مسلم دنیا

ترک فوج کی شام میں کارروائی، 15 ہلاک

 

ہندوستان کی سخت مذمت ، شام کے ساتھ پرامن گفتگو کرکے مسائل کو حل کرنے کی اپیل

موجودہ صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس جاری، عرب لیگ کاہنگامی اجلاس ۱۲؍اکتوبر کو

استنبول۔ ۱۰؍اکتوبر: شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترک فوج کی فضائی کارروائی میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔خبر ایجنسی کے مطابق شمال مشرقی شام میں ترکی نے فوجی فضائی حملے اور زمینی کارروائی شروع کردی، اطلاعات کے مطابق ترک طیاروں کی بمباری سے 8 شہریوں سمیت 15 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے آپریشن سینٹر میں کارروائی کا جائزہ لیا، انہوں نے کہا کہ آپریشن شام کی جغرافیائی وحدت کا تحفظ کرے گا اور مقامی لوگ دہشت گردوں سے آزاد ہوں گے۔دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ڈومنک راب کا کہنا ہے کہ ترکی کی یک طرفہ کارروائی ناقابل قبول ہے، شام میں ترکی کی یک طرفہ فوجی کارروائی پر شدید تشویش ہے۔ڈومینک راب کا کہنا تھا کہ ترک فوجی اقدام سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہوگا، انسانی مصائب میں اضافہ اور داعش کے خلاف پیشرفت کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ہے۔شام میں ترک فوجی کی کارروائی کی ہندوستان نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس کارروائی سے فکر مند ہیں اور اس سے شام کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی اپیل کی۔ حالانکہ ترکی کا دعویٰ ہے کہ کردک فوجیوں اور اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کارروائی کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کے ذریعے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ ہم شمال مشرق شام میں ترکی کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی پر فکر مندر ہیں۔ ترکی کی اس کارروائی سے دہشت گردی کے خلاف لڑی جارہی لڑائی کمزور ہوجائے گی او رعلاقے کی سلامیت بگڑے گی۔ یہ انسانیت اور مقامی لوگوں کےلیے بھی کافی فکر کا موضوع ہے۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی کہاکہ ترکی سے ہم نے یہ اپیل کی ہے کہ وہ شام کے ساتھ پرامن گفتگو کرکے مسائل کو حل کریں۔ ہندوستان نے ترکی کی مخالفت ایسے وقت میں کی ہے جب حال ہی میں ترکی کے صدر نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اُٹھاتے ہوئے پاکستان کی حمایت کی تھی ۔ ترکی نے کئی بار کشمیر میں مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بات کی ہے ساتھ ہی ترکی کے صدر نے کشمیر کا موازنہ فلسطین سے کرنے میں بھی پیچھے نہیں رہے۔ علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ نے شام میں ترک جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترک اقدام سے داعش کے خلاف عالمی کوششیں کمزور ہوں گی، خطے کی سلامتی اور استحکام پر منفی اثرات پڑیں گے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ترک شام سرحد پر تعینات فوجی دستے کو واپس بلالیا تھا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان 13 نومبر کو امریکا کا دورہ بھی کریں گے۔ترک وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ان کی فورسز نے کردوں کے 181 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، ترکی کے اس آپریشن کے نتیجے میں کرد ملیشیا کے 16 ارکان ہلاک ہو گئے۔فضائی کارروائی کے بعد ترک فوج اور اس کے شامی اتحادی دریائے فرات کے مشرق کی جانب شامی علاقے میں داخل ہوئی۔ترک مسلح افواج نے شام میں PKK/PYD اور داعش دہشت گرد تنظیموں کے خلاف شروع کردہ پیس سپرنگ آپریشن کے دائرہ کار میں بری کاروائی شروع کر دی ہے۔ترک فوج نے تین مختلف مقامات سے سرحدیں پار کرتے ہوئے علاقے کو اپنے قبضے میں لینے والے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو خشکی سے جاری رکھنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔وزارتِ دفاع کی جانب سے اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ ترک مسلح افواج اور شامی قومی فوج نے پیس سپرنگ آپریشن کے دائرہ کار میں فرات کے مشرقی کنارے میں بری آپریشن شروع کر دیا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ترکی نے فضائی کاروائی آج سہ پہر4 بجے صدر رجب طیب ایردوان کے احکامات پر شروع کی تھی۔ جس کے بعد ترک لڑاکا طیاروں نے شامی سرحدوں کے اندر 30 کلو میٹر تک پرواز کرتے ہوئے دہشت گردوں کے اہداف کو تباہ کر دیا تھا۔مختلف رپورٹس کے مطابق تل ابیض شہر کے قریب شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ترکی کی کارروائی میں کرد ملیشیا کے 16 ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔خیال کیا جا رہا ہے کہ شام میں 3 برس میں ہونے والے تیسرے فوجی آپریشن میں ابتدائی طور پر تل ابیض اور راس العین کے درمیانی 100 کلومیٹر کے علاقے پر ترکی کی توجہ مرکوز رہے گی۔شام کی موجودہ صورتِ حال پر سلامتی کونسل کا اجلاس جاری ہے یہ اجلاس فرانس، برطانیہ، جرمنی، بلجیئم اور پولینڈ کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔ جبکہ عرب لیگ نے 12 اکتوبر کو ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker