ہندوستان

بابری مسجد کا سودا کرنے کی کوشش جاری

 

شرائط مان لی گئی تو ہم مسجد کی جگہ سے دستبردار ہوجائیں گے

سنی وقف بورڈ کے وکیل شاہد شاہد رضوی نے مصالحت کی تصدیق کردی

ہم نے اپنا دعویٰ نہیں چھوڑا ہےیہ افواہ ہے: چیئرمین سنٹی سینٹرل وقف بورڈ

وقف بورڈ کے پیچھے ہٹنے سے مقدمہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا: مولانا ولی رحمانی

فیصلہ آنے سے قبل ہی رام مندر کی تیاری ،آر ایس ایس نے اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی

وی ایچ پی نے کہا مسلمانوں سے بات چیت کے تمام امکانات ختم

لکھنؤ۔۱۷ ؍اکتوبر۔سنی وقف بورڈ کے وکیل نے تصدیق کی ہے کہ سپریم کورٹ کے مقررہ ثالثی کے پینل کے ذریعہ ہندو فریقین کے سامنے مصالحت کی قرارداد پیش کی گئی۔سنی وقف بورڈ کے وکیل شاہد رضوی نے زی ٹی وی کو بتایا کہ سنی وقف بورڈ کے چئیرمین ظفر فاروقی نے تین رکنی ثالثی پینل کو قرارداد پیش کی۔شاہد رضوی نے واضح کیا کہ سنی وقف بورڈ نے قراراد میں چند شرطیں رکھی ہیں اور اگر یہ شرطیں مان لی جائیں تو وہ متنازعہ جائداد پر اپنے دعوے سے دستبردار ہونے کے لئے تیار ہے۔اس موقع پر عدالت کے اندر اور باہر شدید تناؤ اور خوف و ہراس کی کیفیت قائم رہی جب کہ ایودھیا کے علاقے میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ سنی وقف بورڈ نے کشیدہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے عدالت سے باہر تصفیے کیلیے قائم ثالثی کمیٹی کو اپنی 3 شرائط پیش کیں۔اطلاعات کے مطابق سنی وقف بورڈ نے عدالت کی جانب سے تشکیل دی گئی ثالثی کمیٹی کے سامنے تین شرائط رکھی ہیں اگر ان شرائط پر عملدرآمد ہوجاتا ہے تو سنی وقف بورڈ بابری مسجد کی ملکیت سے دستبردار ہوجائے گا۔ سنی وقف بورڈ کی شرائط میں ریاست اتر پردیش میں 22 مساجد کے قیام، 1991 کے مذہبی عبادت گاہوں ے متعلق قانون پر عمل درآمد اور مرکزی حکومت کے زیر انتظام آثار قدیمہ کے تمام مراکز میں قائم مساجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دینا شامل ہے۔وہیں سنی وقف بورڈ کے صدر زفر فاروقی نے اسے افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنا دعویٰ نہیں چھوڑا ہے۔ انہوں نے جمعرات کو کہا کہ سپریم کورٹ میں بورڈ نے اپیل واپس لینے کا کوئی حلف نامہ نہیں داخل کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ثالثی پینل کو ضرور سیٹلمینٹ کا ایک پرپوزل دیا ہے۔ چونکہ سپریم کورٹ کے ۱۸ ستمبر کے فیصلے کے تحت اسے کانفیڈینشیل رکھاجا نا ہے۔ اسی وجہ سے اس میں ہم کیا پرپوزل دیا ہے یہ نہیں بتا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ہمیں منظور ہوگا۔ زفر یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے کہ آخری دن ثالثی پینل کو سمجھوتے کی کوئی تجویز گئی۔ انہوں نے کہاکہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آخری دن تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس سے قبل ایودھیا معاملے پر مسلم فریق حاجی محبوب نے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی جانب سے ۲ء۷۷ ایکڑ متنازعہ زمین پر اپنا دعویٰ چھوڑنے سے متعلق کسی طرح کے نئے حلف نامہ دینے سے انکار کیا تھا ان کا کہنا ہے کہ بورڈ کی جانب سے کوئی حلف نامہ نہیں پیش کیاگیا ہے کچھ لوگ افواہ پھیلا رہے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمد ولی رحمانی نے وقف بورڈ کے پیچھے ہٹنے پر کہا کہ اس سے مقدمہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ چونکہ یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ سنی وقف بورڈ اس کیس سے پیچھے ہٹ رہا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔مولانا محمدولی رحمانی نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ جس طرح سے اب تک اپنی لڑائی لڑ رہا ہے وہ آگے بھی لڑتا رہے گا، اور عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ قابل قبول ہوگا۔جبکہ دوسری جانب ہندو اور مسلم فریق دونوں کی بحثوں سے اب تک جوصاف ہوا ہے اس کے مطابق دونوں فریق کے لیے لچک دکھانا بے حد مشکل ہے، تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ مسلم فریق کی جانب سے اراضی میں کسی حد تک لچک دکھانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ یعنی مسلم فریق عدالت میں ایک حدتک لچک دکھا سکتا ہے۔لیکن اس تعلق سے بھی سید قاسم رسول الیاس نے واضح کردیا ہے کہ لچک کی جو بات کی جارہی ہے وہ تحویل اراضی تک ہی محدود ہے۔ 72 ایکڑ کی جو زمین ہے اسی میں لچک کی گنجائش ہے، مسجد کے مقام پر لچک کی کوئی گنجائش نہیں کیوں کہ مقدمے کی اصل روح تو یہی ہے اور ہم عدالت میں اسے ثابت بھی کر چکے ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے ایودھیا کیس کی سماعت ختم کی اور فیصلہ محفوظ رکھا۔واضح رہے کہ یہ معاملہ دیوانی کا ہے، فوجداری کا نہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل خود بھی تصفیہ کیا جا سکتا ہے۔۱۷ ؍نومبر کو فیصلہ کیا جائے گا اور اسی دن جج گوگوئی سبکدوش ہو رہے ہیں۔ وہیں ایودھیا مسئلہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل ہی ہندو تو وادی تنظیمیں رام مندر کی تعمیر کےلیے سرگرم ہوگئی ہیں۔ وشو ہندو پریشد سرگرم ہو گیا ہے۔ وشو ہندو پریشد کے کارگزار صدر آلوک کمار نے ایک ہندی نیوزی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 1992 کے بعد سے مندر تعمیر کا کام کبھی رکا ہی نہیں۔ یہ عمل لگاتار چل رہا ہے اور اس سلسلے میں ایک ورک شاپ ایودھیا میں گزشتہ دو دہائی سے لگاتار کام کر رہا ہے۔آلوک کمار نے بات چیت کے دوران واضح لفظوں میں یہ بھی کہا کہ رام جنم بھومی میں ہی مندر تعمیر ہوگا اور اس سلسلے میں مسلمانوں سے بات چیت کے سبھی امکانات اب ختم ہو چکے ہیں۔ اب صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔ انھیں یقین ہے کہ سپریم کورٹ ہندووں کی عقیدت کو دھیان میں رکھتے ہوئے ان کے ہی حق میں فیصلہ سنائے گا۔ادھرسماعت ختم ہونے کے بعد فیصلے کی سگ بگاہٹ کے درمیان آر ایس ایس سرگرم ہو گیا ہے اور اپنے اگلے قدم پر گہرائی سے غور کر رہا ہے۔ فیصلے کی ممکنہ تاریخ سے پندرہ بیس دن قبل آر ایس ایس نے 31 اکتوبر سے ہریدوار میں نظریاتی مشیروں کی اہم میٹنگ بلائی ہے۔یہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہے، جس میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت، بھیا جی جوشی، دتاترے ہسبولے اور کرشن گوپال سمیت آر ایس ایس کے اعلیٰ سطح کے عہدیدار شامل ہوں گے۔ حالانکہ یہ میٹنگ ہر پانچ سال میں ایک بار ہوتی ہے۔ لیکن مانا جا رہا ہے کہ اس بار یہ میٹنگ ایودھیا کیس کے فیصلے سے پیدا ہونے والی صورت حال اور دیگر ایشوز پر تبادلہ خیال کے لیے بلائی گئی ہے۔ حالانکہ آر ایس ایس نے اس بارے میں کچھ واضح نہیں کیا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس سربراہ جب سبھی سرکردہ عہدیداروں سے ملاقات کریں گے تو اس میں رام مندر کا ایجنڈا مرکزی ہوگا۔اس میٹنگ کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آر ایس ایس سے جڑے سبھی اداروں کے پرچارک 4 نومبر تک چلنے والی اس میٹنگ میں موجود رہیں گے۔ ایک ذرائع نے کہا کہ میٹنگ کے دوران رام مندر پر ایک قرارداد پاس کیے جانے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہاں تک کہ بی جے پی بھی سبھی اہم میٹنگوں میں حصہ لے گی۔ پارٹی کو میٹنگ کے وسیع ’جذبات‘ کے تئیں ایک سوچ تیار کرنے کے لیے میٹنگ میں شامل ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔پانچ روزہ میٹنگ کا انعقاد 17 نومبر کو چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سبکدوشی سے پندرہ بیس دن پہلے اور بابری مسجد انہدام کی برسی سے ایک مہینہ قبل کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس گگوئی کے ذریعہ ان کی سبکدوشی سے پہلے معاملے میں فیصلہ سنائے جانے کی امید ہے۔ واضح رہے کہ آر ایس ایس لیڈر لگاتار رام مندر کے حق میں فیصلہ آنے کی بات کر رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے آئی اے این ایس سے بات چیت میں وی ایچ پی کے سرکردہ عہدیدار ملند پرانڈے نے امید ظاہر کی تھی کہ سبھی ثبوت رام للا کے حق میں ہیں اور آئندہ دیوالی تک عظیم الشان رام مندر کی تعمیر اب ممکن ہے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker