مضامین ومقالات

اردو شاعری میں مے اور میخانہ__!!!

محمد صابرحسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

اردو شاعری میں مے اور میخانہ کا ذکر نہ ہو تو شاعری ادھوری ہے، دیوان ناقص ہے، جذب و کیف کا قصہ اور دل کے پھپھولوں کا بیان نامکمل ہے، تقریبا شعراء نے اسے اپنی شاعری میں اور خیال و فکر کی گلیاروں میں جگہ دی ہے، اس میدان کو خمریات کہا جاتا ہے، جس کے اندر شراب نوشی کے لوازمات جیسے جام سبو، صراحی، نشہ و خمار کے الفاظ بطور استعارہ استعمال کر کے روحانی مضامین اور صوفیانہ خیالات کو بھی نہایت خوبی کے ساتھ باندھا جاتا ہے، یہ بات حیران کن لگتی ہے کہ ایک حرام اور دوسرا مطلوب کیسے مستعار ہوسکتے ہیں؛ لیکن سمجھنے کہ بات یہ ہے کہ یہ مماثلت دل کے اثر اور جگر سوزی کو بیان کرتے ہیں، اس سے بھی انکار نہیں کہ بہت سے شعراء نے خمریات کو اپنا نشہ عام کرنے کا ذریعہ بنایا اور لوگوں کو شراب نوشی کی دنیا کی سیر ایسے کرائی جیسے دنیا کا مدار اسی پر ہے، اگر دنیا سے شراب رخصت ہوجائے تو جہاں کا کام بند ہوجائے، اگر دنیا ہے تو وہ صرف اور صرف میخانہ ہے، اور مے موشی ہے، اسی پر انسانی زندگی کا انحصار ہے، اور شاعر کی شاعری اگر ہے تو وہ بھی اسی کی بدولت ہے، غالبیات میں بھی اس کا تذکرہ کچھ ایسے ہی ملتا ہے، مگر اس کا یہ ایک پہلو ہے؛ حالانکہ اس کے صحیح استعمال سے بھی کوئی انکار نہیں ہے، لیکن غالب کی زندگی سے واقف حضرات جانتے ہیں؛ کہ ان کی زندگی میں مے نوشی کا مقام کیا تھا؟ زندگی گویا زندگی نہیں اگر خمار نہیں، شعر کا کوئی بند مکمل نہیں اگر ساقی اور بادہ خواری کا ذکر نہ ہوجائے، جیسا غالب کا خود یہ بیان ہے:
ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو
بنتی نہیں بادہ و ساغر کہے بغیر
ان شعراء میں ریاض خیرا بادی ایسے شاعر ہیں جن کی شاعری بھی مے اور میخانہ کے بیان میں ممتاز ہے، بلکہ انہیں بہت حد تک دوسرے شعراء پر فوقیت حاصل ہے، اس سے زیادہ کمال کی بات یہ ہے کہ وہ خود شراب نوشی سے ہزاروں کوس دور تھے، پاک طبیعت اور پاک باطن و پرہیزگار آدمی تھے، خدا ترس اور نیک دل انسان تھے، دراصل اردو شاعری میں مے خانوں کا تذکرہ کوئی مستقل وجود نہیں رکھتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ اصل فارسی شاعری کی دین ہے، اور اسی کی ناونوش کا ہنگامہ تھا، اور یہ روایت اسی راستے سے اردو دنیا کا حصہ بنی تھی، بالخصوص فارسی شاعر حافظ اور خیام کے بہت سے موثر ہونے کی بنا پر بھی، چونکہ ان کی شاعری بادہ و ساغر میں ڈوبی ہوئی ہے، جس کا اثر ان اردو شعرا نے بھی قبول کیا، اس تقلید پر علامہ حالی نے بڑی تنقید کی ہے، انہوں نے ان شعراء کو آڑے ہاتھ لیا ہے، جنہوں نے اسلام کے ساتھ بادہ خواری کے بیان کو لازم قرار دیا ہے، یہ بات ان کے مقدمہ شعر و شاعری کے اندر پوری شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے، اور فرضی مے کشی پر شدید حملہ ہے، یہ اس لئے بھی کہ اسلام میں شراب نوشی حرام ہے، لیکن ذرا دیکھیے! ریاض خیرا بادی کیا کہتے ہیں:
کچھ زہر نہ تھی شراب انگور
کیا چیز حرام ہوگئی ہے۔
چھلکائیں بھر کے لاو گلابی شراب کی
تصویر کھینچیں آج تمہارے شباب کی

خمریات کے سلسلہ میں یہ تصور ریاض صاحب کے یہاں بہت زور و شور سے پایا جاتا ہے، گویا شراب صرف شراب نہیں بلکہ کچھ اور ہی ہے، جس کا ادراک صرف انہیں کو ہے، ذرا دیکھیے کس طرح اسے بیان کرتے ہیں:
میرا یہی خیال ہے گو میں نے پی نہیں
کوئی حسین پلائے تو یہ شئی بری نہیں
اخیر میں امیر مینائی کا یہ سعر ضرور سنئے!
جوانی لے گئی ساتھ اپنے سارا عیش مستوں کا
صراحی ہے، نہ شیشہ ہے، نہ ساغر ہے نہ مستی ہے

09/10/2019

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker