ہندوستان

اے ایم یو میں منعقدہ الومنائی کانکلیو میں صدی تقریبات کو عظیم الشان پیمانے پر منانے کا عزم کیا گیا

 

علی گڑھ، 18؍اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)میں آج الومنائی کانکلیو کا انعقاد کیا گیا جس میں یونیورسٹی کی صدی تقریبات کو عظیم الشان پیمانہ پر منانے کے موضوع پر وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور اور دیگر معززین و ابنائے قدیم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور صدی تقریبات کو شایانِ شان طریقہ سے منانے کا عزم ظاہر کیا۔ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے آڈیٹوریم میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہاکہ اے ایم یو سے فارغ التحصیل طلبہ جو دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں اس عظیم دانش گاہ کے سفیر ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ابنائے قدیم نے ہی محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کو یونیورسٹی بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا ، ان کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ سابق وائس چانسلر پروفیسر پی کے عبدالعزیز نے اسی احساس کے تحت الومنائی نیٹ ورک کو ادارہ جاتی شکل دی، بعد میں اس کام کو لیفٹیننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ نے آگے بڑھایا اور وہ بھی اسے مستحکم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ پروفیسر منصور نے یونیورسٹی کی ترقی میں سابق طلبہ و طالبات کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہاکہ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے آڈیٹوریم کی تعمیر کو ابنائے قدیم کے تعاون سے ہی مکمل کیا جاسکا۔ انھوں نے ابنائے قدیم کے بچوں کے لئے شروع کئے گئے منصوبہ ’’کشش‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس پروگرام کے تحت سابق طلبہ و طالبات کے بچے اے ایم یو میں آکر مختصر مدتی تربیتی کورس کرسکتے ہیں، جس سے انھیں ان کے والد یا والدہ کی طرح ہی اے ایم یو کی تہذیب و ثقافت اور روایت کا تجربہ ہوگا اور انھیں اس عظیم دانش گاہ سے وابستگی کا احساس ہوگا۔ وائس چانسلر نے علیگس اکیڈمک انرچمنٹ پروگرام کا بھی ذکر کیا جس کے تحت اے ایم یو سے فارغ التحصیل اور اپنے پیشہ و فن کے ماہر افراد مادرِ علمی میں آکر اپنے اختصاص کے موضوع پر لیکچر دیتے ہیں۔ وائس چانسلر نے وِنٹر اور سمر کلاسیز کا بھی ذکر کیا جس کے تحت نامور الومنائی اے ایم یو میں آکر طلبہ و طالبات کو مستفید کرتے ہیں۔ وائس چانسلر نے کہاکہ سال میں دوبار یہ کلاسیز منعقد ہوں گی۔ سن 2020ء میں یونیورسٹی کے صد سالہ جشن کے سلسلہ میں پروفیسر طارق منصور نے کہاکہ صدی تقریبات کے تحت لیکچر سیریز کا انعقاد کیا جائے گا، اے ایم یو کی تاریخ و وراثت، علی گڑھ تحریک اور حال ومستقبل پر مبنی فلم تیار کی جائے گی، ایک سینٹینری گیسٹ ہاؤس کی تعمیر کا منصوبہ ہے، سینٹینری ورلڈ الومنائی میٹ منعقد کی جائے گی اور دسمبر 2020میں اصل تقریب منعقد ہوگی جس میں صدر جمہوریۂ ہند جناب رام ناتھ کووند کو مدعو کیا گیا ہے۔ وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ صدی تقریبات کے موقع پر خواتین کی پیشہ ورانہ تعلیم کے لئے ایک مخصوص انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی تجویز حکومت ہند کو پیش کی گئی ہے اور سرسید چیئر کے سلسلہ میں یوجی سی کو تجویز بھیجی گئی ہے۔ یونیورسٹی میں ایک کنونشن سنٹر کی تعمیر کا ارادہ ہے، بابِ سید کی طرح ایک صدی گیٹ بھی تعمیر کیا جائے گا،اس کے علاوہ ورلڈ الومنائی ڈائرکٹری اور یونیورسٹی کی تاریخ و حصولیابیوں پر مبنی ایک کافی ٹیبل بک شائع کی جارہی ہے۔ پروفیسر طارق منصور نے سبھی سابق طلبہ اور نامورانِ اے ایم یو سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے صدی سال 2020کو یادگار سال بنانے کی درخواست کی۔ مہمان خصوصی مسٹر ذکی احمد آئی پی ایس (ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہم سب علی گڑھ تحریک کے سپاہی ہیں اور علیگ ہونے کا احساس و رشتہ کمزور نہیں پڑنا چاہئے۔ انھوں نے اے ایم یو میں اپنے قیام کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ میں نے ابتدائی تعلیم اردو میڈیم سے حاصل کی، پھر ہندی میڈیم میں تعلیم حاصل کی اور آخر میں انگریزی میڈیم سے واسطہ پڑا۔ انھوں نے کہا کہ بانیٔ درسگاہ سرسید احمد خاں نے کچھ آئیڈیلس طے کئے تھے ، ہمارے لئے یہ لازم ہے کہ ہم سرسید کے مشن اور وِژن کو سامنے رکھ کر کمیونٹی کی پسماندگی کو دور کریں، حکومت و انتظامیہ میں اپنی حصہ داری نبھائیں اور قدروں پر مبنی تعلیم و روایات کو پروان چڑھائیں۔ انھوں نے سرسید کے تعلیمی وِژن اور ماہنامہ تہذیب الاخلاق کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں رکنا نہیں ہے بلکہ اور آگے بڑھنا ہے اور ملک و قوم کی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کرنا ہے۔ انھوں نے کہاکہ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی طرح تعلیمی بیداری کی تحریک کو از سرِ نو بحال کرنا چاہئے۔ تقریب کے مہمان اعزازی، امریکہ سے تشریف لائے مسٹر عبداللہ عبداللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے شمالی امریکہ میں 1975ء میں علی گڑھ تحریک کے فرزندوں کو منظم کرنا شروع کیا اور اس وقت امریکہ میں 25؍ایسوسی ایشن متحرک و سرگرم عمل ہیں۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ اے ایم یو کی شان و شوکت اور عظمت کا شہرہ پوری دنیا میں ہونا چاہئے۔ تقریب کی دوسری مہمان اعزازی پروفیسر انور جہاں زبیری (سابق وائس چانسلر، کالی کٹ یونیورسٹی) نے اپنے خطاب میں کہاکہ سرسید نے تعلیم کے معیار پر خاص زور دیاتھا چنانچہ انھوں نے ہر شعبہ کے ممتاز افراد کو اس ادارے میں جمع کیا ۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں معیار سے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ پروفیسر زبیری نے خواتین کی تعلیم پر بطور خاص زور دیتے ہوئے کہاکہ اے ایم یو میں ویمنس کالج کے قیام کو سو سال پورے ہوچکے ہیں، اب جب کہ تعلیم حاصل کرنی والی لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ، اس لئے لڑکیوں کے لئے سہولیات اور بنیادی ڈھانچہ میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔ اس سے قبل اے ایم یو الومنائی افیئرس کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ایم ایم سفیان بیگ نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ابنائے قدیم اے ایم یو کا بیش قیمتی اثاثہ ہیں ۔ اس رشتہ کو مستحکم کرنے کی غرض سے وائس چانسلر موصوف نے انٹرنیشنل اور نیشنل الومنائی ایڈوائزری کمیٹی کی تشکیل نو کی ہے۔ انھوں نے کہاکہ جو بھی تجاویز آئیں گی ان پر غور و فکر کے بعد عمل کیا جائے گا۔ پروفیسر بیگ نے موبائل ایپ علیگ کنیکٹ کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ایپ کے ذریعہ دنیا بھر میں پھیلے ہمارے ابنائے قدیم ایک دوسرے سے مربوط ہوسکتے ہیں اور اس نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم سے ایک دوسرے سے مستفید ہوسکتے ہیں، جس میں نالج شیئرنگ کا بھی ایک علاحدہ سیکشن ہے۔ انھوں نے بتایا کہ صدی تقریب کے موقع پر اے ایم یو کی مولانا آزاد لائبریری اور ویمنس کالج کی لائبریری میں مخصوص بلاک قائم کرنے کی تجویز ہے۔ اس موقع پر علیگ کنیکٹ موبائل ایپ پر مبنی ایک مختصر ویڈیو فلم بھی دکھائی گئی، جب کہ یونیورسٹی کے ’’کشش‘‘ پروگرام کے تحت اے ایم یو میں آکر مختصر مدتی تربیتی کورس مکمل کرنے والی دو طالبات کے سرٹیفیکٹ اے ایم یو کے اعزازی خازن پروفیسر حکیم سید ظل الرحمٰن کے بدست ان کے مینٹرس کو پیش کئے گئے۔ اس میں سے ایک طالبہ مس ثنا شاہُل(امریکہ)نے پروفیسر تمکین خاں کی سرپرستی و رہنمائی میں چار ہفتہ کا کورس مکمل کیا ، جب کہ دوسری طالبہ یلمیٰ عمر (قزاخستان) نے ڈاکٹر شاذیہ پروین کی سرپرستی و رہنمائی میں شعبۂ امراض خواتین میں تربیتی کورس کی تکمیل کی ۔ تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کے بدست مہمان خصوصی مسٹر ذکی احمد، پرووائس چانسلر پروفیسر اختر حسیب کے بدست مسٹر عبداللہ عبداللہ اور رجسٹرار مسٹر عبدالحمید آئی پی ایس کے بدست پروفیسر انور جہاں زبیری کو یادگاری نشانات پیش کئے گئے۔ پروگرام کے آخری حصہ میں ملک و بیرون سے آئے ابنائے قدیم نے صدی تقریبات کے سلسلہ میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی مشوروں سے نوازا۔ا ن میں مسٹر سید علی رضوی،مسٹر سلمان وارث، مسٹر اسلم خاں ایڈوکیٹ، مسٹر محمد طاہر، مسٹر توقیر ضیاء، ڈاکٹر شکیل قدوائی، مسٹر فیصل ایس وغیرہ شامل تھے۔ ڈاکٹر فائزہ عباسی نے نظامت کے فرائض انجام دئے جب کہ پروفیسر تمکین خاں نے اظہار تشکر کیا۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker