مضامین ومقالات

اختلاف و انتشار کی صورت میں علماء کا موقف

 

عبد اللہ سلمان

اسلام اجتماعیت کی دعوت دیتا ہے۔اسلام ایک داعی امت ہے۔ یہاں دو قسم کے لوگ آباد ہیں ایک داعی کی حیثیت رکھتا ہے، اوردوسرا مدعوکی حیثیت۔ داعی کا کام ہے لوگوں کو اسلام کی طرف بلانا۔اسلامی تعلیمات کو عام کرنا۔اسی طرح اسلام میں اتحاد و اتفاق مقصود ہے نہ کہ اختلاف و انتشار، اسلام امن کی دعوت دیتا ہے۔اس میں اجتماعیت کو ہر جگہ اور ہر مقام پر مقدم رکھا گیا ہے۔ نہ کہ تفرقہ بازی و فرقہ بندی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ان ھذہ امتکم امة واحدة وانا ربکم فاعبدون۔(الانبیائ۲۹)یقیناً یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمہارا رب ہوں، تم میری عبادت کرو۔ دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے: واعتصمو ابحبل اللِّٰہ جمیعًا ولا تفرقوا۔ (آل عمران ۳۰۱)اور تم سب اللہ کی رسی (قرآن وحدیث) کو مضبوطی سے تھام لو اور الگ الگ نہ ہو جاو¿۔

مسلمان دوراوّل سے لے کر آج تک ایمانی مراتب ودرجات کے لحاظ سے مختلف رہے ہیں۔یہاں آپ تین قسم کے لوگوں کو پائیں گے:

(ا)کچھ وہ ہیں جو ایمان کے اعلیٰ مقام پر پہنچ چکے ہیں(۲) اور کچھ ایسے ہیں جن کو ایمان کے ادنیٰ درجہ تک ہی رسائی ہوئی ہے۔(۳) اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اعلیٰ اور ادنیٰ کے درمیان والے درجے کو پہنچے ہیں، لیکن ان سبھوں کو اسلامی تعلق نے جوڑکر رکھا ہے، البتہ ان کے حساب وکتاب کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، جب تک کوئی مسلمان ملت اسلامیہ سے جڑا رہے اور اس سے نہ نکلے، ایسے مسلمان کے ساتھ اس کے ایمان کے بقدر دوستی وتعلقات رکھنا ضروری ہے۔

علماءکا احتیاط اور پاس ولحاظ: مسلمانوں میں اتحادواتفاق قائم کرنے کے لئے علمائے کرام نے چند آداب وقواعد بتلائے ہیں، جن کا لحاظ کرنا اور ان کی پابندی کرنا بے حد ضروری ہے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں: (۱) وہ کسی مسلمان کو ملت (دین) سے خارج نہیں کرتے جب تک دین سے خارج کرنے کی مکمل شرائط نہ پائی جائیں اور قبول حق کے سلسلے میں ساری رکاوٹےں دور نہ ہوجائیں۔(۲) وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ کسی کے مومن ہونے کا اقرار کرلینے میں غلطی کرجانا بہتر ہے بہ نسبت اس پر کفر کا حکم لگانے کے۔(۳) وہ کسی خاص آدمی کو کافر یا ملعون قرار دینے کے سلسلے میں حد سے زیادہ احتیاط برتتے ہیں، اور اپنی زبان کو اس سے بچاتے ہیں۔(۴) بلکہ وہ کسی کو کافر قرار دینے میں جلد بازی نہیں کرتے، اگر چہ کہ وہ غلطی کر بیٹھیں یا وہ بدعت کا کام کریں یا فسق میں مبتلا ہوں۔(۵) وہ اجتہادی مسائل میں کسی کو نہ گنہگار ٹھہراتے ہیں، اور نہ ان سے قطع تعلق کرتے ہیں۔(۶) جب کبھی کسی سے قطع تعلق کی ضرورت محسوس ہوتو یہ عمل صرف اسے ادب سکھانے اور اصلاح کی غرض سے ہو، نہ کہ اسے برباد کرنے، اور اس کی برائی دور کرنے کی غرض سے ہواور نہ اسے ذہنی ایذاءپہنچا کر اسے ختم کردینے کی غرض سے۔(۷) ان کا خیال ہے کہ وہ کسی کے ظاہر کو تو قبول کریں گے، البتہ اس کے باطن کو اللہ کے حوالہ کریں گے، وہی باطن کے احوال جاننے والا ہے، نیزان کا یہ بھی خیال ہے کہ کوئی بھی حکم لوگوں کے ظاہر کو دیکھ کر لگائیں گے نہ کہ دلوں کے اندر جھانک کر۔ اس تعلق سے امام شاطبیؒ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقین وغیرہ کے احوال وحی الٰہی کے ذریعہ معلوم کرانے کے باوجود آپ سارے احکامات ان کے ظاہر کو دیکھ کر ہی جاری کیا کرتے تھے۔ اگر چہ کہ آپ ان کے باطنی احوال سے واقف ہوتے۔(الموافقات ۲۲۷۱۔فقہ الائتلاف ۹۹۱)

تعریف اور مذمت میں عدم اعتدال :

ہماری غلطیوں میں سے ایک بڑی اور اہم غلطی یہ ہے کہ ہم ہراس شخص کی تعریف میں حد سے تجاوز کرجاتے ہیں، جس سے ہم محبت کرنے لگتے ہیں، یا اس شخص کی مذمت میں تجاوز کر جاتے ہیں جو بھی ہمارے ساتھ بغض رکھے یا ہماری مخالفت کرے بلکہ اس پر حملوں کی بوچھار کردیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس سے ہم محبت کرتے ہیں اس سے غلطےاںبھی سرزد ہوتی ہیں، لیکن ہم ان سے آنکھ بند کر لیتے ہیں، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس سے ہم بغض رکھتے ہیں اس کے اندر بہت ساری خوبیاں او ر بھلائیاں بھی ہوتی ہیں، لیکن ہم اس معاملہ میں اس کے ساتھ حق تلفی پر اتر آتے ہیں، بلکہ ان خوبیوں کے بیان میں انصاف کے ساتھ بھی نہیں پیش آتے۔ جب کہ اعتدال کی راہ تو آپ کو ان دونوں معاملوں کے درمیان ہی ملے گی۔

ایک ہی شخص میں بھلائی او ربرائی دونوں اکٹھا ہوسکتی ہیںاسی لئے علماءنے کہا ہے کہ:”واذا اجتمع فی الرجل الواحد خیر وشر وفجور وطاعة وسنة وبدعة، استحق من الموالاة والثواب بقدر مافیہ من الخیر، واستحق من المعاداة والعقاب بحسب مافیہ من الشر، فیجتمع فی الشخص الواحد موجبات الاکرام والا ھانة فیجتمع لہ من ھذا وھذاکاللص الفقیر تقطع یدہ لسرقتہ ویعطی من بیت المال مایکفیہ لحاجتہ“ (الفتاویٰ لابن تیمة ۸۲۹۰۲)

جب کسی آدمی میں بھلائی وبرائی، نیکی وبدی اور سنت وبدعت اکٹھا ہو جائیں تو وہ شخص دوستی وثواب کا اسی قدر مستحق ہوگا جس قدر اس کے پاس بھلائی ہوگی۔ اسی طرح وہ شخص دشمنی وسزا کا اسی قدر مستحق ہوگا جس قدر اس کے پاس برائی ہوگی۔ ایک ہی شخص میں عزت و ذلت کے دونوں اسباب اکٹھا ہو سکتے ہیں تو ایسے شخص کے ساتھ خیر کی بنیاد پر دوستی اور برائی کی بنیاد پر دشمنی والے دونوں معاملات بیک وقت انجام دئےے جاسکتے ہیں۔اس کی مثال اس محتاج چور جیسی ہے جس کا ہاتھ تو اس کی چوری کی بنیاد پر کاٹا جائے گا، لیکن اس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اسے بیت المال سے دیا جائے گا۔ (الفتاویٰ لا بن تیمیة ۸۲۹۰۲)

صحابہ کرام کا طرز عمل: اتفاق پیدا کرنے اور اختلاف کا دائرہ کم کرنے اور اس کے برے اثرات کو ختم کرنے کے تعلق سے آپ کو دوسروں کیلئے نمونہ بننا چاہئے۔ جب کبھی علمی مسائل، اجتہادی امور اور فروعی معاملات میں اختلاف پیدا ہوتو بھی باہمی تعلق کو استوار رکھنا چاہئے اور اس میں کمی آنے نہیں دینا چاہئے، کیونکہ اختلاف رائے کو محبت میں بگاڑ کا سبب نہیں بنانا چاہئے۔صحابہ کرام کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ جب کبھی وہ اجتہادی مسائل میں ایک دوسرے سے اختلاف کرجاتے تو اس صورت میں بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور خیر خواہانہ جذبہ کے ساتھ ہی پیش آیا کرتے، کبھی علمی، اعتقادی مسائل میں اختلاف کے باوجود بھی باقی رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

یہ وہ باتیں ہیں جن کو علمائے کرام نے بیان کیا ہے، جیسے شاطبی وابن تیمیہ رحمة اللہ علیہم وغیرہ نے۔ (الموافقات ۴۶۸۱۔الفتاویٰ ۹۱۳۲۱)

اختلاف کبھی رحمت ووسعت کا سبب بھی بنتا ہے: اے مسلمانو!تم یہ نہ سمجھو کہ علماءکے درمیان چند مسائل میں جو اختلافات ہیں وہ فساد وبگاڑ کا سبب بننے والا ہے۔ بلکہ اختلاف کبھی رحمت ووسعت کا سبب بنتا ہے۔( بل قدیکون الاختلاف رحمة وسعة (الفتاویٰ۰۳۰۸)

عمر بن عبدالعزیزؒ کا فقاہت پر مبنی یہ قول مشہور ہے، آپ نے فرمایا مجھے یہ بات مسرور کن نہیں ہوتی کہ صحابہ کرام نے کبھی اختلاف نہیں کیا۔ کیونکہ اس صورت میں صحابہ کرام کسی بھی ایک بات پر اکٹھا ہوجاتے تو ان کی مخالفت کرنے والے شخص کا شمار گمراہ لوگوں میں ہو جاتا۔ اگر وہ لوگ اختلاف کرتے تو ایک آدمی ایک صحابی رسول کے قول کو اختیار کرتا اور دوسرا آدمی دوسرے صحابی رسول کے قول کو اختیار کرتا تو اس سے دین میں گنجائش ووسعت نکل آتی۔ (الفتاویٰ ۰۳۰۸)

امام ابن تیمیہؒ سے ایک واقعہ منقول ہے:امام ابن تیمیہؒ نے ایک شخص کا واقعہ نقل کیا ہے کہ اس نے ایک کتا ب تصنیف کی، اور اس کا نام کتاب الاختلاف (اختلاف کی کتاب) رکھا۔ تو امام احمدؒ نے ےہ سن کر اس سے فرمایا ” اس کتاب کا نام کتاب الوسعة (گنجائش ووسعت والی کتاب) رکھو۔ (الفتاویٰ ۴۱۹۵۱، فقہ الائتلاف ۷۲)

اتحاد واتفاق کی خاطر مستحب اعمال کو چھوڑا جاسکتا ہے: ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ علماء، داعی حضرات پر یہ ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو جوڑنے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کبھی اتفاق واتحاد مستحب چیزوں کے چھوڑنے سے پیدا ہوسکتا ہے تو انہیںچھوڑ کرہی سہی، کیونکہ کبھی کبھی لوگوں کو جوڑنے اور دلوں کو اکٹھا کرنے کی مصلحت، مستحب اعمال کو ادا کرنے سے بھی زیادہ بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔

امام ابن تیمیہؒ کا قول: اس تعلق سے امام ابن تیمہؒ کہا کرتے تھے، آدمی کے لےے یہ بات اچھی ہے کہ وہ دلوں کو جوڑنے کاارادہ کرے، بھلے ہی مستحب اعمال کو چھوڑ کر ہی کیوں نہ ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل: دین کے اندر دلوں کو جوڑنے کی مصلحت ان جیسے اعمال کے کرنے کی مصلحت سے زیادہ اہم ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبة اللہ کی عمارت میں تبدیلی لے آنے کے ارادے کو ترک کردیا، کیونکہ موجودہ شکل کو باقی رکھنے سے لوگوں کے دل جڑے رہتے ہیں۔

عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا عمل: جیسا کہ عبداللہ ابن مسعودؓ نے دوران سفر حج، نماز مکمل پڑھنے پر حضرت عثمانؓ پر نکیر تو کیا، لیکن آپ نے ان کے پیچھے ہی نماز مکمل اداکی اور کہاکہ الخلاف شر۔ مخالفت کرنا بری بات ہے۔ (الفتاویٰ ۲۲۷۰۴)

امام ابن تیمیہؒ کی اماموں کو نصیحت: اسی لئے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ اماموں کو ہدایت دیا کرتے تھے کہ وہ لوگوں میں اتفاق رائے پیدا کریں، اگر چہ کہ بعض مستحب چیزوں کو چھوڑ کر ہی کیوں نہ ہو، آپ کہا کرتے تھے، اگر امام کسی بات کو مستحب سمجھتا ہے او رمقتدی کسی اور بات کو مستحب سمجھتے ہیں تو امام کا اتفاق واتحاد کی خاطر ان مستحبات کو چھوڑ دینا زیادہ بہتر ہے۔ (الفتاویٰ ۲۲۸۲)

تفرقہ کی مذمت میں اللہ کافرمان ہے: ترجمہ: یقیناً جنھوں نے اپنے دین کو جدا کردیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، پھر وہ ان کے اعمال کے بارے میں خبر کرے گا جن کو وہ کیا کرتے تھے۔(الانعام ۰۶۱)

حق کو واضح کریں لیکن ادب کے ساتھ: علماءکو اتحادو اتفاق پیدا کرنے کی غرض سے ہر مفید طریقہ کو بروئے کار لاناچاہئے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ وہ دین کو جیسا چاہیں موڑ دیں یا حق کہنے سے خاموش ہو جائیں اور باطل کی وضاحت سے کنارہ کشی اختیار کرلیں، بلکہ اتفاق قائم کرنے کی خاطر ہر ممکن کوشش کریں اور اختلاف رائے کرتے وقت آداب اختلاف کو ملحوظ رکھیں۔

عام لوگوں کے روبرو متحدہ موقف کا اظہار: یہ بات کتنی اچھی اور اہم ہے کہ علماءآپس میں ایک دوسرے کے ساتھ الفت ومحبت سے پیش آتے ہوئے ایک دوسرے کی عزت کرتے ہوئے اور عام لوگوں کے روبرو جھگڑانہ کرتے ہوئے لوگوں کے پیدا کردہ فتنہ کے بگاڑ کو دور کریںاور اصلاح کا بہترین طریقہ اختیار کریں۔

٭٭٭٭

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker