مضامین ومقالات

“مجھے یاد ہے کہ یادیں ہی تو میری دولت ہیں”__!!

محمد صابرحسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

 

” مجھے یاد ہے کہ یادیں ہی تو میری دولت ہیں، میری پونجی ہیں، میرا سرمایہ ہیں۔ یادوں ہی کے سہارے تو وقار کے ساتھ اور آسودگی کے ساتھ زندہ ہوں؛ کہ میرے پاس وہ ہے جو کسی کے پاس نہیں۔ سب نے کھودیا، میں نے اسے بہت سنبھال کر رکھا، کہ سنبھال کر رکھی ہوئی دولت مجھے اتنا کام دے رہی ہے؛ کہ اگر میں کوئی والی ریاست ہوتا تو بھی اتنا غنی، اتنا مسرور اور اتنا مطمئن نہ ہوتا۔۔۔۔” (ابھی سن لو مجھ سے!۱۶۳) اس اقتباس میں مرد سوز و جگر کلیم عاجز صاحب نے سوٹکے کی بات کہی ہے، انسان جتنا مستقبل پر منحصر نہیں رہتا ہے، اس سے زیادہ وہ ماضی کا شہ سوار ہوتا ہے، بھلا ہو بھی کیوں نہیں__؟ کیوں کہ ماضی نے ہی اس کے دل کو شاداب کیا ہے، آنکھوں کو حسن اور جگر کو قرار بخشا ہے، یہ یادیں ہی سمٹ کر زندگی کا عنصر اور جزو لاینفک بن جاتا ہے، آخر کیسے لائیں جسے ہم نے کھودیا، بھلادیا، جو ہم سے روٹھ گیا، زندگی کی بھیڑ میں کہیں گم ہوگیا، اسے ہم نے پکڑنا چاہا، زندگی بنانا اور سنوارنا چاہا، شدت تھی، لگن تھی اور دل کی بے قراری بھی تھی؛ لیکن سب لٹ گیا، مٹ گیا، خزاں نے سب برباد کردیا، باد صر صر نے تباہ کردیا، تب بھی ان منتشر پتوں کو یکجا کئے ہوئے ہیں، اسے سنجوئے ہوئے ہیں، سینہ سے لگا کر زندگی کا بہانہ بنائے ہوئے ہیں، یہ دولت ہم نے کمائی ہے، یہی ثروت ہے، یہی خزانہ ہے، جو کچھ ہے بس یہی ہے، ہر چیز فنا ہوجائے گی، معدوم ہوجائے گی، ساتھ اگر ہوگا تو وہ یادیں ہوں گی، سینہ کی گرماہٹ اسی کے دم سے ہوگی، یہی نگاہیں روشن کریں گی، اسی سے چمن کھلے گا، اور بہار آئے گی۔

دراصل یہ یادیں خود ایک عشق ہے، دل بیتاب کی داستان ہے، راتوں کی روشنی اور دن کی تنہائی اور یکسوئی کا ذریعہ ہے، یہ خود سیل رواں ہے، جو ہزاروں سیل کو تھام لیتا ہے، زندگی میں غموں کا سمندر ہے، بہاو کی وہ تندی ہے؛ کہ کوئی چیز تھمتی نہیں ہے، کبھی کبھی تو زندگی میں ایسا بھی ہوتا کہ ہے آسمان کا ٹوٹنا، زمین کا پھٹنا، باغ کا لٹنا، پھولوں اور کلیوں کا پامال ہونا، لہولہان ہو کر زندگی سے گزر جانا بھی آسان ہوجاتا ہے، کیونکہ وہ یادوں کی بارات کا نوشہ ہے:

تم جانو تمہیں کیا کہے ہے کیا نہ کہے ہے

ہم کو تو جو دیکھے ہے جو سو دیوانہ کہے ہے

ایسوں کو یادوں کا مارا دیوانہ ہی کہا جاتا ہے؛ لیکن کچھ بھی کہیئے وہ یادوں کا سپاہی ہے، اور یادیں اس کی محافظ ہیں، اب کہاں وہ دیوانے اور کہاں وہ یادوں کے پروانے؟ اب کون ان قصوں کو سنے اور کون ان ناشنیدہ داستانوں پر کان لگائے؟ بس کلیم صاحب کے یہ اشعار دیکھئے اور یادوں کی دنیا آباد کیجیے!

آرزو دامن ہی پھیلاتی رہی

فصل گل آتی رہی جاتی رہی

شمع و پروانہ بلا سے جل بجھے

آپ کی محفل تو گرماتی رہی

یادوں کے عاشق کا ایک کارنامہ ہی ہے جب کوئی یادوں کا مسافر بن جائے اور اس کے سہارے زندگی جینے کا شوق پال لے تو وہ کبھی شکوہ نہیں کرتا، بہار بھی ان کی ہمنشیں، خزاں بھی ان کیلئے ہمدم، اپنا کا ستم تحفہ، غیروں کی محبت عطیہ۔ قہ گویا اسی مذہب اور عقیدہ کا متبع ہوتا ہے:

مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھ کو کیا دیا

تیری آرزو تو نکال دی ترا حوصلہ تو بڑھا دیا

تری خو نے گرچہ اک طرح مجھے ناامید بنا دیا

یہ میری وفا کا کمال ہے کہ نباہ کر کے دکھا دیا

کوئی بزم ہو کوئی انجمن یہ شعار اپنا قدیم ہے

جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلادیا

تجھے اب بھی میرے خلوص کا نہ یقین آئے تو میں کیا کروں

تیرے گیسوؤں کو سنوار کے تجھے آئینہ تو دکھا دیا

 

 

22/10/2019

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker