مضامین ومقالات

اف! زندگی تیرے انجام پہ رونا آیا۔۔۔ !!

محمد صابرحسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

ہر آئی ہوئی چیز کو فنا ہونا ہے، وجود میں کسی کو بقا نصیب نہیں، کوئی نہیں جو آسمان و زمین کی عمر کو پائے، اگر پا بھی لے تب بھی اسے ایک دن ہوا بن جانا ہے، بس فرق ہے کہ کوئی جلدی جاتا ہے، تو کوئی دیر تک اپنا وجود باقی رکھتا ہے، کسی کا ساتھ تادم ہوتا ہے، تو کوئی ہمراہ بننے سے قبل ہی بے راہ ہوجاتا ہے، کوئی ہمدم ہو کر بھی ہمراہ نہیں ہوپاتا، اور کوئی ہمراہ ہو کر ہمدم نہیں ہوپاتا، زندگی میں نہ جانے کتنی کہانیاں اور کتنے قصے ادھورے رہ جاتے ہیں، کوئی زندہ رہ کر مردہ بنا جاتے ہیں تو کوئی مردنی زندگی میں احساس و نایابی کا رنگ بھر جاتے ہیں، زندگی کی خوبصورتی اور خوشگواری تو ساتھ نبھانے میں ہے، لیکن رکئے!!! یہ کہنے اور بولنے کے لئے بہت اچھا ہے، سن کر ذہن ودماغ کو تازگی مل جاتی ہے، اور ہر بے قاعدگی کو اسی قاعدے میں تلاشنے لگ جاتے ہیں، زندگی دو اور دو چار کی طرح صاف نہیں ہے، اس کی پر پیچ گھاٹیاں اس قدر بلندی اور نشیبی سے ہو کر گزرتی ہیں؛ کہ کوئی کم سن درخت کی نرمی اور کوئی گھنے پیڑ کی پگڈنڈیاں بھی اس کے قریب نہیں پہنچ سکتی، یہ کوئی آئنسٹائن اور نیوٹن کے فلسفے کے جیسی بھی نہیں؛ کہ ایک نقطہ تلاش کر لیا تو سارا مسئلہ حل ہوجائے گا، بلکہ یہ ہر مسئلے میں ایک مسئلہ رکھتا ہے، اس کی پرت اور اس کی تہہ اس قدر دبیز ہے؛ کہ عام ذہن اس کا ادراک بھی نہیں کر سکتے، اور سچ یہ بھی ہے کہ جو ادراک نہیں کرپاتا وہی زندہ رہتا ہے، اگر کوئی ادراک کر جائے تو اس کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔
خوب تیز دوڑیے تو عام فلسفہ کہتا ہے کہ آپ اول مقام پائیں گے۔ خوب محنت کیجیے تو یہ تصور جائے گا کہ آپ ترقی کے بلند و بانگ زینے چڑھ جائیں گے، اگر علمی میدان میں ہیں تو آپ کا نام آب زر سے لکھ دیا جائے گا، اور اگر کسی اور میدان میں ہیں؛ تب بھی عروج آپ کے پیروں میں ہوگا، اونچائیاں خود کو بوسہ دیں گی، ____ اسی طرح دولت کے لئے سر پھوڑیے تو لوگ کہیں گے کہ آپ سے بڑا کوئی مالدار نہیں، کسی کام میں جنون و لگن ظاہر کریں تو آپ جنونی اور غیر متوازی شخص ہیں _____ لیکن ذرا غور کیجیے! یہ سارے فلسفے کہاں تک درست ہیں؟ ہم نے تو زندگی ایسوں کے لئے آسان پائی جو زندگی کے لائق بھی نہ تھے، کوئی دو وقت کی روٹی پاکر خود کو شاہ وقت سمجھتا رہا اور کوئی پورے ملک کی معیشت پر قبضہ کرنے کے بعد بھی تنہا اور بے یارو مددگار ہی رہا، اپنے ارد گرد سیکڑوں بھیڑ کے بعد بھی وہی ویرانی اور وہی حرماں نصیبی_!! ہم نے اکثر ایسوں کو دولت کے لئے روتا دیکھا، بھاگتے دیکھا اور خود کو زندگی سے دور ہوتے دیکھا، علم والے ضائع ہو رہے ہیں؛ لیکن نااہل لوگ عہدوں پر اور اعلی مقام پر فائز ہورہے ہیں ___ اصل بات یہ ہے کہ زندگی کا کوئی اصول نہیں ہے، ہمارے ارد گرد اسلاف اور بزرگوں کا ایک ہالہ ہے، جس نے کچھ معیارات بنا دیے ہیں ورنہ زندگی اول تا آخر جو بھی ہے؛ تو وہ یہی ہے کہ سب کچھ خدا کا ہے، منشا و مرضی کا وہی مالک ہے، اسی کے پاس خوشی و غمی کی کنجی ہے، خزانے ہیں اور وہی کل سرمایہ کا مالک ہے، عزت ہے اسی کو پائیداری ہے، اسی کو ہمیشگی ہے، چنانچہ اگر یہ جان جائیں گے تو یقینا زندگی آسان ہوجائے گی، اور دنیا کی بے بسی و بے کسی کھلے عام سامنے ہوگی؛ اور زبان پر یہ ضرور جاری ہوجائے گا___ اف!! زندگی تیرے انجام پر رونا آیا۔

21/10/2019

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker