ہندوستان

اردو فکشن کے آخری درویش تھے عشرت ظفر:آفتاب عالم نجمی، عشرت ظفر کے انتقال پر ادیبوں کا اظہار افسوس

علی گڑھ. 17 اکتوبر. اردو ناول کی دنیا کا آخری درویش بھی 16اکتوبر کوہم سے رخصت ہوگیا. یہ فکشن کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے. 14اپریل 1944کو بارہ بنکی کے ترکانی گاؤں میں پیدا ہو نے والے عشرت ظفر کو ادبی دنیا ان کے ناول آخری درویش کے نام سے جانتی تھی، ایسا نہیں کی انہوں نے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں لکھا، حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے شہر سوختہ کے نام سے ایک شاندار ناول لکھا جبکہ وہ اپنی خود نوشت از کف خاکسترم کے نام سے لکھ چکے تھے جو جلد ہی شایع ہورہی ہے اتنا ہی نہیں ان کی اردو شاعری کے کئی مجموعے نوشتہ، ہفت پرکار، امشب، سفال، پیچاک سمیت تنقیدی مضامین پر مشتمل مجموعے آفرینش، استفہام، احتساب اور نقش امروز شائع ہوئے جن کی پذیرائی بھی ادبی حلقے میں خوب ہوئی.
عشرت ظفر نے 1961 سےکانپور کو اپنا وطن ثانی بنایا تھااور ان کی علمی و ادبی خدمات کا سلسلہ تاحال جاری تھا . عشرت ظفر کے انتقال سے ادبی حلقے میں سوگواری چھائی ہوئی ہے. معروف افسانہ نگار اور شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سابق صدر پروفیسر طارق چھتاری نے عشرت ظفر کے انتقال پر اپنے دوستانہ مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کلاسیکی نوعیت کے فنکار تھے. ان کے دونوں ناول فکشن کی دنیا میں اعلی مقام رکھتے ہیں اور آخری درویش تو شاہکار ہے، انہوں نے اپنے اس ناول میں جس فنکاری کا مظاہرہ کیا ہے وہ فی زمانہ ناپید ہے. عشرت ظفر اشتہار بازی کو پسند نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا ماننا تھا کہ فنکار کا فن بولتا ہے اسی لیے وہ خود خاموش رہتے تھے اور آج اسی خاموشی کے ساتھ اس دنیا سے بھی چلے گیے.
سی ای سی کے کوارڈینیٹر پروفیسر سراج الدین اجملی نے رنج و دکھ کا اظہار کرتے ہویے کہا کہ ایک درویش صفت انسان کے جانے سے میں بہت غم زدہ ہوں، انہوں نے عشرت ظفر کی شاعری کا ذکر کرتے ہویے کہا کہ کلاسیکی رچاؤ کے حامل ایک جدید شاعر تھے، زبان کلاسیکی ہونے کے باوجود مضامین نیے تھے یہی ان کی کامیابی کا راز بھی ہے. عشرت ظفر کے یہاں جو لسانی رچاؤ اور خیالات کی پختگی ہے وہ ان کی شناخت ہے.
پروفیسر شافع قدوائی نے اظہار افسوس کرتے ہویے ان کے ساتھ گزرے ہوئے ایام کو یاد کیا، انہوں نے کہا کہ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے، ادبی اظہار کے لیے فکشن اور شاعری کو منتخب کیا، جبکہ معاش کے لیے انہوں نے صحافت کے شعبے کا انتخاب کیا. عشرت ظفر انوار قوم اور پیغام جیسے اخبارات سے وہ وابستہ رہے اور صحافت کے ذریعہ ملک و قوم کی خدمت کی. انہوں نے کہا کہ عشرت ظفر اپنے کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جاتے رہیں گے.
اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی نے کہا عشرت ظفر کی شاعری ہو یا فکشن، موضوع اور زبان و اسلوب کے اعتبار سے جدیدیت اور کلاسیکیت کا حسین امتزاج ان کے یہاں پایا جاتا ہے. وہ نہ صرف یہ کہ اردو کے ایک اہم فکشن نگار تھے بلکہ وہ ایک استاد شاعر بھی تھے نیز ان کی صحافتی خدمات سے بھی روگردانی نہیں کی جا سکتی ہے، ان کی تمام تر کتابیں اس کا ثبوت فراہم کرتی ہیں، ڈاکٹر آفتاب عالم نے دیرینہ تعلقات کا زکر کرتے ہویے کہا کہ وہ نہ صرف میرے مربی تھے بلکہ ایک اچھے دوست بھی تھے جنہوں نے زندگی کی باریکیوں کو سمجھایا. انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کبھی بھلایے نہیں جا سکتے جنہوں نے پوری زندگی کام میں یقین رکھا ہو اور عشرت ظفر ایسے ہی لوگوں میں سے تھے.حقیقت یہ ہے کہ اردو فکشن کا آخری درویش ہمارے درمیان سے رخصت ہو گیاہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker