ہندوستان

اعلی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے رحمانی 30 کا انٹرنس ٹیسٹ یکم دسمبر کو

 

 

ملک بھرکے 300 سے زیادہ مراکز پر منعقد ہوگا، آن لائن فارم بھرنے کی آخری تاریخ 15نومبر ہے

 

پٹنہ:10 اكتوبر ( عنا یت اللہ ندوی/بصیرت آن لائن)

 

 

رحمانی پروگرام آف ایکسلنس (رحمانی30) نے نئے سیشن (2020-22) کے لئے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے رحمانی 30 کا انٹرنس ٹیسٹ امسال 1 دسمبر 2019 کو بہار، بنگال، جھارکنڈ، یوپی، دہلی، راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش، ممبئی، مہاراشٹر، کرناٹکا، حیدر آباد اور گوا سمیت ملک بھر کے 300 سے زائد مقامات پر منعقد ہوگا، اس انٹرنس ٹیسٹ میں مسلم اقلیت کے طلبہ وطالبات حصہ لے سکیں گے، جس کے لیے انھیں آن لائن فارم بھرنا ہوگا۔ تفصیلات کے لیے اس ویب سائٹ www.rahmanimission.org پر طلبہ وطالبات کو لاگ اِن کرنا چاہیے۔

 

 

واضح رہے کہ پچھلے سال رحمانی30 کے انجینئرنگ کے 93% طلبہ وطالبات جے ای ای مینس میں کامیاب ہوئے تھے جبکہ 43 طلبہ آئی آئی ٹی ایڈوانسڈ میں کامیاب ہوئے۔ میڈیکل کے امتحان میں میں سو فیصد طلبة کامیاب رہے اور ان میں سے 80 فیصد طلبة 90 پرسنٹایل سے اوپر رہے. آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اور جواہر لال نہرو انسٹیٹیوٹ اف پوسٹ گریجویٹ میڈیکل اینڈ ریسرچ جیسے علی تعلیمی اداروں میں رحمانی30کے طلبہ کامیاب رہے. اس سال کامرس کے 80 فیصد طلبہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے سی پی ٹی کے امتحان میں کامیاب رہے جبکہ کہ سو فیصد طلباء نے نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے فاؤنڈیشن کہ امتحان میں کامیابی حاصل کی. ان کامیابیوں کا اجمالی جائزہ rahmanimission.org پر موجود ہے.

 

 

رحمانی30 کا قیام 2008 میں مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی نے جناب ابھیانند جی (سابق ڈی جی پی بہار) کی اکیڈمک نگرانی میں کیا تھا۔ جس کا مقصد مسلم سماج کے طلبہ وطالبات کو قومی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرانا اور اعلی اداروں میں پہنچانا تھا۔ الحمد للہ رحمانی30 کے بینر تلے مسلم طلبہ وطالبات نے انجینئرنگ، میڈیکل اور اکاؤنٹ کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

 

رحمانی30 کا انٹرنس ٹیسٹ اسٹیٹ بورڈ، سی بی ایس ای(CBSE) اور سی آئی سی ایس ای(CISCE) کے مشترکہ نصاب پر مبنی سوالات پر منعقد ہوتا ہے۔ یہ سوالات ریاضی، فزکس، کیمسٹری، بايولوجي، انگریزی زبان اور اسلامی معلومات پر مشتمل ہوتے ہیں، اس کے علاوہ مینٹل میتھ میٹکس اور اپٹی ٹیوڈ کے سوالات بھی ہوتے ہیں۔ خیال رہے کہ اِس امتحان میں شرکت کے اہل صرف وہی طلبہ وطالبات ہیں جو اس سال دسویں جماعت میں شریک ہیں اور 2020 میں دسویں جماعت کا امتحان دے رہے ہیں۔

 

 

مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی نے گذارش کی ہے کہ طلبہ وطالبات، گارجین حضرات، اسکول کے ذمہ داران اور قوم کے دانشوران وائمہ کرام اِس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

 

یقینا یہ مسلم سماج کے لیے ایک بڑی کامیابی اور خوش آئند مستقبل کا ضامن ہے کہ مختلف سرکاری کمیٹیوں کی جانب سے تعلیمی اور اقتصادی طور پر پسماندہ قرار دیے جانے کے باوجود اِس سماج کے طلبہ وطالبات نے اجتماعی طور پر اعلیٰ مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کا پرچم بلند کرنا شروع کیا ہے۔ قوم کے درمیان سے تعلیمی پسماندگی کو دور کرنا اور ایک تابناک مستقبل کے لیے مضبوط ومستحکم قدم اٹھانا ہم سب کا قومی وملی فریضہ ہے۔

 

واضح رہے کہ رحمانی 30 کے طلبہ وطالبات نے مختلف موقعوں پر یہ ثابت کیا ہے کہ اگرانجینئرنگ، میڈیکل، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، این ڈی اے، اولمپیاڈ، کے وی پی وائی جیسے اعلیٰ مقابلہ جاتی امتحانات میں ایک مضبوط اور واضح پلاننگ کے ساتھ حصہ لیا جائے تو کامیابی یقینا قدم چومے گی۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker