ہندوستان

بابری مسجد مقدمہ کی رپورٹنگ کے دوران آج تک چینل کی زہر افشانی، سماجی کارکن ساکیت گوکھلے نے چینل کو قانونی نوٹس بھیجوایا

 

نئی دہلی۔ ۱۸؍اکتوبر: بابری مسجد معاملہ کے سپریم کورٹ میں ہونے کے باوجود ہندو انتہا پسند قوتوں کی طرف سے بیان بازیوں کا سلسلہ تو جاری ہے ہی نیوز چینل بھی ان بھگوا گروہوں کے سامنے کس طرح سر بہ سجود ہیں اس کی بانگی اس وقت منظر عام پر آئی جب ہندی نیوز چینل نے فرقہ وارانہ منافرت اور عدم استحکام کو فروغ دینے والی ہیڈ لائن چلائی۔ آج تک نے 15 اکتوبر کو شام 7 بجے ایک شو نشر کیا جس کا عنوان تھا، ’جنم بھومی ہماری، رام ہمارے، مسجد والے کہاں سے پدھارے؟‘واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 16 اکتوبر کو بابری مسجد معاملہ کی 40 ویں اور آخری دن کی سماعت ہوئی اور سپریم کورٹ نے تمام فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ایودھیا اراضی ملکیت تنازعہ کے مقدمہ کی سماعت ختم کر دی۔ آج تک نے سماعت سے ایک دن پہلے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی اس حرکت پر ٹویٹر صارفین نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور ’آج تک‘ کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔سماجی کارکن ساکیت گوکھلے نے آج تک سے کہا ہے کہ وہ اس معاملہ پر باضابطہ طور پر ایک معافی نامہ جاری کرے اور متنازعہ ہیڈلائن والے ٹوئٹز کو ڈلیٹ کرے۔ انہوں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر چینل نے اس بات پر عمل نہیں کیا تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ساکیت نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’آج تک اور انجنا اوم کشیپ! آپ کو معافی نامہ جاری کرنے اور نفرت و فرقہ وارانہ عدم استحکام کو فروغ دینے والے ٹوئٹز کو ڈلیٹ کرنے کے لئے 24 گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے۔ بصورت دیگر میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے خلاف وہ قانونی چارہ جوئی کی جائے گی کہ آپ کو مدت طویل تک افسوس رہے گا۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اے، 295 اے کا مطالعہ کریں اور اپنے وکیل سے مشورہ کریں۔ بہت ہو چکا۔‘‘اس کے بعد بھی جب ہندی نیوز چینل نے ٹویٹ کو ڈلیٹ نہیں کیا تو ساکت گوکھلے نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے آج تک کو قانونی نوٹس بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ چینل کی یہ خبر عدالت کی توہین ہے کیونکہ اس میں عوامی طور پر فریقوں میں سے کسی ایک کے دعوی کی حمایت کی گئی ہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ، ’’آپ کے چینل نے اس مواد کے ساتھ فرقہ وارانہ بد نظمی پھیلائی ہے اور ساتھ ہی کھلے عام تفرقہ انگیز مواصلات کے ذریعے فرقہ وارانہ منافرت کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔‘‘ساکیٹ نے مزید 24 گھنٹوں کے اندر چینل سے گزارش کی کہ وہ ٹویٹ کو ڈلیٹ کرے اور اپنے چینل کے ساتھ ساتھ ٹویٹر پر عوامی معافی جاری کرے۔ علاوہ ازیں چینل کو مدعی کو ان لوگوں کے خلاف اندرونی کارروائی کے بارے میں آگاہ کرنا چاہئے جو اس مواد کے ذمہ دار ہیں۔گوکھلے کے مطابق اگر چینل نے درخواست منظور نہیں کی تو چینل کی منیجنگ ایڈیٹر سپریا پرساد آئی پی سی 1860 اور سی آر پی سی 1973 کے تحت عدالتی حکم عدولی ایکٹ 1971 کے تحت قانونی چارہ جوئی پر مجبور ہوں گے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker