مضامین ومقالات

خدارا ’ندوۃ العلماء ‘کو اکھاڑہ بنانے سے باز رہیں!

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز/ سرپرست بصیرت آن لائن )
ادارے راتوں رات نہیں بن جاتے، ان کے قیام میں لوگوں کی زندگیاں گزر جاتی ہیں۔ لیکن ان کے بگڑنے میں ایک پَل نہیں لگتا! ۔ شرپسند دیکھتے ہی دیکھتے کسی بھی ادارے کی ساکھ کو خاک میں ملادیتے ہیں۔ ادارے اپنے وجود اور بقاء کےلیے قربانیاں مانگتے رہتے ہیں او رمخلصین قربانیاں دیتے رہتے ہیں۔ لیکن شرپسند قربانیاں دینے والے مخلصین کی ساکھ پر بٹہ لگانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، ساتھ ہی ادارے کی ساکھ کو بھی ملیا میٹ کردیتے ہیں۔ ان دنوں دارالعلوم ندوۃ العلماء موضوع خبر بنا ہوا ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو ایک ایسا ادارہ ہے جس کا قیام بڑی ہی جدوجہد اور بڑی ہی قربانیوں کے بعد ممکن ہوا۔ لیکن آج یوں لگ رہا ہے جیسے کہ ساری جدوجہد، مخلصین کی ساری قربانیاں اور ساری کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی اور دارالعلوم ندوۃ العلماء سازشیوں کی ریشہ دوانیو ںکا شکار ہوجائے گا۔ ادھر کئی دن سے وہاں کے طلبا میں بے چینی اور اضطراب کی لہر ہے، یہ بے چینی بڑھ بھی سکتی ہے اور بڑھ کر یہ کوئی بھیانک شکل بھی اختیار کرسکتی ہے۔ نوجوان اگر ایک بار بے قابو ہوگئے تو شاید ہی کوئی ان پر قابو پاسکے۔ اور اگربے قابو نوجوانوں نے دارالعلوم کو، وہاں کے آثار اور وہاں کی شخصیات کو نقصان پہنچایا اور اس کے نتیجے میں خود بھی نقصان سے دوچار ہوئے تو یہ ایک عظیم المیہ ہوگا۔ المیہ اس لیے ہوگا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں یوپی کی اس یوگی سرکار کو ’مداخلت‘ کا موقع فراہم ہوجائے گا جو یوں بھی مدرسوں کے وجود کو اس ملک کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ دارالعلوم میں پڑھائی بھی رک سکتی ، کچھ بچے نکالے بھی جاسکتے ہیں، باقی جو ہیں ان کا تعلیمی سال ضائع بھی ہوسکتا ہے۔ اور اگر ہنگامہ ہوا تو اس میں لوگ زخمی بھی ہوسکتے ہیں۔ اللہ نہ کرے یہ سب ہو، لیکن اگر ایسا ہوا تو ان والدین کو کون جوابدہ ہوگا جو اپنے بچوں کو آنکھیں موندکر، پورے یقین او ربھروسے کے ساتھ ندوۃ العلماء کو سونپ دیتے ہیں کہ ان کے بچے محفوظ بھی رہیں گے اور علم دین کی تعلیم حاصل کرکے ساری دنیا میں دین پھیلانے کے عظیم ترین کام میں پیش پیش بھی رہیں گے؟؟
دارالعلوم ندوۃ العلما ء میں کیا ہورہا ہے؟ اس سوال کا جواب سب کو پتہ ہے۔ معاملہ مولانا سید سلمان حسینی ندوی اور حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی کے درمیان ہے۔ حضرت مولانا رابع صاحب عالم اسلام کی بزرگ ترین ہستیوں میں سے ایک ہیں، وہ دارالعلوم ندوۃ العلما ء کے سربراہ ہیں، وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر بھی ہیں، اگر وہ دارالعلوم ندوۃ العلما ء کے سلسلے میں کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو یہ ان کا ’حق‘ ہے۔ اس ’حق‘ پر کوئی بھی انگلی اُٹھائے تو اسے درست نہیں ماناجائے گا۔ پر حضرت مولانا رابع کے فیصلے پر انگلیاں اُٹھائی گئیں، فیصلوں کو ماننے سے انکار کیاگیا، طلبا کو اُکسانے کی گھنائونی حرکت کی گئی اور یہ کوشش کی گئی کہ دارالعلوم کی انتظامیہ کو ڈرا کر، خوفزدہ کرکے اور دھمکا کر فیصلے تبدیل کروالیے جائیں او راپنے مطالبات کو منوالیاجائے۔ میرا اپنا یہ ماننا ہے کہ اگر ندوۃ العلماء کی انتظامیہ سے کسی معاملے میں کوئی اختلاف تھا یا اختلاف ہے تو ’بات چیت‘ کے ذریعے اسے دور کیاجاسکتا ہے۔ ’صلح ہی میں خیر ہے‘ یہ قرآن پاک بھی کہتا ہے، پر ندوۃ العلماء میں ’صلح کی کوشش تک نہیں کی گئی۔ مولانا سلمان ندوی اگر حضرت مولانا رابع حسنی ندوی کے پاس جاتے، اپنی بات رکھتے اور اپنے موقف کی وضاحت کرتے تو یقیناً حضرت مولانا رابع صاحب ان کی بات رد نہیں کرتے۔ پر نہ جانے کیوں مولانا سید سلمان ندوی نے راست بات چیت کرنے کو ضروری نہیں سمجھا، بات چیت خطوط کے ذریعے کی۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء ایک تحریک ہے۔ اگر یہ تحریک سرد پڑی تو سمجھ لیں کہ ہندوستان میںاسلام کی بہت بڑی تحریک سرد پڑ جائے گی۔ ہم نے دارالعلوم دیوبند کے اختلاف کو دیکھا ہے اور اس کے اثرات محسوس کیے ہیں۔ خدارا ندوۃ العلماء کو اکھاڑہ بنانے سے لوگ باز رہیں۔ اسے کھانے کمانے کا ذریعہ نہ بنائیں او رنہ ہی اسے سیاسی شہرت حاصل کرنے کےلیے استعمال کریں۔ اللہ کےلیے ایسی حرکتیں بند کی جائیں جو ’یرقانیوں‘ کو ندوۃ العلماء میں بھی اور اسی بہانے دیگر مدارس میں بھی گھس پیٹھ کرنے کا جواز فراہم کردیں۔ ایسا کرنے والا چاہے جو ہو اس کی پکڑ اس دنیا میں بھی ہوگی اور اللہ رب العزت تو پکڑکرنے والا ہے ہی!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker