مضامین ومقالات

کشمیر_ منطقی قیادت اور جھوٹ!

محمد صابرحسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

قیادت کی بات چھوڑیے! انسانیت کی بات کیجیے! دل کی بات کیجیے! غیرت و حمیت اور ہمدردی و رواداری کی بات کیجیے! آپ کے سینے میں دل ہے، تو وہ مظلوموں کیلیے کیوں نہیں دھڑکتا؟ دھڑکنیں اگر چلتی ہیں تو ان سے بے کسوں کیلئے آہ کیوں نہیں نکلتی؟ کیوں آپ کی چیخیں ایوان ظالم کو ہلاتی نہیں ہیں؟ نسل کش حکمرانوں کے کانوں کو اور ان کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جگاتی نہیں ہیں؟ ڈپلومیسی اور منطقی استدلال کے بجائے دوٹوک باتیں کیوں نہیں نکلتیں؟ اپنے گردنیں اونچی کرنے کیلئے دوسروں کی لاشوں کا سہارا کیوں لینا پڑ رہا ہے؟ نسلی شرافت میں اپنی قباحت کیوں چھپائی جارہی ہے؟ آپ نے ملک کا سہارا لیکر اور حب الوطنی کی گٹار لیکر سریلی آواز نکالنے کی کوشش کی، پھٹے ہوئے ڈھول سے تماشا کھڑا کرنا چاہا، اپنی وفاداری جتانے کی سعی لاحاصل کی ہے، اگر آپ سوچتے ہیں کہ اس دوہرے رویہ سے سنگھ کی جماعت اور زعفرانیت کی سوچ نرم پڑ سکتی ہے، یا یہ کہ ملک کی قیادت آپ سے خوش ہوجائے گی، نعمت و نوازش ہو جائے گی، پناہ دہندہ مل جائے گا، اور اگر آپ یہ مانتے ہیں کہ ملک کی حمایت کے نام پر کسی بھی اونے پونے اور ظالمانہ رویہ کی پیٹھ تھپتھپا دینے سے وفادار اور وطن پرست تصور کر لئے جائیں گے، تو آپ غلط ہیں۔
ایسوں کی سوچ پر تف ہے؛ کہ صدیاں گزرجانے کے باوجود ہزاروں بار ایک ہی بل سے ڈنس لئے جانے کے باوجود موسم کی گرمی اور شدت حرارت کا اندازہ کرلینے کے باوجود فصل بہار کی امید لگائے ہوئے ہیں، خزاں میں پھل اور پھول چاہتے ہیں، بنجر زمین سے اناج کی تمنا ہے، صحرا سے ندی اور چشمے کے ابل جانے کا گماب ہے، یہ گمان دراصل گمان فاسد ہے، لایعنی ہے، عین ظلم کے وقت دوستی کی پالیسی تاریخ کی نئی پالیسیوں میں سے ہے، ستم کا اندازہ کر ہے وقت سے پہلے فتنوں کا سد باب کیا جاتا ہے، راہیں مسدود کرنے کیلئے صلح بھی کی جاتی ہے؛ لیکن سر پر لٹکتی تلوار ہو اور دوستی کا شگوفہ ہو دونوں کسی طرح میل نہیں کھاتے، بالخصوص جن کی رگوں میں خون سے زیادہ نفرت کی روانی ہو، جنہوں نے صبح و شام کا تناول انسانیت کو اور گوشت و پوست مسلمانوں کی نفرت کو بنالیا ہو ان سے بھی خیر کی امید کی جائے!!! ان کے قول و افعال کی تاویلیں کی جائیں، اور یہ کہا جائے کہ وہ مسلمانوں کیلئے نرمی کا معاملہ کر سکتے ہیں، ہندوازم کی پالیسیاں بدل سکتی ہیں، تو کیسی بے تکی بات ہے، اور کیسی بچکانی بات ہے، ایک نوجوان مفکر نے اسے صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا ہے۔
باغباں کچھ متفکر سا نظر آتا ہے
ہو نہ ہو باغ میں پھوٹی ہے کوئی بات نئی

30/09/2019

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker