مضامین ومقالات

کشمیر پر طرفہ تماشہ!

محمد صابرحسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

دیکھ کر ہنستے ہیں سب آشفتہ سامانی مری
اک تماشہ بن گئی ہے چاک دامانی مری
اس سے کوئی انکار نہیں کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے، وہ تاریخی اعتبار سے ہندوستان کے ساتھ ایک معاہدہ سے منسلک ہے؛ لیکن جسم کے کسی حصے پر بار بار ضرب لگایا جائے، اس کی صحت و عافیت کا خیال نہ رکھا جائے، تو وہ بھی اپنا ساتھ چھوڑ دیتا ہے، اور یہ ظلم تو خود ایک ایسا عنصر ہے جو سماج کو اٹوٹ نہیں رہنے دیتا، اس کے اعضاء کو شل کر دیتا ہے، اپاہج بنا دیتا ہے، بسااوقات اس حصہ کو کاٹ کر الگ کرنا پڑتا ہے، ذرا سوچئے! کشمیر کے ساتھ کیا ہوا؟ پچھلے ستر سالوں سے کشمیر ہمارا ہے، کیونکہ وہاں کی خوبصورتی بے مثال ہے، ٹورزم میں اس کا کوئی ثانی نہیں، فخر و افتخار میں وہ ہندوستان کی ناک ہے، ہندوستان کے خوش رنگ چہرے پر ماتھے کی “بندیا” ہے، دلہن کی تصویر ہے، بلند ناک اور بلند نام ہے، قدرتی خزانوں سے مالامال ہے۔
اس کے باوجود یہ کہ کشمیری ہمارے ہیں، ہم کشمیر کیلئے ہیں، اگر کشمیر کے پھل ہمارے ہیں وہاں کے ٹورزم کا پیسہ ہمارا ہے تو اس ٹورزم کی دیکھ ریکھ کرنے والے اور پھلو کو اگانے والے بھی ہمارے ہیں ___ اس کا احساس کسی نے نہ دلوایا، بلکہ اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوا کہ کسی دلکش اور دلنشین باندی کو زیر تصرف لایا جائے اور اسی کے ساتھ زور زبردستی بھی کی جائے، لطف کے ساتھ ساتھ اسے پامال بھی کردیا جائے، چنانچہ فوجوں کے ذریعہ اور انسانی حقوق کی پامالی کرتے ہوئے جنت کو جہنم بنانے کی پالیسی اختیار کی گئی، جس کی داستان طویل ہے، بے حد افسوسناک اور غمناک ہے، گھاٹی کا چپہ چپہ خونی قصوں پر گواہ ہے، جائیے اور کبھی فرصت ہو تو چمن کے بکھرے ہوئے داستان کو بھی پڑھیے!!!_
دور ہی سے وہ گزر جاتے ہیں منہ پھیرے ہوئے
ان سے بھی دیکھی نہیں جاتی _ پریشانی مری
ان سب کے درمیان طرفہ تماشہ دیکھیے! ابھی ایک باب ختم بھی نہ ہوا تھا کہ پھر ایک طویل باب کی ابتدا کردی گئی، چنانچہ خصوصی صوبہ کا درجہ ہٹا دیا گیا، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اس خاص رعایت کے ہٹ جانے کے بعد کیا ہو رہا ہے؟ ظلم ننگا ناچ کررہا ہے، ستم اپنے پورے شباب پر ہے، اس قدر عروج پر ہے کہ عالمی برادری میں ہلچل ہے، ہر طرف سے مذمتی بیانات کی بارش ہورہی ہے، ہندوستان کی عدم تشدد والی تصویر سے گرد صاف ہورہی ہے، ہر جگہ مورد الزام ٹھہرا ہے، برطانیہ کے لیبر پارٹی نے اظہار افسوس کیا ہے، اور اپنی ایک ڈیلیگیشن بھیجنے کی تجویز پاس کی ہے، جو کشمیر کے حالات بتائے گی، امریکہ جیسا سوپر پاور جو خود ظلم کا دیوتا بنا ہوا ہے، وہاں کے چودہ ممبر پارلیمنٹ نے ہندوستانی حکومت سے گزارش کی ہے؛ کہ کشمیر پر سے ظلم کو روکا جائے، وہاں امن بحال کیا جائے۔
تو وہیں امریکہ نے ایلس ویلس نامی خاتون کے ذریعے وہاں سے آفیشلی بیان جاری کیا ہے کہ کشمیر کے سلسلہ میں جلد از جلد بہتر قدم اٹھایا جائے، پاکستان سے بھی بات کی جائے، کمیونیکیشن کے تمام ذرائع بحال کئے جائیں، جن لوگوں کو نظر بند کیا گیا ہے ان سب کو آزاد کیا جائے، اسے ایک صوبہ کا درجہ دیا جائے اور فوری طور پر وہاں انتخابات کروائے جائیں_ نوبت یہ آن پڑی ہے کہ ہندوستان کا قریبی دوست ملک ملیشیا نے بھی سخت رد عمل ظاہر کیا ہے، ہندوستان کو غاصب اور نسل کش قرار دیا ہے، اور ناجائز طور پر کشمیر پر قبضہ کرنے کی بات کہی ہے، اور یہ مشورہ دیا ہے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ مل کر اس معاملہ کو فورا نپٹایا جائے_ ترکی اور پاکستان کو چھوڑیئے وہ تو روز اول ہی سے اس ظلم کے خلاف سراپا آواز بنے ہوئے ہیں؛ لیکن سنتا کون ہے؟ حتی کہ اقوام متحدہ میں بات رکھ دی گئی ہے، کھلے عام انسانیت سوزی کا رونا رویا جا چکا ہے؛ مگر سب مہر بہ لب ہیں، ساری صدائیں صدا بہ صحرا ثابت ہورہی ہیں۔

01/10/2019

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker