ہندوستان

اگر کیس جیت بھی جائیں تو زمین حکومت کو دی جائے

 

بابری مسجدکیس کے حل کے امکانات :نام نہاددانشوران سرگرم

مسلم لیگ نے میٹنگ کے خلاف دھرنادیا،کسی بھی قیمت پربابری مسجدسے دستبردارنہیں ہوں گے

لکھنو۔۱۰؍اکتوبر: سپریم کورٹ میں بابری مسجد کیس کی سماعت آخری مرحلے میں ہے ،ایسے میں چندنام نہاددانشورسرگرم ہیں،شبہ کیاجارہاہے کہ یہ سب کسی کے اشارے پرہورہاہے یاسودے بازی کی تیاری ہے۔ باہمی مفاہمت کے بہانے اندرون خانہ کوشش جاری ہے۔جمعرات کو لکھنو ¿ میں مسلم فار پیس آرگنائزیشن کی دعوت پر ملت کونسل کے قومی صدر مولانا توقیر رضا خاں سمیت کئی نام نہاددانشورشریک ہوئے ۔سب نے متفق ہوکر تجویز پاس کی کہ متنازعہ زمین مرکزی حکومت کو دی جانی چاہیے۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں دوبارہ سماعت شروع ہونے سے پہلے جب ثالثی پینل تشکیل دیاگیاتھاتویہ نام نہادبہی خواہان ملت کہاں ہیں۔اب جب کہ دلائل بابری مسجدکے حق میں مضبوط طورپرپیش کیے جارہے ہیں،تویہ ٹولہ سرگرم ہوگیاہے۔یہ بھی خیال رہے کہ بارہ اکتوبرکومسلم پرسنل لاءبورڈکی مجلس عاملہ کی اہم میٹنگ ہورہی ہے جس پربابری مسجدکے فیصلے کے امکانات اوربعدکے حالات اورلائحہ عمل سمیت اہم مسائل پرغورکیاجائے گا،سپریم کورٹ میں سات فریقوں کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کرنے والامسلم پرسنل لاءبورڈاوراہم فریق جمعیة علمائے ہندکاواضح موقف ہے کہ صرف عدالت کافیصلہ منظورہوگا،مصالحت کی ساری کوششیں ناکام ہوچکی ہیں،خودبرادران وطن کے کئی فریق مصالحت کی بات نہیں مان رہے ہیں۔لیکن اسی لکھنومیں نام نہاددانشوران کاٹولہ سرگرم ہوچکاہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کورٹ میں مسلم فریق جیت بھی جائے تو بھی وہ زمین رام مندر کے لیے دے دی جائے۔ہندوستان میں لوگ امن کے حامی ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کریں گے، لیکن بہتر ہوگا کہ، مفاہمت سے ایودھیا تنازعہ حل ہو۔انہوںنے کہا کہ حکومت مسلمانوں کے دیگر مذہبی مقامات کی حفاظت کو یقینی بنائے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ضمیرالدین شاہ نے کہا کہ ہندوستان میں امن کے حامی ہیںسپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کریں گے، لیکن بہترہوگا کہ صلح سے معاملہ حل ہو۔واضح ہوکہ یہ ضمیرالدین شاہ آرایس ایس لیڈرگریش جویال اوراندریش کمارکے قریبی ہیں اورخفیہ ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ریٹائرڈ آئی اے ایس انیس انصاری نے کہا کہ ہمیں ثالثی کے ذریعے ایودھیا معاملے کو حل کرنا ضروری ہے۔ مقدمہ چلتا رہے، زمین سنی وقف بورڈ کے ذریعے مرکزی حکومت کو سونپی جائے، مسجدکے لیے علیحدہ جگہ دی جائے۔ جنہوں نے مسجد کو شہید کیا، انہیں جلد سزاملے۔ ایودھیا میں دوسری مساجد کی بحالی کی منظوری ملے۔ لیکن، جب تک تمام فریق راضی نہیں ہوں گے، معاملہ حل نہیں ہو گا۔ بڑا طبقہ چاہتا ہے کہ صلح ہو جائے۔سابق وزیرمعین احمد نے کہاہے کہ ہم اپنی تجویز کو وقف کمیٹی کے پاس بھیجیں گے۔اگر محبت کے لیے مسجد کی جگہ چھوڑتے ہیں تو کسی کو کیا دقت ہے۔سنی وقف بورڈ کے چیئرمین کو پیشکش بھیجی جائے گی۔اس کانفرنس کی مخالفت میں انڈین مسلم لیگ نے حضرت گنج واقع گاندھی مجسمہ پردھرنا دیا۔ مسلم لیگ لیڈر متین خان نے کہا کہ، کچھ لوگ بابری مسجد کی سوداگری کرنے پر آمادہ ہیں۔ہم قوم کی امانت بابری مسجد کو قطعی گفٹ نہیں دیں گے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔کورٹ میں چھ فریق ہیں، پانچ فریقوں نے تسلیم کیا ہے کہ، ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کومانیں گے۔ ایک سنی سینٹرل وقف بورڈ اس بات کو نہیں مان رہا ہے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker