اسلامیاتفقہ وفتاویٰ

آپ کے شرعی مسائل

فقیہ العصرمولانا خالد سیف اللہ رحمانی
ترجمان وسکریٹری آ ل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ
عقیقہ کے بجائے روپیہ صدقہ کرنا
سوال: اگر کوئی شخص عقیقہ کرنے کے بجائے اس کے پیسے مدرسہ میں دے دے تو کیا یہ کافی ہو جائے گا اور اس کو عقیقہ کا ثواب اور اس کی فضیلت حاصل ہوگی؟ (حمید الدین، یاقوت پورہ)
جواب: عقیقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے؛ اس لئے جو شخص عقیقہ کرنے پر قادر ہو، اس کے لئے عقیقہ نہ کر کے پیسہ صدقہ کر دینا مناسب نہیں، اس سے عقیقہ کا اجر حاصل نہیں ہوگا: الجمھور علی أنھا سنۃ، وبہ قال مالک والشافعی واحمد وابو ثور واسحق، ولا ینبغي ترکھا لمن قدر علیھا، قال احمد: ھو أحب إلیّ من التصرف بثمنھا علی المساکین (التوضیح شرح الجامع الصحیح:۲۶؍۲۶۳) ؛اس لئے جانور ہی ذبح کرنا چاہئے، علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ نے عقیقہ کی حکمت یہ لکھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک نفس عطا کیا ہے، اولاد کی شکل میں، یا اپنے وجود کی شکل میں، تو تم بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نفس یعنی جاندار کے ذریعہ قربت حاصل کرو: العقیقۃ أن اللہ أعطاکم نفسا، فقربوا لہ أنتم أیضا بنفس (فیض الباری:۵؍۶۴۸) ظاہر ہے کہ یہ مقصد پیسہ صدقہ کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتا، یہ مقصد جانور کی قربانی ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا اور ایڈمن کی ذمہ داری
سوال: آج کل سوشل میڈیا کے ذریعہ چیزیں نشر کرنے کے مختلف ذرائع ہیں، جیسے فیس بک، ٹیلی گرام، واٹس ایپ وغیرہ، ان میں ایک شخص گروپ بنانے والا ہوتا ہ، جس کو ایڈمن کہتے ہیں، دوسرے لوگ شرکاء ہوتے ہیں، اب بعض دفعہ ایڈمن ہی کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ مناسب چیزیں ڈالا کریں؛ لیکن اس کے پاس اتنا مواد نہیں ہوتا کہ وہ خود ساری چیزیں ڈالے، یا ہوتا ہے تو اتنا وقت نہیں ہوتا تو وہ گروپ میں شامل تمام لوگوں کو اس میں اپنی چیزیں ڈالنے کا اختیار دیتا ہے، اکثر ایسا ہی ہوتا ہے، اس میں چاہے ایڈمن کی مرضی نہیں ہو؛ لیکن بعض لوگ گانے، فحش تصاویر یا کوئی اور خلاف شرع چیز ڈال دیتے ہیں، پھر بہت سے لوگ اسے آگے بڑھا دیتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ گروپ میں خراب چیزین ڈالنے والا تو گنہگار ہوگا ہی؛ لیکن کیا اس کو آگے بڑھانے والا بھی گنہگار ہوگا اور جو چیز ایڈمن کے مشورہ کے بغیر ڈالی گئی ہو تو کیا ایڈمن بھی گنہگار ہوگا؟ (احسان اللہ، ملے پلی)
جواب: اگر کوئی گروپ خلاف شرع تحریروں اور تصویروں کے لئے بنایا گیا ہو تو ظاہر ہے کہ مواد ڈالنے والے، آگے بڑھانے والے اور ایڈمن تینوں گنہگار ہوں گے، اگر گروپ ایسے مواد کے لئے نہیں بنائے گئے ہوں؛ بلکہ جائز چیزوں، واقعات،خبروں اور دینی مضامین کے لئے بنایا گیا؛ لیکن ایڈمن کی طرف سے نامناسب مواد کے ڈالنے کی ممانعت بھی نہیں ہو تب بھی مواد ڈالنے والے اور آگے بڑھانے والے کے ساتھ ساتھ ایڈمن بھی گنہگار ہوگا، تیسری صورت یہ ہے کہ گروپ ایسے مقصد کے لئے بنایا گیا جو خلاف شرع نہ ہو، جیسے خبروں کی ترسیل، مفید معلومات کی فراہمی، دینی مضامین کی اشاعت، تعلیمی افادہ واستفادہ ،تحقیق وتلاش اور ایڈمن کی طرف سے خلاف شرع مواد ڈالنے کی ممانعت ہو، پھر بھی لوگوں نے ڈال دیا تو ان شاء اللہ ایڈمن گنہگار نہیں ہوگا، مواد ڈالنے والا اور اس کو پھیلانے والا گنہگار ہوگا؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گناہ اور ظلم کے کاموں میں تعاون نہ کرو : ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان (المائدہ: ۲) دنیا میں سب سے پہلا قتل قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت تک جو بھی قتل ہوگا ، اس کے گناہ کا ایک حصہ قابیل کے نامۂ اعمال میں جائے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۳۳۳۵) ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اچھا طریقہ جاری کیا ،اس کو اس کے عمل کا اجر تو ملے گا ہی، اور اس کے ساتھ ساتھ قیامت تک جو اس کے طریقہ پر عمل کریں گے، وہ ان کے اجر میں بھی شامل ہوگا، اور اسی طرح جس نے کسی غلط عمل کی بنیاد رکھی، قیامت تک جو لوگ اس پر عمل کریں گے، وہ شخص بھی ان کے گناہ میں شریک سمجھا جائے گا: من سن سنۃ حسنۃ کان لہ أجرھا وأجر من عمل بھا إلی یوم القیامۃ (صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ:۴؍۱۵) بعض حدیثوں میں یہ بات بھی آئی ہے کہ خیر کے کام کی رہنمائی کرنے والا خود خیر کے کام انجام دینے والے کی طرح ہے (ترمذی، حدیث نمبر: ۲۶۷۰) اور شر کے کام کی رہنمائی کرنے والاخود شر کے کام انجام دینے والے کی طرح ہے، ………… الدال علی الشر کفاعلہ (التنویر شرح الجامع الصغیر، حدیث نمبر: ۴۲۳۰) علامہ کاسانیؒ نے اس اصول کی روشنی میں لکھا ہیکہ اگر شریعت میں کسی چیز کو حرام قرار دیا گیا ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے اسباب بھی حرام ہیں: وتحریم الشي تحریم لأسبابہ (بدائع الصنائع:۲؍۱۹۷) ؛لہٰذا جو خلاف شریعت مواد کو ڈالنے یا پھیلانے کا سبب بنے گا، وہ گنہگار ہوگا، جہاں تک اس مواد کو دیکھنے، پڑھنے یا سننے کا سوال ہے تو اگر پہلے سے اندازہ ہو جائے کہ اس میسیج میں خلاف شرع باتیں ہیں تو اس کو کھولنا جائز نہیں، اگر اس کا اندازہ نہ ہو پائے اور میسیج کھل جائے تب بھی اس پر واجب ہے کہ کم سے کم اس کو اپنے فون سے ڈیلیٹ کر دے اور ایڈمن کو متنبہ کرے کہ گروپ میں اس طرح کا مواد آگیا ہے؛ لہٰذا اس کو وہ ڈیلیٹ کر دے۔
ٹول ٹیکس کی رسید بیچ دینا
سوال: بعض ٹول ٹیکس مقام پر گاڑی والے رسید چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، اسی طرح پٹرول پمپ پر گاڑی وغیرہ میں پٹرول ڈال کر کسٹمر کو ایک رسید دی جاتی ہے، کچھ کسٹمر رسید وہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، یہاں کے ملازمین ان رسیدوں کو جمع کر لیتے ہیں، اور ان رسیدوں کو فروخت کر دیتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ ان رسیدوں کو فروخت کر کے جو رقم ملتی ہے، اس قم کا لینا اُس شخص کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ واضح ہو کہ جو لوگ ان رسیدوں کو خریدتے ہیں، وہ ان رسیدوں کو حکومتی اداروں میں پیش کر کے یہ باور کراتے ہیں کہ اس ماہ ہمارا اتنا پٹرول لگا ہے اور اتنا خرچ ہوا ہے؛ لہٰذا ہمارا ٹیکس کم کیا جائے، تو کیا اس صورت میں ان رسیدوں کی قیمت شخصِ مذکور کے لئے جائز ہوگی یا نہیں؟(محمد افضل حسین، مولیٰ علی)
جواب: یہ صورت جائز نہیں ہے، اولاََ تو یہ رسید اس کسٹمر کی ملکیت ہوتی ہے، جس نے پیسہ ادا کیا ہے، ملازمین کی ملکیت نہیں ہوتی؛ لہٰذا وہ ایک ایسی چیز کو بیچ رہا ہے، جس کا وہ مالک نہیں ہے، اور جو چیز کسی کی ملکیت میں نہ ہو اس کا بیچنا جائز نہیں: اذ من شرط المعقود علیہ أن یکون موجودا مالا متقوما مملوکا في نفسہ ، وأن یکون ملک البائع فیما یبیعہ لنفسہ (ردالمحتار:۵؍۵۸) دوسرے اس میں جھوٹ اور دھوکہ بھی ہے، جس کا ارتکاب رسید خرید کرنے والے کی طرف سے ہوتا ہے، اور رسید بیچنے والا اس مین معاون بنتا ہے، یہ بجائے خود گناہ ہے، پھر رسید بیچنے والا جو پیسہ لیتا ہے، وہ بھی چوری کے حکم میں ہے، غرض کہ یہ فعل کئی گناہوں کو شامل ہے؛ اس لئے اس طرح کا عمل کرنا جائز نہیں ہے ۔
گٹکا وغیرہ کھانے کے بعد ذکرو تلاوت
سوال: کھینی، گٹکا کھاتے ہوئے یا سگریٹ پیتے ہوئے کیا ذکر اور تلاوت کیا جا سکتا ہے؛ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات آئی ہے کہ آپ ہر وقت ذکر کرتے رہتے تھے: کان یذکر اللہ کل احیان؟ (نصیر الدین، کشن باغ)
جواب: اللہ تعالیٰ کا نام بے قابل احترام اور لائق تعظیم ہے، اور تمام اذکار اللہ تعالیٰ ہی کی ذات وصفات پر مبنی ہیں؛ اس لئے ضروری ہے کہ احترام کا خیال رکھا جائے، نماز بھی اللہ تعالیٰ کا ایک ذکر ہے، ارشاد فرمایا گیا: أقم الصلاۃ لذکري (طٰہٰ: ۲۰) اورنماز کی ادائیگی کے لئے جسم اور مقام کو پاک ہونے کو ضروری قرار دیا گیا، قرآن کی تلاوت کے لئے بھی پاکی کی حالت میں ہونا ضروری ہے، حالات جنابت میں تلاوت نہیں کی جا سکتی، قرآن مجید کو چھونے کے لئے بھی پاک ہونا ضروری ہے: لایمسہ إلا المطھرون (واقعہ: ۷۹) تو ظاہر ہے کہ اگر منھ میں گندگی ہو تو اس حالت میں ذکروتلاوت کیسے مناسب ہوگا؛ اسی لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ ذکر کرتے وقت منھ کو کو صاف ستھرا ہونا چاہئے، اگر بو پیدا ہوگئی ہو تو مسواک کرلینا چاہئے، اور اگر منھ میںکوئی ناپاک چیز ہو، جیسے: خون، یا خدانخواستہ شراب کے قطرات تو پانی کے ذریعہ اس کو دھونا یعنی کلی کرنا ضروری ہے، اگر منھ صاف کئے بغیر ذکروتلاوت کرے تو اگرچہ اس کی ممانعت حرام کے درجہ میں نہیں ہے؛ لیکن مکروہ ہے: وینبغي أیضا أن یکون فمہ نظیفا، فإن کان فیہ تغیر أزالہ بالسواک وان کان فیہ نجاسۃ أزالھا بالغسل بالماء، فلو ذکر ولم یغسلھا فھو مکروہ ویحرم ولو قرأ القرآن وفمہ نجس کرہ ( الاذکار للنووی: ۱؍۱۲) ؛البتہ اگر دل ہی دل میں ذکر کرے یا قرآن پڑھے، زبان کی حرکت اس میں شامل نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، علامہ نوویؒ فرماتے ہیں: یجوز للجنب والحائض النظر في المصحف وقراء تہ بالقلب دون حرکۃ اللسان، وھذا لا خلاف فیہ( المجموع شرح المہذب: ۲؍۱۶۳)
جب تک تحقیق نہ ہو مسلمان کے ساتھ حُسن ظن رکھا جائے
سوال: میرے ایک مقتدی گورنمنٹ ملازم ہیں؛ اگرچہ پینٹ شرٹ پہنتے ہیں؛ لیکن صوم وصلاۃ کے پابند ہیں، علماء کا احترام کرتے ہیں اور بظاہر دینی مزاج رکھتے ہیں، وہ کبھی کبھی مجھے مدعو کرتے ہیں، میں ازراہ مروت چلا جاتا ہوں؛ لیکن بعض نمازیوں کو اعتراض ہے کہ وہ سرکاری ملازم ہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ رشوت لیتے ہوں؛ اس لئے آپ کو ان کی دعوت قبول نہیں کرنی چاہئے، میرے لئے اس سلسلہ میں کیا رہنمائی ہے؟ (افتخار احمد، بھیونڈی)
جواب: جب کسی مسلمان کے بارے میں کسب حرام کی بات کہی جائے تو جب تک اس کی تحقیق نہ کر لی جائے، بدگمانی رکھنا جائز نہیں؛ بلکہ اس میں گناہ کا اندیشہ ہے؛ اس لئے آپ کا ان کی دعوت قبول کرنا جائز ہے اور رسول اللہ ـصلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی دعوت قبول کرنے کی تلقین فرمائی ہے؛ بلکہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی فاسق شخص بھی کہے کہ کھانا حلال ہے، اور ظاہر حال اس کے خلاف نہ ہو تو اس کی خبر معتبر مانی جائے گی: حیث یتحری في خبر الفاسق کالإخبار بطھارۃ الماء ونجاستہ وحل طعامہ وحرمتہ (بحرالرائق: ۶؍۱۶۶)
اگر نکاح کے وقت وہ گواہ موجود نہ ہوں، جن کا نام گواہ کی حیثیت سے درج کیا گیا ہو
سوال: میرے دوست کی مجلس نکاح منعقد ہوئی، لڑکی اور لڑکے والوں کی طرف سے ایک ایک گواہ کے نام طے پائے اور فارم نکاح میں لکھ دئے گئے، جس وقت ایجاب وقبول ہوا، اس وقت یوں تو بہت سارے لوگ موجود تھے؛ لیکن جن دو حضرات کے نام دئے گئے تھے وہ موجود نہیں تھے، تو کیا نکاح منعقد ہو جائے گا، اور اگر بعد میں گواہی کی ضرورت پیش آئی تو یہ دونوں حضرات نکاح کی گواہی دے سکتے ہیں؟ (سبیل احمد، احمدآباد)
جواب: ایجاب وقبول کے وقت اگر کوئی بھی دو عاقل بالغ مسلمان مرد موجود ہو تو نکاح منعقد ہو جائے گا، نکاح منعقد ہونے کے لئے متعین اشخاص کا موجود ہونا ضروری نہیں، جہاںتک گواہی دینے کی بات ہے تو نکاح کی گواہی دینے کے لئے گواہان کا مجلس نکاح میں موجود ہونا ضروری نہیں ہے، شہرت کی بناء پر بھی نکاح کی گواہی دی جا سکتی ہے؛ لہٰذا اگر وہ ایجاب وقبول کے وقت موجود نہیں تھے؛ لیکن جب وہ آئے تو حاضرین نے کہا کہ نکاح ہوگیا ہے، اور بظاہر اس خبر کے جھوٹے ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے تو ایسی صورت میں بھی وہ گواہی دے سکتا ہے، اس کو فقہ کی اصطلاح میں ’’ شہادت بالتسامع‘‘ کہتے ہیں۔ (بدائع الصنائع:۶؍۲۶۸)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker