ہندوستان

گستاخ دریدہ دہن کملیش تیواری کا قتل ،علاقے میں کشیدگی، دوکانیں بند، پولس کا سخت پہرہ، حامیوں کا احتجاج، واردات آپسی رنجش کا نتیجہ : ہوم سکریٹری اترپردیش

 

لکھنو۔ ۱۸؍اکتوبر: اترپردیش کی راجدھانی لکھنو میں بدمعاشوں نے جمعہ کو گستاخ دریدہ دہن ہندو مہاسبھا کے سابق ریاستی صدر و موجودہ ہندو سماج پارٹی کے قومی صدر کملیش تیواری کو ان کے دفتر میں گولی مار کر قتل کردیا ۔ بتایاجارہا ہے کہ دو حملہ آور ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ لے کر دفتر پہنچے، ان میں سے ایک بھگوا رنگ کا کپڑا پہنے ہوا تھا، گفتگو کے بعد اچانک مٹھائی کے ڈبے میں چھپا کر لائے اسلحہ اور چاقو سے حملہ کردیا۔ اور بھاگ کھڑے ہوئے۔ گولی کی آواز سن کر افراتفری مچ گئی ۔ واردات میں شدید طور پر زخمی کملیش تیواری کو آنافاناً ٹراما سینٹر لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ ادھر پولس حملہ آوروں کی تلاش میں مصروف ہوگئی۔اطلاعات کے مطابق لکھنو کے ناکہ ہنڈولہ تھانہ علاقے کے خورشید باغ کالونی میں موجود ہندو سماج پارٹی کےصدر کملیش تیواری کے گھر پر ہی بنے دفتر میں ان کا قتل کردیاگیا ۔ پولس کے مطابق دوبدمعاش ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ لے کر ان سے ملنے وہاں پہنچے گفتگو کے درمیان چائے پی اس دوران کملیش نے اپنے اسسٹنٹ کو باہر دونوں کےلیے پان لانے کو بھیجا، جب وہ لوٹا تو کملیش تیواری خون میںلت پت پڑا تھا، اطلاعات کے مطابق دونوں حملہ آوروں نے مٹھائی کے ڈبے میں چھپا کر لائے اسلحہ اور چاقو نکال لیا، سب سے پہلے حملہ آور نے گولی ماری اس کے بعد تابڑ توڑ چاقوئوں سے حملہ کرکے اسے لہولہان کردیا۔ تقریباً ۱۵ وار گردن پر کیے گئے ۔ گردن پر گولی اور چاقو کے نشانات ملے ہیں ۔ لہولہان حالت میں اسے ٹراما سینٹر لے جایاگیا جہاں ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیا ۔ بدمعاشوں نے کملیش تیواری سے ملنے سے قبل انہیں کال بھی کیا تھا حالانکہ اس کی ابھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے، مجرمین کملیش کو پہچانتے تھے یا نہیں فی الحال پولس تمام پہلوئوں سے معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ چشم دید گواہ (دفترکانوکر) نے بتایاکہ گزشتہ شب سے ہی گنر ڈیوٹی پر نہیں آیا، دفتر کے باہر ایک سپاہی ڈیوٹی پر تعینات تھا، لیکن وہ بھی سورہا تھا، اس نے ان دونوں بدمعاشوں کو اندر بھیجتے وقت ٹھیک سے جانچ تک نہیں کی ۔ نوکرسوراشٹر جیت نے بتایاکہ مسلم لڑکی اور ہندو لڑکے کی شادی کو لے کر دونوں میں بات چیت چل رہی تھی، نوکر نے بتایاکہ دہی بڑا اور چائے دینے کے وقت دونوں کی بات سنی تھی، نوکر نے پولس پر لاپروائی کا الزام بھی لگایا ہے۔ اس نے کہاکہ آدھے گھنٹے تک ۱۰۰ نمبر پر ڈائل کرتا رہا لیکن پولس موقع پر نہیں پہنچی۔ سراغ کی تلاش اور معاملے کی چھان بین کےلیے فارینسک ٹیم موقع پر پہنچ کر جانچ میں مصروف ہے۔ ایس ایس پی کلاندھی کے مطابق یہ آپسی رنجش کا معاملہ ہے ۔ یوپی کے ہوم سکریٹری اوینش اوستھی نے بھی کہا ہے کہ یہ ذاتی دشمنی یا آپسی رنجش کا معاملہ ہے۔ معاملے کی چھان بین کےلیے تقریباً دس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، موقعہ واردات سے ایک پستول برآمد ہوا ہے اس کی بھی جانچ ہورہی ہے، علاقے کے نزدیکی نصب سبھی سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالے جارہے ہیں، لوگوں سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے ۔ وہیں دن دہاڑے ہوئے اس قتل سے ناراض کملیش کے حامی مشتعل ہوگئے ہیں، مخالفت میں حملہ آوروں پر کارروائی کے مطالبے کو لے کر احتجاج کررہے ہیں، کشیدگی کی وجہ سے دکانیں بند کرادی گئی ہیں۔پولس کا سخت پہرہ ہے۔ ذرائع کے مطابق مہاسبھا لیڈر کے قتل کا شک دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس پر بھی کیاجارہا ہے۔ کملیش تیواری آئی ایس آئی ایس کے نشانے پر بھی تھا۔ دہشت گردوں نے گجرات اے ٹی ایس کو بتایا تھا کہ آئی ایس آئی ایس نے کملیش تیواری کا قتل کرنے کےلیے کہا تھا، گجرات اے ٹی ایس نے نومبر ۲۰۱۷ میں ان دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا، پکڑے گئے دہشت گردوں کے نام عبید مرزا اور قاسم تھا۔ پوچھ تاچھ میں کملیش تیواری کا نام آیا تھا، دونوں کو کملیش تیواری کا ویڈیو دکھا کر مارنے کےلیے کہا گیا تھا۔ ادھر کملیش تیواری کے قتل کے بعد تصویریں آگئی ہیں، سی سی ٹی وی میں دونوں حملہ آور کملیش دفتر کے باہر نظر آرہے ہیں، دونوں بھگوا رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ سابق ہندو مہاسبھا کے رہنما کملیش تیواری نے جنوری ۲۰۱۷میں ’ہندو سماج پارٹی‘ کی بنیاد رکھی تھی۔ تیواری اس سے قبل ہندو مہاسبھا کا صدر کا عہدہ سنبھال چکا تھا۔واضح رہے کہ کملیش تیواری نے سال ۲۰۱۵ کے نومبر ماہ میں، جو کہ اس وقت ہندو مہاسبھا کا کارگزار صدر تھا۔ لکھنو میں ایک پریس کانفرنس میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ بیان دیا تھا جس کے خلاف ہندوستان بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئی تھیں۔بعد میں اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس کے خلاف قومی سلامتی قانون کے تحت کارروائی کی گئی۔ حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے اس کے خلاف این ایس اے کو منسوخ کیا تھا۔اس کے علاوہ کملیش تیواری نے سیتا پور میں اپنی پشتینی زمین پر ناتھو رام گوڈسے کا مندر بنانے کا بھی اعلان کیا تھا، بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعے میں وہ سپریم کورٹ میں کچھ دنوں تک ہندو مہاسبھا کی طرف سے فریق بھی رہا ہے۔ بالی ووڈ ایکٹر عامر خان اور شاہ رخ خان کے تعلق سے کہا تھا کہ ان کا سر قلم کردیناچاہئے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker