ہندوستان

بابری مسجد کی زمین نہیں چھوڑ سکتے، سنی سینٹرل وقف بورڈ کے وکیل شاہد رضوی کے صلح کے بیان سے تمام فریقوں کے وکلاء نے خود کو الگ کر لیا

 

نئی دہلی ۔ ۱۸؍اکتوبر: ایودھیا-بابری مسجد معاملے میں سنی وقف بورڈ کے ایک وکیل شاہد رضوی کے علاوہ تمام فریقوں کے وکیلوں نےصلح اور زمین پر دعویٰ چھوڑنے سے اپنے آپ کو الگ کر لیا ہے۔غور طلب ہے کہ بدھ کو سنی وقف بورڈ کے ایک وکیل شاہد رضوی نے کہا تھا کہ ،اگر کچھ شرائط مان لیے جاتے ہیں تو وقف بورڈ متنازعہ زمین پراپنا دعویٰ چھوڑنے کے لیے تیار ہے۔جمعہ کو مسلم فریقوں کے پانچ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ، اعجاز مقبول ، شکیل احمد سید ، ایم آر شمشاد ، ارشاد احمد اور فضیل احمد ایوبی کی طرف سے داخل ایک حلف نامے میں زمین پر دعویٰ چھوڑنے کی پیشکش سے اپنے آپ کو الگ کر لیا ہے۔ایودھیا معاملے کی شنوائی کے آخری دن ایسی کئی خبریں آئی تھیں کہ مسلم فریقوں نے صلح نامہ داخل کر کے اپنا دعویٰ چھوڑ دیا ہے ۔ سنی وقف بورڈ کے ایک وکیل شاہد رضوی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا گیا تھا کہ معاملے میں سمجھوتہ ہو چکا ہے۔شاہد رضوی نےاین ڈی ٹی وی کو جمعرات کو بتایا تھاکہ ،ہم نے ثالثی پینل کو اپنے خیالات سے واقف کرادیا ہے، ہیں لیکن ہم عدالت میں پیش کئے گئے ثالثی منصوبے کی تفصیل نہیں بتا سکتے ہیں۔ یہ مثبت ہے اور سبھی لوگ، ہندو اور مسلمان خوش ہوں گے۔یہ پوچھنے پر کہ کیا دونوں فریق سمجھوتے سے خوش ہوں گے، رضوی نے کہا،یہ ہندو اور مسلم دونوں کے لیے ایک جیت کی صورت ہے۔پانچوں وکیلوں نے اپنے حلف نامے میں الزام لگایا ہے کہ ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خبر یا تو ثالثی کمیٹی یا نرموہی اکھاڑہ کے ذریعے لیک کی گئی ہوگی ۔وکلا نے اپنے بیان میںکہا ہے کہ ’’ہمیں ایڈوکیٹ شاہد رضوی کی طرف سے میڈیا کو جاری کردہ اس رپورٹ پر سخت حیرت اور تعجب ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ بعض شرطوں کے ساتھ اپنا کیس واپس لینے کے لئے آمادہ ہے۔تمام میڈیا ایجنسیوں، اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے ذریعہ یہ خبر نشر کی گئی کہ یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ بعض شرطوں کے ساتھ اپنا مقدمہ واپس لینے کے لئے تیار ہے۔ایسا لگتا ہے کہ میڈیا کو یہ خبر یا تو ثالثی پینل یا نرواہی اکھاڑہ کے ذریعہ جاری کی گئی جو مسجد پر اپنا دعوی رکھتا ہے۔ہمیں بتایا گیا تھا کہ جب سپریم کورٹ میں بابری مسجد مقدمہ اپنے آخری مرحلہ میں تھا اس دوران ثالثی پینل کے ساتھ چند مخصوص لوگ بات چیت کررہے تھے ، جن میں نرواہی اکھاڑہ کے دھرم داس، یوپی وقف بورڈ کے چیر مین زفر احمد اور ہندو مہا سبھا کے چکر پانی اور ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ دو اور افراد بھی ان مذاکرات میں شامل ہوئے تھے۔یہاں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ یہ کیسی ثالثی ہے جس میں کوئی بھی ہندو فریق (مقدمہ میں شامل) شامل نہیں ہے اور مسلمان فریقوں میں سے بھی صرف سنی سنٹرل بورڈ کے چیر مین شامل ہیں اور مقدمہ کے دوران تمام فریقون نے یہ واضح کردیا تھا کہ وہ مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں اور ثالثی سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اس موقعہ پر یہ بات بھی واضح کر دینا ضروری ہے کہ ثالثی کمیٹی کے ایک اہم ممبر ایڈوکیٹ سری رام پنچو نے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھ کر کہا تھا کہ زفر احمد، چیر مین وقف بورڈ کو سیکیوریٹی فراہم کی جائے اور سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ انھیں تحفظ فراہم کریں۔ 16؍ اکتوبر کو جب مقدمہ چل رہا تھا مسٹر پنچو کی طرف سے عدالت عظمی کو ایک دوسرا خط ملا لیکن اس کے مندرجات کو خفیہ رکھا گیا۔ہم دستخط کنندگان عوام کے سامنے اس بات کو واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ (الف) اس وقت ثالثی کمیٹی کے سامنے جو مذاکرات ہوئے وہ نمائندہ مذاکرات نہیں تھے۔(ب)پریس کو یہ خبر یا تو خود ثالثی کمیٹی نے راست افشاء کی یا ان لوگوں نے جو اس مذاکرات میں حصہ لے رہے تھے۔ ( یہاں یہ بات بھی واضح کر دینا ضروری ہے کہ سپریم کورٹ نے ثالثی کمیٹی کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ جس بھی نتیجہ پر پہنچے اسے بند لفافے میں کورٹ کو دے دے اسے افشاء کرنے یا کسی کو بتانے کی اجازت نہیں تھی۔ کورٹ نے یہ واضح کیا تھا کہ یہ معلومات خفیہ رہیں گی۔)(ج) ایسا لگتا ہے کہ اس خبر کو افشاء کرنے اور مسٹر رضوی کے ذریعہ17 ؍اکتوبر جب کہ کورٹ کی کارروائی ختم ہورہی تھی بہت سوچ سمجھ کر اس موقعہ کو منتخب کیا گیا۔ ثالثی کمیٹی کے ممبر مسٹر پنچو 16 ؍اکتوبر کو نہ صرف عدالت عظمی میں موجود تھے بلکہ وہ زفر احمد صاحب سے برابر رابطے میں بھی تھے۔اس موقع پر سپریم کورٹ میں اپیل کنندگان بہت صاف الفاظ میں یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمیں یہ تجاویز جو پریس کے ذریعہ افشاء کی گئی ہیں ہرگز ہرگز بھی منظور نہیں ہیں، اس طرح جس انداز میں ثالثی کی کوشش ہوئی وہ بھی ہمارے نزدیک قابل قبول نہیں ہے۔ اس طرح مقدمہ واپس لینے کے لئے جو چیز بطور سمجھوتہ پیش کی جارہی ہے اسے بھی ہم قبول کرنے کے ہرگز بھی تیار نہیں ہیں‘‘۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker