مضامین ومقالات

امیت شاہ_ اور مسلمان، مسلمان میں فرق

محمد صابرحسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

پورے ملک میں ہنگامہ ہے کہ این، آر، سی لاگو ہونے والی ہے، آسام میں کڑوروں روپئے خرچ کرنے کے باوجود صرف انیس لاکھ لوگوں کو قومی فہرست سے الگ رکھ پائے، جن میں بڑی تعداد ہندوں کی ہے، اور مسلمان تقریبا آٹھ لاکھ ہیں؛ حکومت ہند کے ساتھ کھودا پہاڑ نکلی چوہیا سے بڑی بات اور کچھ نہیں ہوئی، ان میں بھی بہت سارے ایسے ہیں جو اگلے مراحل کے اندر قومی فہرست میں شامل کر لیے جائیں گے، اس شرح کے بعد پورے ملک میں آواز بلند کی گئی اور یہ احتجاج کرنے کی کوشش کی گئی بالخصوص میزورم، آسام اور ناگالینڈ پیش پیش رہے، اور مانا گیا کہ یہ بل ملک ہی نہیں؛ بلکہ انسانیت کے خلاف ہے، یکا یک کسی کو بھی تمام حقوق سے محروم کردینا اور اسے سڑک پر لے آنا کسی طرح بھی جائز نہیں، اس آواز کا زور دکھنے لگا تھا اور سارا کا سارا ہیولہ اس طرف موڑا جارہا تھا کہ وہ بل صرف آسام کی حد تک تھا اور اب جو کاروائی ہوگی وہ عمومی آبادی کی گنتی کی ہوگی، نہ کہ این، آر، سی کی، اور یہ کوئی بڑی بات نہیں بلکہ ہر گیارہ یا بارہ سال میں اس کاروائی کو انجام دیا جاتا ہے۔
مگر فی الوقت ملک کی لگام جن کے ہاتھوں میں ہے، ان کے سامنے زعفرانیت کا رنگ اولیت رکھتا ہے، ملکی مفاد یا آئین کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اسی لئے یہ حکومت اڑیل واقع ہوئی ہے، وہ شطرنج کی ہر چال نیشنلزم پر کھیلنا چاہتی ہے، چنانچہ ابھی کئی صوبوں میں الیکشن ہونے کو ہیں، اور ہر محاذ پر حکومت کے بے سر و پا اوندھے منہ گرجانے کی وجہ سے وہ مجبور ہے؛ کہ پھر اسی راگ کو چھیڑا جائے، توقع رنگ لائی اور امیت شاہ نے پورے ملک میں اس بل کے لاگو کرنے کا تہیہ کر لیا، بلکہ حد تو یہ ہے کہ اس بل کے مطابق صرف اور صرف مسلمان ہی ہوں گے جو اگر اپنی نیشنلٹی ثابت نہ کرپائے تو ملک بدر کردیے جائیں، اس کے علاوہ ہر قوم اس ملک میں رہ سکتی ہے، اگر وہ نیشنلٹی ثابت نہ بھی کر پائی تو سیٹیزن امینڈمنٹ شپ بل لایا جائے گا، جس کے اعتبار سے وہ بآسانی ملک کے باشندے قرار پا جائیں گے۔
یہ بل کلی طور سے ملکی آئین کے خلاف ہے، دستور ہند میں اس کی گنجائش نہیں ہے کہ مذہب کے نام پر تفریق کی جائے، اور کوئی بھی قانون پاس کیا جائے؛ لیکن اب اسے مانتا کون ہے؟ موہن بھاگوت صاف صاف بیان دے چکے ہیں؛ کہ ملک ہندو اکثریت ہے اس لئے ہندو راشٹریہ ہے، بلکہ اب تو ہمارے نام نہاد مسلمان قائد بھی یہ کہہ چکے ہیں؛ کہ ملک میں کسی بھی خارجی ممالک کے مسلمان برداشت کے قابل نہیں، انہیں نکال دینا چاہئے، اس سے پہلے وہ سر عام حکومت کی کئی چیزوں میں حمایت کر چکے ہیں، ایک بار تو انہوں نے اپنی تقریر کر دوران کہہ دیا تھا کہ پورے ملک میں این، آر سی لاگو کی جانی چاہئے___ یہ تمام نادانیان ہماری اعلی صفوں کی جانب سے ہے، کم از کم دستور ہند کو اگر نہیں پڑھتے تو قران کو حدیث کو صحیح سے پڑھ لیتے!!
اسلام کا نظریہ مسلمان کے بارے میں یہ ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کی بنا پر ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں، وہ ایک دوسرے کو مظلوم اور بے بس نہیں چھوڑتے، کسی دشمن کے سپرد نہیں کرتے، کسی دوسرے کو تکلیف نہیں پہونچاتے___ بلکہ یہاں تک ہے کہ سارے مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، اگر جسم کے کسی حصہ کو تکلیف پہونچے تو جس طرح پورا بدن کراہ محسوس کرتا ہے، اسی طرح لازم ہے کہ ہر مومن ایک دوسرے مومن کی تکلیف کو محسوس کرے، اس کیلئے آسانیاں پیدا کرے، اگر کوئی کمی ہے تو اسے دور کرنے کی کوشش کرے؛ لیکن کسی ظالم کے حوالے نہ کرے___ یہ ساری روایتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں_ کاش پڑھنے والے کچھ تو پڑھ لیتے___ دینداری کی عبا ڈالے ہوئے دین سے بھی نیاز اور دنیاوی قیادت کے متمنی دنیاوی تعلیم سے بھی عاری ہوگئے ہیں، ایسی قیادت اور ایسی امت کا خدا بھلا کرے!

04/10/2019

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker