس طرح مخالفت کیوں کررہے ہیں۔ ویسے ریاستوں کو سمجھانے کےلیے مرکز کی طرف سے کوئی خاص کوشش بھی نظر نہیں آرہی ہے۔ یہ حالت اس وقت ہے جب ملک کے سڑک حادثوں کی خوفناک تصویر پر اقوام متحدہ تک فکر ظاہر کرچکا ہے۔ اس کے اعدادوشمار کے مطابق سڑک حادثوں سے ہر سال ہندوستان کی جی ڈی پی میں تین فیصد کی کمی ہوجاتی ہے۔ حادثوں کی وجہ سے ہر سال دارجلنگ یا رڑکی کی آبادی جتنے لوگ بے وقت موت کے شکار ہوجاتے ہیں، ان میں ۱۸ سے ۳۵ سال کی عمر والوں کاتناسب تقریباً ۶۵ فیصد ہے۔

عوامی پیسوں کا اتنا بڑا نقصان ہی وجہ ہے جس کی وجہ سے بھارت نے اقوام متحدہ کی براسلین میٹنگ میں بین الاقوامی سمجھوتے پر دستخط کیا ہے۔ اس کے مطابق ملک کو سال ۲۰۲۲ تک سڑک حادثوں میں مرنے والوں کی تعداد گھٹا کر آدھے پر لانی ہے؛ لیکن لاپروا ڈرائیونگ اور قانون سے بے پروائی کا عالم یہ ہے کہ ۲۰۱۶ کے مقابل میں سال ۲۰۱۷ میں سڑک حادثوں میں صرف 3.27فیصد ہی کمی آئی ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۸ کی رپورٹ کےمطابق سال ۲۰۱۶ میں جہاں چار لاکھ ۸۰ ہمار ۶۵۲ سڑک حادثے ہوئے، وہیں ۲۰۱۷ میں اس میں معمولی کمی درج کی گئی اور یہ تعداد ۴ لاکھ ۶۴ ہزار ۹۱۹ رہی۔ یعنی فوت شدہ لوگوں  کی تعداد میں صرف دو فیصد کا ہی فرق آیا۔ مرکزی وزارت ٹرانسپورٹ کے اعدادوشمارکے مطابق ہیلمٹ نہیں پہننے کی وجہ سے ۲۰۱۸ میں ملک بھر میں تقریباً ۴۳ ہزار لوگوں کی  موت ہوئی، جبکہ ۲۰۱۷ میںیہ تعداد تقریباً ۳۴ ہزار تھی۔

اس قانون کی مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سڑکوں کے گڈھے بھی حادثوں کی وجہ بنتے ہیں۔ سال ۲۰۰۰ کے مقابل میں اب تک سڑکوں کی وسعت محض ۳۹ فیصد ہی ہوئی ہے؛ لیکن اسی عرصے میں آٹوموبائل انقلاب اور بڑھتی قوت خرید کی وجہ سے گاڑیوں کی تعداد میں ۱۵۸ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ سڑکوں میں ریاست اور قومی شاہراہوں کی حصہ داری محض پانچ فیصد ہی ہے؛ لیکن ان پر ہی سب سے زیادہ یعنی ۵۲ فیصد حادثے، ڈارک اسپیس، اندھا موڑ، گڈھوں اور تیز رفتار ڈرائیونگ سےہوتے ہیں۔ زیادہ کمائی کے چکر میں قوت برداشت سے زیادہ سامان اور سواریوں کی ڈھلائی حادثوں کی وجہ ہے۔ شراب پی کر گاڑی چلانا، لال بتیوں کی ان دیکھی اور سیٹ بیلٹ نہ باندھنا جہاں شہریوں  کا مستقل  رویہ ہے وہیں قومی شاہراہوں پر سمت مخالف سے گاڑی لانے سے بھی مقامی لوگوں کو پرہیز نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش میں قومی شاہراہ کے ٹھیک درمیان  میں جگہ جگہ گئو ونش بھی نظرآتے ہیں۔

ہمارے یہاں جب بھی ترقی کی بات ہوتی ہے تو ترقی پذیر ممالک کی مثال دی جاتی ہے؛ لیکن نئے موٹروہیکل ایکٹ کو لے کر جاری بحث میں امریکہ،سنگا پور، روس اور چین جیسے بڑے ممالک میں عائد ہونے والے بھاری جرمانے کی چرچا نہیں ہورہی ہے،بھوٹان، فن لینڈ، دبئی اور جاپان جیسے چھوٹے ملکوں میں بھی موٹر وہیکل ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر لوگوں کو جتنا جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے وہ وہاں ملنے والی اوسط ماہانہ تنخواہ سے زیادہ ہوتی ہے ۔ موجودہ ماحول میں جس طرح نئے قانون پر سوال اُٹھ رہے ہیں، اس سے لگتا نہیں ہے کہ براسیلیا سمجھوتے کے تحت یہ مقصد جلد حاصل کیاجاسکے گا اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ سسٹم نافذ ہوپائے گی۔ ایسے میں ہندوستان پانچ کھرب کی معیشت والا ملک کیسے بنے گا اور اگر بنے گا بھی تو کیا اس کی بنیاد افراتفری ہی ہوگی؟ اس پر شہریوں سے زیادہ سیاسی پارٹیوں کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker